
ایم پی کے کونو کے کھلے جنگل میں دو مزید چیتے چھوڑے گئے، ریڈیو ٹیلی میٹری سسٹم سے نظر رکھی جا رہی ہے
شیوپور، 15 مئی (ہ س)۔
مدھیہ پردیش کے شیوپور ضلع میں واقع کونو نیشنل پارک میں چیتا پروجیکٹ کے تحت بیرونِ ملک سے لائے گئے دو مزید چیتوں کو جمعہ کو کھلے جنگل میں چھوڑا گیا۔ اس کے ساتھ ہی کونو کے جنگل میں اب آزادانہ گھومنے والے چیتوں کی تعداد بڑھ کر 16 ہو گئی ہے۔
چیتا پروجیکٹ کے فیلڈ ڈائریکٹر نے پریس نوٹ میں اس کی معلومات شیئر کیں۔ اس میں بتایا گیا کہ ان دونوں مادہ چیتوں کو مقررہ طریقہ کار کے تحت جنگل میں چھوڑا گیا ہے۔ ان کی سرگرمیوں پر مسلسل نظر رکھنے کے لیے ایڈوانس ریڈیو ٹیلی میٹری سسٹم اور خصوصی فیلڈ ٹیمیں تعینات کی گئی ہیں۔
قابلِ ذکر ہے کہ فروری 2026 کے آخر میں نو چیتے بوٹسوانا سے لائے گئے تھے۔ ان میں 6 مادہ اور 3 نر شامل ہیں۔ انہیں کونو کے باڑوں میں رکھا گیا تھا۔ ان کی قرنطینہ کی مدت کامیابی سے مکمل ہونے کے بعد آہستہ آہستہ چیتوں کو کونو کے کھلے جنگل میں چھوڑا جا رہا ہے تاکہ وہ کھلی ہوا میں سانس لے سکیں۔ جمعہ کو کھلے جنگل میں چھوڑی گئی دونوں مادہ چیتے بوٹسوانا سے آئے انہی نو چیتوں میں سے ہیں، جو اب کونو کے کھلے جنگل میں جانوروں کا شکار کر سکیں گی۔
حکام نے بتایا کہ تمام چیتے مکمل طور پر صحت مند ہیں اور جنگل کے ماحول میں اچھی طرح ڈھل رہے ہیں۔ کونو نیشنل پارک میں افریقی چیتوں کو بسانے کا منصوبہ مسلسل آگے بڑھ رہا ہے۔
اس سے پہلے 13 مئی کو بھی ایک مادہ چیتے کو کامیابی کے ساتھ جنگل میں چھوڑا گیا تھا۔ محکمہ جنگلات اور چیتا مانیٹرنگ ٹیم چیتوں کی حفاظت، خوراک اور نقل و حرکت پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ گزشتہ چند مہینوں میں کئی چیتوں کو بڑے باڑوں سے نکال کر کھلے جنگل میں چھوڑا گیا ہے، تاکہ وہ قدرتی حالات میں خود کو پروان چڑھا سکیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ مسلسل کامیاب مانیٹرنگ اور سازگار ماحول کی وجہ سے کونو میں چیتا بحالی کے منصوبے کو تقویت مل رہی ہے۔ محکمہ جنگلات کے حکام نے امید ظاہر کی ہے کہ آنے والے وقت میں مزید چیتے بھی کھلے جنگل میں کامیابی کے ساتھ گھومتے نظر آئیں گے۔
جنگلی حیات کے ماہرین کا ماننا ہے کہ بوٹسوانا سے آئے چیتے زیادہ جینیاتی تنوع لے کر آئے ہیں، جس سے کونو میں چیتوں کی صحت مند اور طویل مدتی آبادی تیار کرنے میں مدد ملے گی۔ ماہرین نے یہ بھی امید ظاہر کی ہے کہ یہ چیتے کونو کے ماحول میں تیزی سے گھل مل جائیں گے۔ ان چیتوں کو قرنطینہ اور ماحول سے ہم آہنگی کا عمل مکمل ہونے کے بعد گاندھی ساگر اور نورادہی جیسی دیگر پناہ گاہوں میں بھی بسانے کی تیاری کی جا رہی ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن