بھونیشور میں ملک کے پہلے تھری ڈی چپ پیکیجنگ یونٹ کا سنگ بنیاد رکھا گیا
بھونیشور، 19 اپریل (ہ س)۔ ملک میں سیمی کنڈکٹر سیکٹر کو مضبوط کرنے کی سمت ایک اہم قدم میں، مرکزی حکومت نے اڈیشہ کے بھونیشور میں انفو ویلی میں ہندوستان کے پہلے جدید تھری ڈائمینشنل (3ڈی ) چپ پیکیجنگ یونٹ کا سنگ بنیاد رکھا۔ اس اقدام کو ہائی ٹیک الیکٹرا
INDIA-FIRST-3D-SEMICONDUCTOR-PACKAGING-UNIT-ODISHA


بھونیشور، 19 اپریل (ہ س)۔ ملک میں سیمی کنڈکٹر سیکٹر کو مضبوط کرنے کی سمت ایک اہم قدم میں، مرکزی حکومت نے اڈیشہ کے بھونیشور میں انفو ویلی میں ہندوستان کے پہلے جدید تھری ڈائمینشنل (3ڈی ) چپ پیکیجنگ یونٹ کا سنگ بنیاد رکھا۔ اس اقدام کو ہائی ٹیک الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ کو فروغ دینے اور خود انحصار ہندوستان کے مقصد کو حاصل کرنے کی سمت میں ایک اہم قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

الیکٹرانکس اور اطلاعاتی ٹیکنالوجی کی مرکزی وزارت کے مطابق اس پروجیکٹ کا سنگ بنیاد مرکزی وزیر اشونی ویشنو اور وزیر اعلیٰ موہن چرن ماجھی نے رکھا۔ یہ سہولت ملک کے سیمی کنڈکٹر ماحولیاتی نظام کو مضبوط کرے گی اور مصنوعی ذہانت، 5جی اور دفاعی شعبے کو نئی تحریک فراہم کرے گی۔

مرکزی وزیر اشونی ویشنو نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ہندوستان کا سیمی کنڈکٹر سیکٹر تیزی سے ترقی کر رہا ہے اور اڈیشہ اس تبدیلی کے لیے ایک اہم مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے۔ یہ پروجیکٹ ملک کی سیمی کنڈکٹر ویلیو چین کو مضبوط کرے گا اور عالمی مقابلہ میں ہندوستان کی پوزیشن کو مضبوط کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ الیکٹرانکس مینوفیکچرنگ میںگزشتہ 12 برسوں میں چھ گنا اضافہ ہوا ہے اور ہندوستان اب دنیا کا دوسرا سب سے بڑا موبائل فون بنانے والا ملک بن گیا ہے، جبکہ 2025 تک موبائل فون کی برآمدات میں بھی لیڈر بن گیا ہے۔

وزیر اعلیٰ موہن چرن ماجھی نے اسے ریاست اور ملک کے لیے ایک تاریخی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہندوستان میں پہلی بار اس پیمانے کا ایک جدید سیمی کنڈکٹر پروجیکٹ قائم کیا جا رہا ہے۔ یہ اڈیشہ کے خود انحصار ہندوستان کے مقصد میں کلیدی کردار ادا کرے گا اور ریاست میں روزگار کے اہم مواقع پیدا کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ اس پروجیکٹ میں تقریباً 2000 کروڑ روپے کی سرمایہ کاری کی جا رہی ہے اور ہر سال 70 ہزار شیشے کے پینل، 5 کروڑ اسمبلڈ یونٹ اور تقریباً 13 ہزار جدید ماڈیول تیار کیے جائیں گے۔

ریاستی الیکٹرانکس اور آئی ٹی کے وزیر ڈاکٹر مکیش مہلنگ نے کہا کہ اڈیشہ تیزی سے ایک سیمی کنڈکٹر مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے اور ریاستی حکومت کی پالیسیاں سرمایہ کاری کو راغب کرنے اور تکنیکی اختراعات کو فروغ دینے میں مددگار ثابت ہو رہی ہیں۔

یہ پروجیکٹ امریکی کمپنی تھری ڈی گلاس سلوشنز کے ہندوستانی یونٹ کے ذریعے ضلع کھوردھا میں قائم کیا جا رہا ہے۔ کل سرمایہ کاری تقریباً 1,943 کروڑ روپے ہے جس میں مرکزی اور ریاستی حکومتوں کی مالی مدد بھی شامل ہے۔ یہ سہولت ڈیٹا سینٹرز، مصنوعی ذہانت، مشین لرننگ، 5جی/6جی کمیونیکیشن، آٹوموبائل، دفاع اور ایرو اسپیس جیسے شعبوں میں کام کرے گی۔ توقع ہے کہ تجارتی پیداوار اگست 2028 میں شروع ہو جائے گی اور 2030 تک پوری صلاحیت تک پہنچ جائے گی۔

اس پروگرام میں مرکزی اور ریاستی حکومتوں کے سینئر افسران اور صنعت کے نمائندے بھی موجود تھے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande