پولیس پوچھ گچھ کے لیے بلائے گئے بزرگ نے تھانے میں زہر کھایا، موت کے بعد ٹمرنی میں کشیدگی، رکن اسمبلی اور اہل خانہ دھرنے پر بیٹھے
ہردہ، 03 مئی (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے ہردہ ضلع کے ٹمرنی تھانہ علاقے میں پوچھ گچھ کے لیے بلائے گئے ایک 60 سالہ بزرگ کی تھانہ احاطے میں زہر کھانے سے موت ہو گئی۔ واقعہ کے بعد علاقے میں کشیدگی کا ماحول ہے۔ اتوار کو اہل خانہ اور سماجی تنظیمیں عدالتی جانچ ک
رکن اسمبلی اور اہل خانہ دھرنے پر بیٹھے


ہردہ، 03 مئی (ہ س)۔ مدھیہ پردیش کے ہردہ ضلع کے ٹمرنی تھانہ علاقے میں پوچھ گچھ کے لیے بلائے گئے ایک 60 سالہ بزرگ کی تھانہ احاطے میں زہر کھانے سے موت ہو گئی۔ واقعہ کے بعد علاقے میں کشیدگی کا ماحول ہے۔ اتوار کو اہل خانہ اور سماجی تنظیمیں عدالتی جانچ کے مطالبے کو لے کر ضلع اسپتال کے باہر دھرنے پر بیٹھ گئے ہیں، جس میں مقامی رکن اسمبلی آر کے دوگنے بھی شامل ہیں۔

پولیس کے مطابق، پپلیا کلا کے رہائشی رام داس کورکو ولد اونکار داس کورکو کو گائے کی موت سے متعلق ایک معاملے میں ہفتہ کی شام پوچھ گچھ کے لیے تھانے بلایا گیا تھا۔ اس دوران پوچھ گچھ کے بعد انہوں نے زہر کھا لیا۔ حالت خراب ہونے پر انہیں ٹمرنی کمیونٹی ہیلتھ سینٹر میں ابتدائی طبی امداد کے بعد ضلع اسپتال ریفر کیا گیا، جہاں علاج کے دوران ان کی موت ہو گئی۔

اس کے بعد اتوار کی صبح واقعہ کے خلاف احتجاج میں اہل خانہ پوسٹ مارٹم کرانے سے انکار کر دیا۔ پولیس اور انتظامیہ اہل خانہ کو سمجھانے کی کوشش کی۔ لیکن اہل خانہ عدالتی جانچ اور تفتیشی افسر کو معطل کرنے کے مطالبے پر بضد ہیں۔ ان کا مطالبہ ہے کہ معاملے کی عدالتی جانچ کرائی جائے اور متعلقہ تفتیشی افسر کو فوری طور پر معطل کیا جائے۔ مطالبات پورے نہیں ہونے پر اتوار کو ضلع اسپتال کے مین گیٹ پر دھرنا شروع کر دیا گیا۔ صبح سے دوپہر 12 بجے تک مطالبات پورے نہیں ہونے پر مختلف سماجی تنظیمیں اور رکن اسمبلی آر کے دوگنے ضلع اسپتال کے مین گیٹ پر دھرنے پر بیٹھ گئے۔ متوفی کے خاندان کا کہنا ہے کہ رام داس کو گزشتہ کئی دنوں سے تھانے بلا کر ہراساں کیا جا رہا تھا۔ ان کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ پولیس یہ غلط بتا رہی ہے کہ انہیں پہلے ہی چھوڑ دیا گیا تھا۔

دراصل یہ پورا معاملہ 26 اپریل کو چھدگاوں میل گاوں میں پیش آنے والے واقعہ سے متعلق ہے، جہاں نامعلوم افراد نے پانچ گایوں کو ریلوے ٹریک پر باندھ دیا تھا، جس سے ٹرین کی زد میں آنے سے ان کی موت ہو گئی تھی۔ اس واقعہ کے بعد پولیس نے تفتیش کے لیے پانچ ٹیمیں تشکیل دی تھیں اور مشتبہ افراد سے پوچھ گچھ کر رہی تھی۔ اسی سلسلے میں رام داس کو بھی ہفتہ کو پوچھ گچھ کے لیے ٹمرنی تھانے بلایا گیا تھا۔ ہفتہ کو ہی ایس پی ششانک مشرا نے بھی پوچھ گچھ کی تھی۔ ایس ڈی او پی شالنی پرستے نے بتایا کہ بزرگ کو پوچھ گچھ کے لیے بلایا گیا تھا اور انہوں نے کن حالات میں زہر کھایا، اس کی جانچ کی جا رہی ہے۔ انتظامیہ نے غیر جانبدارانہ جانچ کا یقین دلایا ہے۔ فی الحال علاقے میں صورتحال کشیدہ ہے اور احتیاط کے طور پر اضافی پولیس فورس تعینات کی گئی ہے۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande