

ایم پی ہائی کورٹ کا بڑا فیصلہ، دھار کی تاریخی بھوج شالا کو واگ دیوی مندر تسلیم کیا
مسلم فریق کے اے ایس آئی کے نماز کے حق کے حکم کو مسترد کر دیا
اندور، 15 مئی (ہ س)۔
مدھیہ پردیش کے دھار ضلع ہیڈ کوارٹرپرواقع تاریخی بھوج شالا کی مذہبی نوعیت کے حوالے سے مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے جمعہ کو اپنا فیصلہ سنا دیا ہے۔ ہائی کورٹ نے بھوج شالا کو واگ دیوی مندرتسلیم کیا ہے۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ بھوج شالا کمپلیکس مندر ہی ہے۔ اگر مسجد فریق حکومت کو درخواست دیتا ہے تو اسے علیحدہ زمین فراہم کی جائے گی۔
ایم پی ہائی کورٹ کی اندور بنچ کے جسٹس وجے کمار شکلا اور جسٹس آلوک اوستھی کی ڈویژن بنچ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ہم نے آثارِ قدیمہ اور تاریخی حقائق، اے ایس آئی کی سروے رپورٹ پرغورکیا ہے۔ اے ایس آئی ایکٹ کی دفعات کے ساتھ ساتھ ایودھیا معاملے کو بھی بنیاد مانا گیا۔ عدالت نے کہا کہ مرکزی حکومت اور اے ایس آئی یہ فیصلہ کریں کہ بھوج شالا مندر کا انتظام (مینجمنٹ) کیسا رہے گا۔ 1958 ایکٹ کے تحت اس پراپرٹی کا پورا انتظام اے ایس آئی کے ہاتھ میں ہی رہے گا۔ بنچ نے کہا کہ تاریخی اور محفوظ جگہ دیوی سرسوتی کا مندر ہے۔
بھوج شالا کیس میں ہندو فریق کے وکیل وشنو شنکر جین نے بتایا کہ ہائی کورٹ نے تاریخی فیصلہ سناتے ہوئے 7 اپریل 2003 کے اے ایس آئی کے حکم کو جزوی طور پرمنسوخ کردیا ہے۔ اس کے علاوہ، عدالت نے ہندو فریق کو پوجا ارچنا کا حق فراہم کیا ہے اور بھوج شالا کمپلیکس کو راجہ بھوج کی ملکیت کے طورپرتسلیم کیا ہے۔ لندن کے ایک میوزیم میں رکھی ہماری مورتی کو واپس لانے کے مطالبے کے حوالے سے عدالت نے حکومت کو غور کرنے کی ہدایت دی ہے۔
عدالت نے یہ بھی کہا ہے کہ مسلم فریق بھی حکومت کے سامنے اپنے خیالات رکھنے کے لیے آزاد ہے۔ مزید برآں، عدالت نے حکومت سے مسلم فریق کو متبادل زمین الاٹ کرنے پرغور کرنے کو کہا ہے۔ عدالت نے ہمیں پوجا ارچنا کرنے کا حق فراہم کیا ہے اور حکومت کو مقام کے انتظام کی نگرانی کرنے کی ہدایت دی ہے۔ اے ایس آئی کا پچھلا حکم، جس میں نماز ادا کرنے کا حق دیا گیا تھا، مکمل طور پر منسوخ کر دیا گیا ہے، اب سے وہاں صرف ہندو پوجا ارچنا ہی ہوگی۔
قابلِ ذکر ہے کہ سپریم کورٹ کی ہدایت پر بھوج شالا کیس میں ایم پی ہائی کورٹ کی اندور بنچ کے جسٹس وجے کمار شکلا اور جسٹس آلوک اوستھی کی ڈویژن بنچ میں چھ اپریل سے 12 مئی 2026 تک باقاعدہ سماعت ہوئی۔ ان 24 دنوں میں کل 43 گھنٹے جاری رہنے والی سماعت کے دوران ہندو اور مسلم فریقین نے اپنے اپنے دلائل عدالت کے سامنے پیش کیے۔ اس کے بعد 12 مئی کو عدالت نے تمام درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔ جمعہ کو عدالت نے اپنا فیصلہ سنایا۔ اس دوران انتر سنگھ کی درخواست مسترد کر دی گئی، جس میں انہوں نے مطالبہ کیا تھا کہ دونوں فریقین میں ہم آہنگی برقرار رہے، اس طرح کے نظام کا حکم دیا جائے۔
ہائی کورٹ کے فیصلے پر بھوج اتسو سمیتی کے صدر سمت چودھری نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اسے ہندو سماج کی برسوں پرانی جدوجہد کی جیت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ 1935 میں ہندو بھوج سمیتی قائم کرنے والے کارکنوں نے اس مقصد کے لیے اپنی پوری زندگی وقف کر دی تھی۔ بڑی تعداد میں موجود ہندو سماج نے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے تمام فریقین، وکلاء اور اس جدوجہد سے وابستہ لوگوں کا شکریہ ادا کیا۔ تنظیم کے نمائندوں نے کہا کہ یہ فیصلہ طویل عرصے سے جاری کوششوں کا نتیجہ ہے اور اس کے لیے تمام کرداروں کا شکریہ ادا کیا جانا چاہیے۔
