چین ایران کو جدید ریڈار سسٹم فراہم کرنے پر غور کررہا ہے: انٹیلی جنس رپورٹ میں دعویٰ
واشنگٹن،17اپریل(ہ س)۔ امریکی انٹیلی جنس رپورٹوں میں انکشاف کیا گیا ہے کہ گذشتہ ماہ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ ہونے والی جنگ براہ راست میدانِ جنگ کے دائرہ کار سے باہر پھیلنے کے قریب پہنچ گئی تھی۔امریکی نیٹ ورک سی بی ایس نیوز کی شائع کردہ
چین ایران کو جدید ریڈار سسٹم فراہم کرنے پر غور کررہا ہے: انٹیلی جنس رپورٹ میں دعویٰ


واشنگٹن،17اپریل(ہ س)۔

امریکی انٹیلی جنس رپورٹوں میں انکشاف کیا گیا ہے کہ گذشتہ ماہ امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے ساتھ ہونے والی جنگ براہ راست میدانِ جنگ کے دائرہ کار سے باہر پھیلنے کے قریب پہنچ گئی تھی۔امریکی نیٹ ورک سی بی ایس نیوز کی شائع کردہ رپورٹ کے مطابق یہ صورتحال اس وقت پیدا ہوئی جب چین اور روس کی جانب سے تہران کی حمایت کے لیے ایسی نقل و حرکت دیکھی گئی جس کا مقصد امریکہ اور اسرائیل کی فوجی کارروائیوں کی تاثیر کو محدود کرنا تھا۔

امریکی حکام کے مطابق امریکی محکمہ دفاع کے انٹیلی جنس ادارے (ڈی آئی اے) کے تجزیہ کاروں نے اندازہ لگایا ہے کہ بیجنگ تنازع کے ابتدائی مراحل کے دوران تہران کو جدید ریڈار سسٹم فراہم کرنے کے امکان پر غور کر رہا تھا۔یہ اندازے ان علاحدہ رپورٹوں کے ساتھ سامنے آئے ہیں جن میں بتایا گیا تھا کہ ماسکو نے خطے میں امریکی فوجی ٹھکانوں کے بارے میں تہران کے ساتھ انٹیلی جنس معلومات کا تبادلہ کیا تھا۔

حکام کے مطابق اگرچہ روس کی جانب سے انٹیلی جنس معلومات کی فراہمی کا انکشاف سی بی ایس پہلے ہی کر چکا تھا، تاہم ایران کو تکنیکی مدد فراہم کرنے کے لیے چین کی ممکنہ آمادگی ان عالمی طاقتوں کے درمیان ایک غیر رسمی ہم آہنگی کی نشان دہی کرتی ہے جو خطے میں امریکی اثر و رسوخ کو متوازن کرنا چاہتی ہیں۔حکام نے واضح کیا کہ بیجنگ نے تہران کو X-Band طرز کے ریڈار فراہم کرنے پر غور کیا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی تہران کی ان صلاحیتوں کو بڑھانے کے قابل ہے جن کے ذریعے وہ آنے والے خطرات بشمول کم بلندی پر اڑنے والے ڈرونز اور کروز میزائلوں کی نشان دہی اور ان کا تعاقب کر سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ ایرانی فضائی دفاعی نظام کو جدید حملوں سے تحفظ فراہم کرنے میں بھی مدد گار ثابت ہو سکتی ہے۔ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ آیا چین نے واقعتا ان سسٹمز کی منتقلی پر عمل درآمد کیا ہے یا نہیں، تاہم انٹیلی جنس تخمینہ واشنگٹن کی اس تشویش کی عکاسی کرتا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ نے ان عالمی حریفوں کو اپنی طرف متوجہ کرنا شروع کر دیا ہے جو براہ راست لڑائی میں شامل ہوئے بغیر تہران کو فیصلہ کن مدد فراہم کرنے کے لیے تیار ہیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande