
مونگیر ،28اپریل(ہ س)۔ 28اپریل 2026 خانقاہ رحمانی کے بانی مولانا محمد علی مونگیری کے پوتا مظہر صاحب کے انتقال سے غم کی لہر دوڑ گئی ہے۔سابق ایم ایل سی اور سابق صدر جمعیة علماءبہار مولانا نور اللہ رحمانی کےبڑے صاحبزادے اور مولانا محمد علی مونگیری کے پوتے، مظہر علی رحمانی (مقیم امریکہ) کا انتقال ہو گیا۔ ہندوستانی وقت کے مطابق 27 اپریل کو دوپہر تقریباً ڈھائی بجے امریکہ کے ایک اسپتال میں ان کا وصال ہوا۔اس اندوہناک خبر کے موصول ہوتے ہی جامعہ رحمانی کا ماحول سوگوار ہو گیا۔ فکر و نظر ٹی وی کو اس سانحے کی اطلاع عامر علی رحمانی نے فراہم کی۔
مرحوم کے ایصالِ ثواب کے لیے خانقاہ رحمانی کی مسجد میں تلاوتِ کلامِ پاک کا اہتمام کیا گیا، جس میں اساتذہ کرام، طلبہ، کارکنان اور منتظمین کی بڑی تعداد شریک ہوئی اور سب نے مل کر مرحوم کے لیے دعائے مغفرت کی۔ یہ تمام انتظامات جامعہ رحمانی کے ناظم الحاج مولانا محمد عارف رحمانی کی نگرانی میں انجام پائے۔تلاوتِ کلامِ پاک کے بعد ایک باوقار تعزیتی نشست بھی منعقد کی گئی، جس میں مختلف اساتذہ نے مظہر علی رحمانی کی شخصیت اور خدمات پر روشنی ڈالی۔ مقررین نے انہیں ایک نہایت خوش اخلاق، ملنسار اور باکردار انسان قرار دیا، جو ہر ایک سے محبت اور خلوص کے ساتھ پیش آتے تھے۔
اس موقع پر امیرِ شریعت مولانا احمد ولی فیصل رحمانی ، سجادہ نشیں خانقاہ رحمانی مونگیر نے اپنے تاثرات میں فرمایا کہ مرحوم کی ابتدائی تعلیم خانقاہ رحمانی کے پرائمری اسکول سے شروع ہوئی، جس کے بعد انہوں نے امریکہ میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور اپنی صلاحیتوں کے ذریعے لوگوں کو فائدہ پہنچایا۔آخر میں حضرت امیرِ شریعت کی دعا پر پروگرام کا اختتام ہوا، جس میں مرحوم کے لیے مغفرت، بلندی درجات اور پسماندگان کے لیے صبرِ جمیل کی دعا کی گئی۔اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے اور اہلِ خانہ کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Md Owais Owais