
پریس کی آزادی کے عالمی دن کے موقع پر پریس کلب علی گڑھ میں سمپوزیم کا انعقاد
علی گڑھ, 03 مئی (ہ س)
پریس کی آزادی کے عالمی دن کے موقع پر پتراکار کلیان سمیتی پریس کلب علی گڑھ کے زیرِ اہتمام ایک اہم سمپوزیم منعقد ہوا، جس میں مقررین نے صحافت کی بدلتی نوعیت اور درپیش چیلنجز پر تفصیلی گفتگو کی۔
پروگرام کے مہمانِ خصوصی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبۂ ترسیل عامہ کے سابق صدر پروفیسر شافع قدوائی نے اپنے خطاب میں کہا کہ موجودہ دور میں “قلم اور تلوار” کا موازنہ نہایت اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صحافت کی تھیوری میں بڑی تبدیلی آئی ہے—جہاں پہلے اسے ایک مشن کے طور پر دیکھا جاتا تھا، وہیں اب یہ ایک صنعت بن چکی ہے اور کارپوریٹ صحافت کا غلبہ بڑھ رہا ہے۔
سینئر صحافی طارق حسن نے تجویز پیش کی کہ پریس کلب میں ایسے دستاویزات محفوظ کیے جائیں جن سے صحافیوں کو اپنے حقوق کے بارے میں واضح معلومات حاصل ہو سکیں۔
سینئر صحافی محمد احمد شیون نے اس تجویز کی حمایت کرتے ہوئے اسے ایک قابلِ ستائش قدم قرار دیا اور کہا کہ اس کی سب کو تعریف کرنی چاہیے۔
پروگرام کی صدارت پریس کلب علی گڑھ کے صدر پردیپ سارسوت نے کی۔ انہوں نے پریس کی آزادیِ پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر صحافی آزادانہ طور پر لکھیں گے تو اس کا معاشرے پر مثبت اثر پڑے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ پریس کلب آئندہ بھی اس طرح کے پروگرام منعقد کرتا رہے گا۔
آخر میں جنرل سیکریٹری دیویندر وارشنی نے تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ مقررین کی جانب سے اٹھائے گئے نکات نہایت اہم ہیں، جن سے صحافیوں کو اپنے حقوق کے ساتھ ساتھ اپنی ذمہ داریوں کا بھی بہتر ادراک حاصل ہوگا۔
پروگرام کی نظامت کنوینر جلسہ محمد کامران نے انجام دی، جبکہ اختتام جنرل سیکریٹری دیویندر وارشنی کے اظہارِ تشکر کے ساتھ ہوا۔ اس موقع پر اے ایم یو کے اسسٹنٹ پی آر او ذیشان احمد سمیت انل چودھری، پرشانت ہتیشی، نریش پرتاپ سنگھ، جتن وارشنی،ذیشان احمد، ضیاء الرحمٰن، شیوم سارسوت، شروَن کاکے، وسیم احمد،محمد فوزان اور ببلو خان سمیت متعدد افراد موجود تھے۔
---------------
ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