کیجریوال کے بعد منیش سسودیا کا بھی عدلیہ کے تئیں مکمل احترام کے ساتھ جج سورن کانتا شرما کو خط
نئی دہلی، 28اپریل(ہ س)۔ عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کے بعد اب دہلی کے سابق نائب وزیر اعلیٰ اور آپ پنجاب کے انچارج منیش سسودیا نے بھی عدلیہ کے تئیں مکمل احترام ظاہر کرتے ہوئے جج سورن کانتا شرما کے سامنے مبینہ آبکاری کیس کی کارروائی
کیجریوال کے بعد منیش سسودیا کا بھی عدلیہ کے تئیں مکمل احترام کے ساتھ جج سورن کانتا شرما کو خط


نئی دہلی، 28اپریل(ہ س)۔

عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کے بعد اب دہلی کے سابق نائب وزیر اعلیٰ اور آپ پنجاب کے انچارج منیش سسودیا نے بھی عدلیہ کے تئیں مکمل احترام ظاہر کرتے ہوئے جج سورن کانتا شرما کے سامنے مبینہ آبکاری کیس کی کارروائی میں حصہ لینے سے انکار کر دیا ہے۔ منگل کو لکھے گئے اپنے خط میں منیش سسودیا نے کہا کہ موجودہ حالات میں میرا ضمیر مجھے اس معاملے کی کارروائی میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دیتا، کیونکہ جب انصاف ملنے پر شبہ ہو تو صرف رسمی شرکت انصاف کے مقصد کو پورا نہیں کر سکتی۔ اسی لیے ممکنہ نقصان کے باوجود میں نے اپنے ضمیر کی آواز سنی اور گاندھیائی اصولوں سے متاثر ہو کر ستیہ گرہ کا راستہ اختیار کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان کے اس فیصلے کو کسی فردِ واحد کے خلاف نہیں بلکہ عدالتی شفافیت اور اعلیٰ اخلاقی اقدار کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔عدلیہ اور آئین پر اپنے اٹل یقین کو دہراتے ہوئے منیش سسودیا نے کہا کہ نظامِ انصاف کی ساکھ اس اصول پر قائم ہے کہ انصاف نہ صرف ہونا چاہیے بلکہ ہوتا ہوا نظر بھی آنا چاہیے۔ عوام کے اعتماد پر قائم نظام میں معمولی سا بھی تعصب نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے اپنے فیصلے کو گاندھیائی اصولوں سے متاثر قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ستیہ گرہ کا راستہ اختیار کیا ہے۔ انہوں نے ممکنہ نقصانات کے باوجود ضمیر کی آواز کو ترجیح دی اور عدلیہ کے تئیں مکمل احترام برقرار رکھتے ہوئے اداروں پر اپنے اعتماد کو کم کیے بغیر آئینی خدشات اٹھائے ہیں۔

منگل کے روز ایکس ( ٹوئٹر) پر پوسٹ کرتے ہوئے منیش سسودیا نے کہا کہ پورے احترام اور ادب کے ساتھ انہوں نے دہلی ہائی کورٹ کی جسٹس سورن کانتا شرما کو خط لکھ کر گزارش کی ہے کہ موجودہ حالات میں ان کا ضمیر انہیں اس معاملے کی آئندہ کارروائی میں ان کے روبرو شرکت کی اجازت نہیں دیتا۔ یہ کسی فردِ واحد کا معاملہ نہیں بلکہ اس اعتماد کا سوال ہے جس پر نظامِ انصاف قائم ہے کہ ہر شہری کو نہ صرف غیر جانبدار انصاف ملے بلکہ وہ غیر جانبدار نظر بھی آئے۔انہوں نے مزید کہا کہ وہ یہ بھی واضح کرنا چاہتے ہیں کہ عدلیہ اور آئین پر ان کا یقین مکمل طور پر اٹل ہے، لیکن جب ذہن میں سنجیدہ شبہات باقی رہ جائیں تو محض رسمی شرکت ان کے لیے مناسب نہیں، اسی لیے ان کے پاس ستیہ گرہ کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچا۔عدالت کو مخاطب اپنے خط میں منیش سسودیا نے کہا کہ وہ یہ خط جسٹس سورنا کانتا شرما اور مذکورہ معاملے کے تئیں مکمل احترام کے ساتھ لکھ رہے ہیں۔ انہوں نے ابتدا میں ہی واضح کیا کہ یہ خط کسی بے ادبی یا ذاتی حملے کے ارادے سے نہیں لکھا گیا بلکہ مکمل سنجیدگی اور ذمہ داری کے ساتھ تحریر کیا گیا ہے۔27 اپریل 2026 کو اروند کیجریوال کے لکھے گئے خط کا حوالہ دیتے ہوئے منیش سسودیا نے کہا کہ پیر کے روز اروند کیجریوال نے بھی اسی بنیاد پر خط لکھا تھا کہ وہ اپنے ضمیر کے مطابق اس کیس کی کارروائی میں حصہ لینے سے قاصر ہیں۔

انہوں نے اس خط کے بنیادی نکات پر غور کیا اور باوقار انداز میں اس م¶قف سے اتفاق کیا، جو مہاتما گاندھی کے ستیہ گرہ کے اصولوں پر مبنی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ تمام نکات دہرانا نہیں چاہتے، لیکن ان میں اٹھائے گئے خدشات ان کے ذہن پر بھی اثر انداز ہو رہے ہیں۔اپنی تشویش کی وجوہات بیان کرتے ہوئے منیش سسودیا نے کہا کہ اس معاملے کے دو پہلو انہیں خاص طور پر پریشان کرتے ہیں۔ پہلا پہلو آر ایس ایس سے منسلک سمجھے جانے والے وکلاءکی تنظیم اکھل بھارتیہ ادھوکتا پریشد کے پروگراموں میں جج صاحبہ کی بار بار عوامی شرکت سے متعلق ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ دوسرا پہلو ان کے بچوں کے مرکزی حکومت کے مختلف پینلز سے پیشہ ورانہ تعلق اور اس کے نتیجے میں ان قانونی افسران کے قریب دکھائی دینے سے متعلق ہے جو اس کیس میں ان کے خلاف پیش ہو رہے ہیں۔ اروند کیجریوال کے خط میں ان کے بچوں کے پیشہ ورانہ انحصار کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جو خاص طور پر ان کے بیٹے کو متعدد کیس سونپنے میں اہم کردار رکھتے ہیں۔منیش سسودیا نے اس فیصلے کا بھی حوالہ دیا جس میں خود کو کیس سے الگ کرنے کی درخواست مسترد کی گئی تھی، اور کہا کہ اس فیصلے میں جج صاحبہ نے کہا تھا کہ ان کے بچوں کے آزاد پیشہ ورانہ تعلق کا اس معاملے سے کوئی تعلق نہیں ہے اور کوئی ذاتی مفاد ظاہر نہیں کیا گیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر ایسے دلائل کو مان لیا جائے تو نچلی عدالتوں سے لے کر اعلیٰ ترین عدالت تک عدلیہ کے بڑے حصے کو خود کو الگ کرنا پڑے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ جج سورنا کانتا شرما نے سیاستدانوں کے بچوں کے سیاست میں آنے، ڈاکٹروں کے بچوں کے ڈاکٹر بننے اور وکلاءکے بچوں کے وکیل بننے سے موازنہ کیا اور سوال اٹھایا کہ ججوں کے بچوں کو قانون کے پیشے سے کیوں روکا جائے۔اپنا موقف واضح کرتے ہوئے منیش سسودیا نے کہا کہ کسی نے بھی یہ نہیں کہا کہ ججوں کے بچے قانون کی پریکٹس نہیں کر سکتے یا اگر وہ شفاف اور میرٹ پر مبنی عمل کے ذریعے منتخب ہوں تو سرکاری وکیل نہیں بن سکتے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Md Owais Owais


 rajesh pande