میری اولین ترجیح ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے،امریکی عوام کی مالی مشکلات کی فکر نہیں:ٹرمپ
واشنگٹن،13مئی (ہ س)۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ان کی اولین ترجیح ہے، چاہے امریکا کے اندر معاشی دباو¿ میں اضافہ ہو رہا ہو اور ایران کے ساتھ جاری جنگ کے باعث مہنگائی کی شرح بلند کیوں نہ ہو جائے۔منگل
میری اولین ترجیح ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے،امریکی عوام کی مالی مشکلات کی فکر نہیں:ٹرمپ


واشنگٹن،13مئی (ہ س)۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ان کی اولین ترجیح ہے، چاہے امریکا کے اندر معاشی دباو¿ میں اضافہ ہو رہا ہو اور ایران کے ساتھ جاری جنگ کے باعث مہنگائی کی شرح بلند کیوں نہ ہو جائے۔منگل کی شام ایک سوال کے جواب میں جس میں امریکی عوام کی مالی مشکلات کے فیصلوں پر اثر سے متعلق پوچھا گیا تھا، ٹرمپ نے کہا: بالکل بھی نہیں۔وائٹ ہاو¿س سے چین روانگی سے قبل انہوں نے مزید کہا: میرے لیے صرف ایک چیز اہم ہے، وہ یہ کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل نہ ہوں۔ٹرمپ نے کہا: میں امریکیوں کی مالی صورتحال کے بارے میں نہیں سوچ رہا، میں صرف ایک چیز کے بارے میں سوچ رہا ہوں کہ ہم ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے ،جب ان کی انتظامیہ کو جنگ کے معاشی اثرات پر بڑھتی ہوئی تنقید کا سامنا ہے، خاص طور پر ایندھن اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے اور نومبر میں ہونے والے کانگریس کے وسط مدتی انتخابات سے قبل امریکی عوام پر بڑھتے ہوئے معاشی دباو¿ کے باعث۔

منگل کو جاری ہونے والے امریکی اعداد و شمار کے مطابق اپریل میں صارفین کی قیمتوں میں گزشتہ تین برسوں کے دوران سب سے بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کی بڑی وجہ خلیج میں کشیدگی اور ایران کے ساتھ جنگ کے باعث پیٹرول اور توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ہیں۔دوسری جانب ٹرمپ کو ریپبلکن پارٹی کے اندر سے بھی بڑھتے ہوئے دباو¿ کا سامنا ہے۔ بعض ریپبلکن رہنماو¿ں کو خدشہ ہے کہ جنگ کے معاشی اثرات پارٹی کو ایوانِ نمائندگان اور ممکنہ طور پر سینیٹ میں بھی اپنی اکثریت سے محروم کر سکتے ہیں۔صدر کے بیانات کی وضاحت کرتے ہوئے وائٹ ہاو¿س کے ڈائریکٹر آف کمیونیکیشن اسٹیون چیونگ نے کہا کہ ٹرمپ کی حتمی ذمہ داری امریکی عوام کی سلامتی اور تحفظ ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ایران کا جوہری ہتھیار حاصل کرنا تمام امریکیوں کے لیے خطرہ بن جائے گا۔

اگرچہ ٹرمپ ایران کے جوہری خطرے پر مسلسل زور دے رہے ہیں، تاہم امریکی انٹیلی جنس جائزوں کے مطابق ایران کو جوہری ہتھیار تیار کرنے کے لیے درکار وقت میں گزشتہ موسمِ گرما کے بعد کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئی۔خبر رساں ادارے رائٹرز سے گفتگو کرنے والے تین باخبر ذرائع کے مطابق امریکی اندازے اب بھی یہی بتاتے ہیں کہ ایران کو جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت حاصل کرنے میں تقریباً نو ماہ سے ایک سال تک کا وقت درکار ہوگا، حتیٰ کہ موجودہ جنگ شروع ہونے کے دو ماہ بعد بھی صورتحال میں نمایاں فرق نہیں آیا۔

دوسری جانب ایران مسلسل اس بات کی تردید کرتا آ رہا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار تیار کرنا چاہتا ہے۔ تہران کا مو¿قف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام صرف پ±رامن مقاصد کے لیے ہے، جبکہ امریکا اور مغربی ممالک ایران پر ایٹم بم بنانے کی صلاحیت حاصل کرنے کی کوشش کا الزام لگاتے ہیں۔یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان اور چین سمیت علاقائی ثالثوں کے ذریعے سفارتی کوششیں جاری ہیں، تاکہ نازک جنگ بندی کو ٹوٹنے سے بچایا جا سکے اور واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات دوبارہ شروع کیے جا سکیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande