
بیروت،17اپریل(ہ س)۔اسرائیل کے ” چینل 12 “ نے نیتن یاہو کا جنگ بندی کے حوالے سے بیان نقل کیا ہے۔ اس بیان میں نیتن یاہو نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ ڈونلڈ ٹرمپ کی درخواست پر اور امریکہ کے ساتھ مفادات کی بنا پر کیا گیا، لہٰذا انہوں نے اس درخواست کو تسلیم کر لیا ہے۔نیتن یاہو نے مزید کہا کہ اسرائیلی فوج جنگ بندی کے دوران بھی ان مقامات پر موجود رہے گی جہاں وہ تعینات ہے۔ اسرائیلی اخبار ” یدیعوت احرونوت “ نے کہا ہے کہ نیتن یاہو نے سکیورٹی کابینہ کی ووٹنگ کے بغیر ہی لبنان میں جنگ بندی کی منظوری دے دی ہے۔
اسرائیلی اخبار ” ہاریٹز “ نے جمعرات کو کہا کہ اسرائیلی فوج مقامی وقت کے مطابق شام سات بجے لبنان میں جنگ بندی کے لیے تیاریاں کر رہی ہے۔ اخبار نے وضاحت کی کہ فوجی کمانڈروں کو ہدایات ملی ہیں کہ وہ جنوبی لبنان میں تعینات افواج کو جنگ بندی کے لیے تیار کریں جس کے بارے میں انہیں بتایا گیا ہے کہ یہ شام 7:00 بجے شروع ہوگی۔
اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے حزب اللہ کے ساتھ لڑائی جاری رہنے کے دوران فوج کو جنوبی لبنان میں ” سکیورٹی زون “ کو وسعت دینے کا حکم دیا ہے۔ بدھ کی رات گئے ان کے دفتر سے یہ اعلان کیا گیا۔ اس اعلان کے وقت توقع تھی کہ جمعرات کو لبنان اور اسرائیل کے درمیان بات چیت ہوگی۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کی صبح کہا کہ آج اسرائیل اور لبنان کے درمیان مذاکرات ہوں گے۔ انہوں نے اپنے ” ٹروتھ سوشل “ اکاو¿نٹ پر لکھا کہ اسرائیل اور لبنان کے درمیان ماحول کو ٹھنڈا کرنے کی ایک کوشش ہو رہی ہے۔ دونوں رہنماو¿ں کے درمیان آخری گفتگو کو طویل عرصہ، تقریباً 34 سال گزر چکے ہیں۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ یہ آج جمعرات کو ہی ہوگا۔اسی دوران اسرائیل لبنان کے ساتھ اپنے مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہے۔ سکیورٹی کابینہ نے بدھ کے اجلاس کے دوران جنگ بندی کے امکان پر تبادلہ خیال کیا جو کسی فیصلے کے بغیر ختم ہو گیا تھا۔ واضح رہے اسرائیل اور لبنان کے نمائندوں نے منگل کے روز واشنگٹن میں دہائیوں بعد پہلی بار براہ راست سیاسی مذاکرات کیے تھے۔ نیتن یاہو نے کہا کہ ان مذاکرات کا مقصد حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا اور مستقل امن حاصل کرنا ہے۔
دوسری طرف لبنانی حکومت، جو اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان تنازع کا فریق نہیں ہے، جنگ بندی اور جنوبی لبنان سے اسرائیلی افواج کے انخلائ کی کوشش کر رہی ہے۔ بدھ کے روز بھی اسرائیلی افواج اور حزب اللہ کے درمیان جھڑپیں جاری رہی تھیں۔ نیتن یاہو نے مزید کہا کہ سکیورٹی زون کو مشرق کی جانب جبل الشیخ کے دامن تک بھی پھیلایا جائے گا تاکہ دروز برادریوں کی حمایت کی جا سکے۔ یہ پہاڑی سلسلہ شام اور لبنان کی سرحد کے ساتھ واقع ہے اور اسرائیل کے زیر قبضہ گولان کی پہاڑیوں تک پہنچتا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan