
مرکزی جمعیت اہل حدیث ہندکی مجلس عاملہ کا اہم اجلاس بحسن وخوبی اختتام پذیر
ملک وملت اورجماعت وانسانیت سے متعلق امور ومسائل پر غوروخوض
نئی دہلی:03(ہ س )۔
مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کی مجلس عاملہ کا ایک اہم اجلاس آج ۳مئی۶۲۰۲ءکو اہل حدیث کمپلیکس،اوکھلا،نئی دہلی میں زیرصدارت مولانااصغرعلی امام مہدی سلفی حفظہ اللہ، امیرمرکزی جمعیت اہل حدیث ہند منعقدہوا،جس میںملک کے بیشتر صوبوںسے آئے ہوئے معززارکان مجلس عاملہ وذمہ داران صوبائی جمعیات اہل حدیث نے شرکت کی ۔اجلاس کا آغاز تلاوت قرآن کریم سے ہوا۔اس کے بعدامیرمحترم مولانااصغرعلی امام مہدی سلفی نے صدارتی خطاب کرتے ہوئے مو¿قر اراکین اورذمہ داران صوبائی جمعیات کو خوش آمدید کہا اور ان کی شرکت پر ان کاصمیم قلب سے شکریہ ادا کیا اور اسلامی فریضہ کے مطابق دعوت الی اللہ ، تعلیم وتربیت،خدمت خلق، انسانی بھائی چارہ، اتحادواتفاق ،قومی یکجہتی ،پرامن تعایش باہمی اور رفاہی وسماجی کام انجام دینے کی اہمیت وضرورت پرزور دیا ۔ اور فتنوں اور جنگ و جدل کے دور میں کتاب وسنت اور سلف صالح کے فہم و تعامل کی روشنی میں زندگی گزار نے کی تلقین کی اور کہا کہ فتنوں کے دور میں دینی بصیرت ، انسانی ہمدردی اور آئینی روح کو بروئے کار لائیں اور فتنہ وفساد سے بچیں۔
بعد ازاںمرکزی جمعیت اہل حدیث ہند کے ناظم عمومی مولانامحمدہارون سنابلی کے ذریعہ گزشتہ اجلاس عاملہ کی کارروائی کی خواندگی عمل میں آئی،جس کی شرکاءاجلاس نے توثیق کی۔اس کے بعدمرکزی جمعیت کی کارکردگی رپورٹ پیش کی گئی جس پر اراکین نے اطمینان و خوشی کا اظہار کیا ۔اجلا س میں ناظم مالیات الحاج وکیل پرویز نے جمعیت کے آمدوخرچ کے تفصیلی حسابات پیش کیے جس پر مو¿قراراکین نے اعتماد واطمینان کااظہار کیا۔مجلس عاملہ کے اجلاس میں ملی ،جماعتی وملکی اورعالمی اہم امورومسائل کے سلسلے میں قراردادیںاورتجاویز پیش کی گئیں جنہیں ارکان عاملہ نے اتفاق رائے سے منظورکیا۔ مجلس عاملہ کی قرار داد میں عقیدہ ¿توحید کی اہمیت وافادیت ، بین المذاہب مکالمہ اور احترام انسانیت کی ضرورت پر زور دینے کے ساتھ سلف کے نقش قدم پر چلنے کی تلقین ، مسلکی اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر اتحاد واتفاق کا مظاہرہ کرنے، قومی یکجہتی وفرقہ وارانہ ہم آہنگی کو فروغ دینے کی تلقین کی گئی اور مہنگائی اور حکومتوں سے کالا بازاری پر قابو پانے کی ایپل کی گئی ہے۔ اسی طرح سے دہشت گردانہ حملوں کی مذمت کرنے کے ساتھ قرار داد میں کہا گیا ہے کہ دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا اور کسی بھی ناخوشگوار واقعہ کو کسی خاص طبقہ سے وابستہ کرنے کے بجائے قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
عاملہ کی قرارداد میں کہاگیاہے کہ موجودہ دورمیں عصری تعلیم وتربیت کی اہمیت وضرورت پہلے سے زیادہ ہے اس لئے صاحب ثروت حضرات کو نئی نسل کی معیاری تعلیم وتربیت پر خصوصی توجہ دینے ، ملک کی مختلف جیلوں میں بند نوجوانوں کے مقدمات کو جلدازجلد نمٹانے اور باعزت بری ہونے والے نوجوانوں کو معاوضہ دینے کی اپیل کی گئی ہے۔ عاملہ کی قرارداد میں کہاگیاہے کہ اے آئی موجودہ زمانہ کی ایک انتہائی ترقی یافتہ ٹکنالوجی ہے اس سے محدود دائرہ میں استفادہ کے ساتھ محتاط رہنے کی بھی ضرورت ہے۔ اسی طرح سے عصری اسکولوں کے بچوں کے لیے چھٹی کے ایام میں تعلیمی اداروں سے دینی وسماجی مسائل واقدار پر مبنی سمرکیمپ لگانے، اوقاف کے مالکان ومتولیان سے بلاتاخیر رجسٹریشن کارروائی مکمل کرنے کی اپیل کی گئی ۔
مجلس عاملہ کی قرارداد میں وطن سے محبت کو دین وایمان کا تقاضہ بتایا گیا اور بعض ایسے الفاظ پڑھنے کو لازم قرار دیے جانے کی بات کو عقیدہ اسلامی اور اقلیتوں کو دیئے گئے آئینی حقوق میں مداخلت کہاگیاہے۔ مردم شماری کے موقع پر مسلمانان ہند سے مادری زبان کے کالم میں ”اردو“ اور ”مذہب“ کے کالم میں” مسلم“ کا اندراج کرانے کی اپیل کی گئی ہے۔ملک کے وزیر دفاع جناب راج ناتھ سنگھ کے اس بیان کہ ”دہشت گردی کا نہ کوئی ملک ہوتاہے اور نہ مذہب ہوتاہے، کاخیر مقدم کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مرکزی جمعیت اہل حدیث ہند شروع سے تعصب اور دہشت گردی کی مخالف اور امن وشانتی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی اوربھائی چارہ کو فروغ اس کا مشن رہا ہے۔ ملک ہندوستان گنگاجمنی تہذیب کا گہوارہ رہا ہے۔ کسی طبقہ کے پرسنل لا میں مداخلت کرنا غیرآئینی ہے بعض صوبہ میں یکساں سول کوڈکانفاذ ملک کی آئین کی روح کے خلاف ہے۔ اسی طرح سے مدارس کی موجودہ انکوائری اور مدرسہ بورڈ ختم کرنے جیسی باتوں پر نظر ثانی کرنے کی تجویز پیش کی گئی۔
عاملہ کی قرارداد میں کہاگیا ہے کہ جانی ومالی تحفظ ہر شہری کا بنیادی حق ہے ۔ حکومتوں کی آئینی ذمہ داری ہے کہ وہ ہر شہری کے تحفظ کو یقینی بناتے ہوئے امن وشانتی کے ساتھ کھلواڑ کرنے والے عناصر کے خلاف سخت کارروائی کریں تاکہ امن وامان کی صورت حال برقرار رہے۔ اسی طرح سے قومی انسانی حقوق کمیشن کے اپنے دائرہ اختیارکے کام کو چھوڑکر دیگر امور میں مداخلت کرنے پر الہ آبادہائی کورٹ کے تبصرہ کی ستائش کی ہے۔ انتخابی مراحل میں غیرپارلیمانی زبان کے استعمال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے گنگا جمنی تہذیب کے منافی قرار دیا گیا اور امریکہ اسرائیل ایران جنگ کوعالمی فتنہ بنانے کی سازش قرار دیتے ہوئے اسے امن عالم کے لئے خطرہ قرار دیتے ہوئے عرب سمیت مختلف ملکوں پر امریکی تنصیبات کے نام پر اسرائیل وایران کے حملوں کی بھرپور مذمت کی گئی ۔
مجلس عاملہ کی قرار دادمیں قضیہ فلسطین کو فراموش کرنے اور جنگ کے پس منظر میں فلسطین کے قضیہ کو پس پشت ڈالنے اور غزہ کے مظلومین کے معاملے کو نسیاً منسیا کردینے اور عرب دنیا کو حاشیہ پر لگانے اور دنیا میں بڑے پیمانے پر جنگ جیسی نحوست کو تھوپنے کا شاخسانہ باور کرتے ہوئے اسے جلد از جلد روکنے اور آبنائے ہر مز کو کھولے جانے اور قضیہ فلسطین کو دو ریاستی فارمولے کے تحت حل کرنے پر زور دیا گیا۔
اسی طرح سے قرار داد میں کہا گیا ہے کہ مملکت سعودی عرب مشرق وسطی میں قیام امن کی مساعی کاصحیح معنوں میں علمبردار ہے اور وہ پوری دنیا میں امن وشانتی کے قیام کے لئے ہر اعتبارسے کوشاں ہے۔ علاوہ ازیں موجودہ نازک ترین حالات کے علی الرغم سعودی عرب میں عازمین حج کے لیے وسیع تر اور بے مثال انتظامات پر خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان آل سعود حفظہما اللہ ورعاھما اور وہاں کے انتظامی افسران کی ستائش کی ہے۔ مجلس عاملہ نے ملک وملت کی اہم سماجی وعلمی شخصیات کے انتقال پر اظہار افسوس کرتے ہوئے ملک وملت کا عظیم خسارہ قرار دیا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Md Owais Owais