
تہران،13مئی (ہ س)۔امریکی خفیہ ایجنسیوں کے انٹیلی جنس تجزیوں میں انکشاف ہوا ہے کہ ایران نے اپنی میزائل صلاحیتوں کا بڑا حصہ دوبارہ حاصل کر لیا ہے، جس میں لانچنگ سائٹس کی اکثریت اور زیرِ زمین تنصیبات تک رسائی بھی شامل ہے ... اگرچہ اسے امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ حالیہ جنگ کے دوران فوجی حملوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے منگل کے روز ایک رپورٹ میں حالیہ تجزیوں سے واقف ذرائع کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ تہران نے آبنائے ہرمز کے ساتھ واقع 33 میزائل سائٹس میں سے 30 میں آپریشنل صلاحیت بحال کر لی ہے۔ یہ وہ مقامات ہیں جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ انہیں موبائل پلیٹ فارمز کے ذریعے میزائلوں کی نقل و حمل اور لانچنگ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔تجزیوں میں واضح کیا گیا ہے کہ ایران کے پاس ملک بھر میں پھیلے ہوئے موبائل لانچرز کا تقریباً 70 فی صد حصہ اب بھی موجود ہے، اس کے علاوہ اس کے پاس میزائلوں کے اس ذخیرے کا تقریباً 70 فی صد حصہ بھی محفوظ ہے جو جنگ شروع ہونے سے پہلے اس کی ملکیت میں تھا۔
تخمینہ جات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ تہران نے اپنی زیرِ زمین میزائل اسٹوریج اور لانچنگ کی تقریباً 90 فی صد تنصیبات تک دوبارہ رسائی حاصل کر لی ہے، جو شدید بم باری کے باوجود ایرانی فوجی ڈھانچے کی استقامت اور دوبارہ تعیناتی کی صلاحیت کی عکاسی کرتی ہے۔یہ تخمینے ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف اپنے لہجے کو سخت کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ تہران کے پاس اب کوئی بحری بیڑا باقی نہیں رہا اور اس کی فضائیہ تباہ ہو چکی ہے۔ ٹرمپ کا ماننا ہے کہ ان کے ملک نے ایران کی فوجی صلاحیتوں کو کاری ضرب لگانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ٹرمپ نے حال ہی میں اس بات پر بھی زور دیا کہ ایران کو ایٹمی ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ایک ایسی ترجیح ہے جو کسی بھی اندرونی معاشی تحفظات سے بالاتر ہے، باوجود اس کے کہ امریکہ میں جنگ کی لاگت، افراطِ زر اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق دباو¿ بڑھ رہا ہے۔تاہم نئے انٹیلی جنس تجزیے بتاتے ہیں کہ ایران اپنی تزویراتی میزائل صلاحیتوں کا ایک بڑا حصہ برقرار رکھنے میں کامیاب رہا ہے، خاص طور پر وہ جو موبائل انفراسٹرکچر اور زیرِ زمین قلعہ نما تنصیبات سے وابستہ ہیں۔
آبنائے ہرمز کے ساتھ ایرانی میزائل سائٹس کا پھیلاو¿ تہران کے لیے ایک بنیادی عنصر ہے، کیونکہ اس سمندری گزرگاہ کی تزویراتی اہمیت بہت زیادہ ہے جہاں سے عالمی تیل کی برآمدات کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے۔گذشتہ مہینوں کے دوران، جہاز رانی اور توانائی کے حوالے سے باہمی دھمکیوں کے ساتھ خلیج میں تناو¿ میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ امریکی رپورٹس میں متبادل فوجی منصوبوں کی بات کی گئی ہے جن میں ایران کے خلاف آپریشنز کی توسیع شامل ہو سکتی ہے اگر موجودہ جنگ بندی ختم ہو جاتی ہے۔بین الاقوامی ثالثی، خاص طور پر پاکستان اور چین کے ذریعے، جاری رہنے کے باوجود واشنگٹن اور تہران کے درمیان بحران متعدد امکانات کے لیے کھلا ہے، کیونکہ ایرانی جوہری پروگرام اور خطے میں فوجی طاقت کے توازن پر اختلافات برقرار ہیں۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan