
بشیر بدر کی رحلت پر شعبہ¿ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ ، نئی دہلی میں تعزیتی اجلاس کا انعقاد
نئی دلی ،11جون (ہ س)۔
بشیر بدر کے درجنوں اشعار عوامی حافظے کا حصہ بن چکے ہیں۔ انھوں نے بھر پور زندگی بسر کی اور وہ کئی دہائیوں تک مشاعرے کے اسٹیج پر چھائے رہے۔ عام بول چال کی زبان میں نیا طرز اظہار ان کی امتیازی شناخت رہی ہے۔ شاعری کے علاوہ ان کی علمی اور تنقیدی خدمات بھی لائق تحسین ہیں۔ علی گڑھ میگزین کے غالب نمبر کی ادارت ان کا ایک اہم کار نامہ ہے۔ ان خیالات کا اظہار بشیر بدر کی رحلت پر شعبہ اردو، جامعہ ملیہ اسلامیہ کے زیراہتمام منعقدہ تعزیتی جلسے میں صدر شعبہ? اردو پروفیسرکوثر مظہری نے کیا۔ اجلاس میں پروفیسر شہزاد انجم نے گہرے رنج و غم کے ساتھ کہا کہ بشیر بدر کا سانحہ ارتحال پوری ادبی دنیا کے لیے اندو ہوناک ہے۔ ان کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے کیا جاسکتا ہے کہ ان کے انتقال کے بعد سے سوشل میڈیا اور پرنٹ میڈیا پر مستقل تعزیتی تحریروں کا سلسلہ جاری ہے۔ پروفیسر احمد محفوظ نے اپنے تعزیتی بیان میں کہا کہ جدیدیت کے زیر اثر جن شعرا کو نمائندگی کا مقام حاصل ہے، ان میں بشیر بدر بھی شامل ہیں۔ کیوں کہ ان کا ڈکشن ، اسلوب اور نئے استعارات جدیدیت کے ترجمان ہیں۔ ڈاکٹر خالد مبشر نے بشیر بدر کے حوالے سے اپنی یادوں کا اشتراک کرتے ہوئے کہا کہ مشاعروں میں وہ اپنی خوش طبعی ، شوخی اور برجستگی کے سبب مرکز نگاہ بنے رہتے تھے۔ وہ بیک وقت خالص ادبی نشستوں کے بھی شاعرتھے اور خالص مشاعروں میں بھی مقبول عام تھے۔ اس موقعے پر ڈاکٹر محمد مقیم ، ڈاکٹر شاہنواز فیاض اور ڈاکٹر نوشاد منظر نے اظہار تعزیت کرتے ہوئے دعائے مغفرت کی۔ جلسے میں شعبے کے ریسرچ اسکالر غلام علی اخضراور وسیمہ اختر وغیرہ موجود تھے۔ اجلاس کا اختتام دعائے مغفرت پر ہوا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Md Owais Owais