بھوج شالا کے فیصلے پر دھار کے شہر قاضی وقار صادق نے کہا ہے کہ ہائی کورٹ کے فیصلے کا احترام ہے۔ ان کی جانب سے سلمان خورشید اور شوبھا مینن نے حقائق پیش کیے تھے۔ ہم فیصلے کا جائزہ لیں گے، اس کے بعد ہم سپریم کورٹ جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا (اے ایس آئی) کی رپورٹ کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔ یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ عدالت نے رپورٹ کے کن حصوں کو قبول کیا ہے اور کن کو نہیں۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ رام جنم بھومی کیس میں بھی سپریم کورٹ نے اے ایس آئی رپورٹ کو مکمل طور پر بنیاد نہیں بنایا تھا۔
شہر قاضی کا کہنا ہے کہ سروے کے عمل کے دوران انہوں نے ہزاروں اعتراضات درج کرائے تھے، جنہیں آگے قانونی بنیاد بنایا جائے گا۔ ساتھ ہی لوگوں سے اپیل کی گئی ہے کہ اس فیصلے کو حتمی فیصلہ مان کر ہار یا جیت کے طور پر نہ دیکھا جائے۔ انہوں نے دونوں برادریوں سے امن، باہمی بھائی چارہ برقرار رکھنے اور کسی بھی قسم کی افواہ یا اکساوے میں نہ آنے کی اپیل کی۔
وہیں کمال مولیٰ مسجد نماز انتظامیہ کمیٹی دھار کے ذوالفقار پٹھان کا کہنا ہے کہ ابھی واضح طور پر ہم نے آرڈر نہیں پڑھا ہے۔ عدالت نے جو حکم دیا ہے، اس کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ابھی سپریم کورٹ کا دروازہ ہمارے لیے کھلا ہے۔ ہم اس چیز کا جائزہ لیں گے اور جو بھی قانونی لڑائی ہے، ہم اسے سپریم کورٹ تک لے جائیں گے۔
بھوج شالا کیس کے فیصلے کے پیشِ نظر اندور اور دھار کی ضلع انتظامیہ الرٹ موڈ پر ہے۔ جمعہ ہونے کی وجہ سے حساسیت مزید بڑھ گئی ہے، کیونکہ اسی دن مسلم سماج بھوج شالا کمپلیکس میں جمعہ کی نماز ادا کرتا ہے۔ انتظامیہ نے دونوں فریقین سے امن برقرار رکھنے اور غیر مصدقہ معلومات شیئر نہ کرنے کی اپیل کی ہے۔ دھار پولیس کنٹرول روم میں ضلع بھر سے تقریباً 1200 پولیس اہلکاروں کو بلایا گیا ہے۔
پولیس سپرنٹنڈنٹ سچن شرما نے کنٹرول روم پہنچ کر سیکورٹی انتظامات کا جائزہ لیا اور پولیس فورس کو ہدایات دیں۔ پولیس سپرنٹنڈنٹ نے بتایا کہ دھار شہر کی سیکورٹی 12 تہوں (لیئرز) میں کی گئی ہے۔ ریزرو پولیس فورس اور ریپڈ ایکشن فورس کو بھی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔
یہ معاملہ سال 2022 میں تب شروع ہوا تھا، جب رنجنا اگنی ہوتری اور ان کے ساتھیوں نے ہندو فرنٹ فار جسٹس کی جانب سے ہائی کورٹ میں درخواست دائر کر کے بھوج شالا کی مذہبی نوعیت طے کرنے اور ہندو سماج کو مکمل حقوق دینے کا مطالبہ کیا تھا۔ اسی کیس میں سال 2024 میں آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کے محکمے نے بھوج شالا کمپلیکس کا 98 دن تک سائنسی سروے کیا تھا۔ اس سروے میں جدید ترین ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا۔ دو ہزار صفحات سے زیادہ کی سروے رپورٹ میں سروے کے دوران بھوج شالا میں ملنے والی مورتیوں، کتبوں، سکوں وغیرہ کا ذکر ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / انظر حسن