
نئی دہلی، 25 اپریل (ہ س)۔ دہلی پولیس کی کرائم برانچ نے 31 سال پرانے اغوا، جبری وصولی اور قتل کیس میں مفرور عمر قید سزایافتہ سلیم خان عرف سلیم احمد عرف سلیم واستوک کو گرفتار کیا ہے۔ ملزم حال ہی میں ایک معروف سماجی کارکن اور یوٹیوبر کے طور پر پہچان حاصل کر لی تھی، لیکن پولیس کی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ وہ 1995 کے بدنام زمانہ اغوا-قتل کیس کا مجرم ہے ۔ اس نے قانون سے بچنے کے لئے اپنی شناخت بدل لی تھی اور خود کو مردہ بھی قرار دے دیا تھا۔
کرائم برانچ کے ڈپٹی کمشنر آف پولیس سنجیو یادو نے ہفتہ کو بتایا کہ 20 جنوری 1995 کو شمال مشرقی دہلی کے سیمنٹ کے تاجر سیتارام بنسل کا 13 سالہ بیٹا سندیپ بنسل اسکول کے لیے گھر سے نکلا لیکن واپس نہیں آیا۔ اگلے دن اس کے والد کو فون آیا جس میں بتایا گیا کہ بچہ اغوا کاروں کی تحویل میں ہے۔ 30,000 روپے تاوان کا مطالبہ کیا گیا اور اسے لونی فلائی اوور کے قریب بس اسٹینڈ پر بس میں چھوڑنے کو کہا گیا۔ پولیس کو اطلاع دینے پر اسے قتل کی دھمکی بھی دی گئی۔
تفتیش کے دوران، رامجس اسکول کے مارشل آرٹس انسٹرکٹر سلیم خان پر شک ہوا، جہاں مقتول طالب علم پڑھتا تھا۔ ایک پڑوسی نے بچے کو ماسٹر جی نامی نوجوان کے ساتھ رکشے میں سوار ہوتے دیکھا تھا۔ پولیس نے سلیم کو حراست میں لے کر پوچھ گچھ کی جس نے مصطفی آباد میں نالے سے بچے کی لاش برآمد کی۔ تفتیش میں اس کے ساتھی انل کے کردار کا بھی انکشاف ہوا جس نے تاوان کی کال کی اور اغوا کی منصوبہ بندی میں اہم کردار ادا کیا۔
ڈپٹی کمشنر آف پولیس کے مطابق کیس کی سماعت کے بعد 5 اگست 1997 کو عدالت نے سلیم خان اور انل خان کو مجرم قرار دیتے ہوئے عمر قید اور 10 ہزار روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔ دونوں نے ہائی کورٹ میں اپیل کی۔ دریں اثنا، 24 نومبر 2000 کو سلیم کو عبوری ضمانت مل گئی، لیکن وہ فرار ہو گیا اور عدالت میں پیش نہیں ہوا۔ بعد ازاں 19 جولائی 2011 کو دہلی ہائی کورٹ نے ان کی سزا کو برقرار رکھا۔
دریں اثنا، کرائم برانچ کی اے آر ایس سی ٹیم کو ایک اطلاع ملی کہ مقبول یوٹیوبر، سلیم واستوک، مفرور مجرم، سلیم خان ہے۔ پولیس نے کڑکڑڈوما کورٹ کے ریکارڈ، پرانی تصویروں اور فنگر پرنٹس کا موازنہ کرکے اس کی شناخت کی تصدیق کی۔ اس کے بعد انسپکٹر رابن تیاگی کی قیادت میں ٹیم نے اسے اتر پردیش کے لونی میں گرفتار کیا۔
پوچھ گچھ کے دوران، ملزم نے انکشاف کیا کہ ضمانت پر رہا ہونے کے بعد وہ خفیہ طور پر ہریانہ کے کرنال اور امبالہ میں الماری بنانے کا کام کرتا تھا۔ 2010 میں، اس نے لونی میں سکونت اختیار کی اور سلیم واستوک کے نام سے خواتین کے ملبوسات کی دکان کھولی۔ اس نئی شناخت کے ساتھ وہ سوشل میڈیا اور یوٹیوب پر متحرک ہو گیااور مقبول ہو گیا۔ پولیس کے مطابق ،اس پر فروری 2026 میں لونی میں بھی حملہ ہوا تھا جس میں وہ شدید زخمی ہوا تھا۔ علاج کے بعد اتر پردیش پولیس نے اسے سیکورٹی فراہم کی لیکن اس کے باوجود اس کی اصل شناخت سامنے نہیں آسکی۔
دہلی پولیس نے ملزم کو گرفتار کر کے تہاڑ جیل بھیج دیا ہے۔ پولیس اب اس کے فرار کے دوران اس کے رابطوں اور ساتھیوں سے تفتیش کر رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ گرفتاری اس بات کا ثبوت ہے کہ مجرم کتنے ہی سال روپوش رہیں، آخرکار قانون ان کی گرفت میں آتا ہی ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد