
حیدرآباد ، 3 مئی (ہ س)۔ وزیراعلی ریلیف فنڈ میں طبی امداد کے حصول کے لئے دی جانے والی درخواستیں جواراکان اسمبلی وپارلیمان کے علاوہ قانون سازکونسل کے ذریعہ داخل کی جاتی ہیں ان پرریاستی حکومت نے اپنے ہی حلقہ سے تعلق رکھنے والی درخواستیں داخل کرنے کی پابندی عائد کردی ہے ۔ وزیراعلی تلنگانہ کے دفترسے جاری کی گئی تفصیلات کے مطابق ریاست میں تاحال وزیراعلی ریلیف فنڈ کے تحت اب تک 4لاکھ 56 ہزارچیکس کی اجرائی عمل میں لائی گئی ہے۔ سی ایم اومیں خدمات انجام دے رہے او ایس ڈی ویمولہ سرینواس نے یہ تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ وزیراعلی اے ریونت ریڈی کی جانب سے جاری کی جانے والی ہدایات کے بعد نئے رہنمایانہ خطوط جاری کرتے ہوئے اراکین اسمبلی و پارلیمان کو اس بات سے واقف کروایا جاچکا ہے کہ وہ آن لائن طریقہ کاراختیارکرتے ہوئے اپنے ہی حلقہ جات اسمبلی وپارلیمان سے تعلق رکھنے والی درخواستوں کی سفارش کریں اگردوسرے حلقہ جات سے تعلق رکھنے والے افراد کی درخواستوں کی سفارش کی جاتی ہے توایسی صورت میں ان درخواستوں کومستردکردیا جائے گا۔ ریاستی حکومت میں کانگریس کے اقتدار میں آنے کے بعد وزیراعلی ریلیف فنڈ کے ذریعہ جاری کی جانے والی طبی امداد کو مجموعی طور پر60 ہزارروپئے تک محدود کرتے ہوئے بیشتردرخواست گذاروں کےلئے 60 ہزارروپئے کی طبی امداد جاری کی جا رہی تھی لیکن مخصوص سفارشات کی بنیاد پراضافی رقومات بھی جاری کی جاتی رہی ہیں لیکن اب جو نئے رہنمایانہ خطوط جاری کئے گئے ہیں ان پرعمل آوری کے بعد کئی شہریوں کو جوریاست کے مختلف مقامات پررہنے کے باوجود کسی بھی رکن اسمبلی،رکن قانون ساز کونسل یا رکن پارلیمنٹ سے سی ایم آرایف کے لئے سفارشی مکتوب حاصل کیا کرتے تھے انہیں اپنے ہی علاقہ کے رکن اسمبلی یا پارلیمنٹ سے سفارشی مکتوب کے لئے رجوع ہوناپڑے گا۔ ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق