اس سال کے ابتدائی تین ماہ میں طالبان-پاکستان تصادم میں 372 افغان شہری ہلاک- رپورٹ
اس سال کے ابتدائی تین ماہ میں طالبان-پاکستان تصادم میں 372 افغان شہری ہلاک- رپورٹ کابل، 13 مئی (ہ س)۔ افغانستان میں اس سال (2026) کے پہلے تین مہینوں جنوری، فروری اور مارچ میں طالبان فورسز اور پاکستان کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں کم از کم 372 شہر
یہ کابل میں واقع امید منشیات سے چھٹکارا دلانے والے اسپتال کا تباہ شدہ حصہ ہے۔ اس کا یہ حال پاکستان کے فضائی حملے سے ہوا ہے۔ فوٹو: یو این اے ایم اے۔


اس سال کے ابتدائی تین ماہ میں طالبان-پاکستان تصادم میں 372 افغان شہری ہلاک- رپورٹ

کابل، 13 مئی (ہ س)۔ افغانستان میں اس سال (2026) کے پہلے تین مہینوں جنوری، فروری اور مارچ میں طالبان فورسز اور پاکستان کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں کم از کم 372 شہری ہلاک اور 397 دیگر زخمی ہوئے۔ یہ دعویٰ افغانستان میں اقوامِ متحدہ کے امدادی مشن (یو این اے ایم اے) کی منگل کو جاری کردہ رپورٹ میں کیا گیا ہے، جسے یو این اے ایم اے کے انسانی حقوق کے شعبے نے تیار کیا ہے۔

افغانستان کے انگریزی اخبار ’کابل ناو‘ نے یو این اے ایم اے کے حوالے سے اپنی رپورٹ میں کہا کہ سب سے زیادہ لوگ 26 فروری کو پاکستان کے ’’آپریشن غضب لی الحق‘‘ کے آغاز کے بعد ہلاک ہوئے۔ شہریوں کی کل ہلاکتوں اور زخمیوں میں سے نصف سے زیادہ واقعات 16 مارچ کو ہونے والے پاکستان کے فضائی حملوں سے متعلق ہیں۔ ان حملوں میں کابل کے امید منشیات سے چھٹکارا دلانے والے اسپتال کو نشانہ بنایا گیا۔

یو این اے ایم اے نے کہا کہ اس نے آزادانہ طور پر اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اسپتال پر ہونے والے حملے میں 269 افراد ہلاک اور 122 زخمی ہوئے۔ تاہم، اس نے یہ انتباہ بھی دیا کہ تمام متاثرین کی گنتی میں درپیش چیلنجز کی وجہ سے اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ اس اسپتال کے احاطے پر تین بار فضائی حملہ کیا گیا۔ پہلا حملہ مسجد اور سونے کے کمروں پر ہوا۔ دوسرا حملہ کنٹینروں سے بنے خوراک کے گودام اور ہاسٹل کے ایک حصے پر ہوا۔ تیسرا حملہ پیشہ ورانہ تربیت کی عمارتوں کو نشانہ بنا کر کیا گیا، یہ عمارتیں لکڑی کی بنی ہوئی تھیں اور ان میں آگ لگ گئی۔

طالبان نے مشن کو آگاہ کیا ہے کہ مرکز پر ہونے والے حملے میں 411 سے زائد افراد ہلاک اور 261 سے زیادہ زخمی ہوئے، جبکہ 491 دیگر افراد محفوظ رہے۔ کابل میں واقع پاکستان کے سفارت خانے نے یو این اے ایم اے کو تحریری جواب میں بتایا کہ 16 مارچ کی رات کو کی گئی اس کی کارروائی ’’مکمل طور پر دہشت گردانہ اور فوجی انفراسٹرکچر کے خلاف تھی‘‘۔ سفارت خانے نے ان حملوں کو درست، ٹارگیٹڈ اور پیشہ ورانہ قرار دیا لیکن کسی بھی اسپتال، منشیات سے چھٹکارا دلانے والے مرکز یا شہری سہولت کو نشانہ بنانے سے انکار کیا۔

رپورٹ کے مطابق، اس تشدد کی وجہ سے پہلی اپریل تک افغانستان کے اندر ہی تقریباً 94,000 افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ عام شہریوں کے گھروں، بنیادی ڈھانچے اور نجی کاروباروں کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔ مشن نے دونوں فریقوں سے بین الاقوامی انسانی قانون کا احترام کرنے، عام شہریوں کے تحفظ کے لیے اقدامات کرنے اور مبینہ خلاف ورزیوں کی مکمل تحقیقات کرنے کی اپیل کی۔ پاکستان کی سیکورٹی فورسز اور طالبان جنگجووں کے درمیان جھڑپیں سب سے پہلے اکتوبر 2025 میں شروع ہوئیں اور اس سال فروری کے آخر سے مزید تیز ہو گئی ہیں۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande