ایران میں انٹرنیٹ کی بندش میں جزوی نرمی،’گوگل‘ کی خدمات بھی دوبارہ شروع
تہران،17اپریل(ہ س)۔ میڈیا رپورٹوں کے مطابق فروری کے اواخر میں تہران اور دوسری جانب امریکہ و اسرائیل کے درمیان شروع ہونے والی جنگ کے بعد پہلی بار ایرانی باشندے بیرون ملک سے فون کالیں وصول کرنے کے قابل ہو گئے ہیں، جبکہ انٹرنیٹ سروس بھی جزوی طور پر ب
ایران میں انٹرنیٹ کی بندش میں جزوی نرمی،’گوگل‘ کی خدمات بھی دوبارہ شروع


تہران،17اپریل(ہ س)۔

میڈیا رپورٹوں کے مطابق فروری کے اواخر میں تہران اور دوسری جانب امریکہ و اسرائیل کے درمیان شروع ہونے والی جنگ کے بعد پہلی بار ایرانی باشندے بیرون ملک سے فون کالیں وصول کرنے کے قابل ہو گئے ہیں، جبکہ انٹرنیٹ سروس بھی جزوی طور پر بحال کر دی گئی ہے۔میڈیا رپورٹوں کے مطابق ایرانی حکومت نے مواصلاتی پابندیوں میں بتدریج نرمی کے تحت لینڈ لائن فون کے ذریعے بین الاقوامی کالیں وصول کرنے کی دوبارہ اجازت دے دی ہے، تاہم موبائل فون کے ذریعے کالوں پر اب بھی پابندی برقرار ہے۔

اس کے علاوہ تقریباً 50 روز کے بعد گوگل کی خدمات بھی دوبارہ دستیاب ہو گئی ہیں، لیکن یہ اب بھی غیر مستحکم طریقے سے کام کر رہی ہیں۔حکومت نے 28 فروری کو حملوں کے آغاز کے کچھ ہی عرصہ بعد عالمی انٹرنیٹ تک رسائی کو بڑے پیمانے پر بلاک کر دیا تھا۔ اس دوران صرف قومی انٹرنیٹ (نیشنل انٹرنیٹ) کے نام سے جاری خدمت کے استعمال کی اجازت تھی، جس کے ذریعے صرف ریاست کی منظور شدہ ویب سائٹس تک ہی رسائی ممکن تھی۔اس کے برعکس فوج اور حکومتی اداروں کے ایک محدود حصے کو بغیر کسی پابندی کے انٹرنیٹ استعمال کرنے کی اجازت تھی۔سرکاری طور پر حکومت نے انٹرنیٹ کی بندش کا جواز سکیورٹی وجوہات کو قرار دیا تھا۔ تاہم مبصرین کا خیال ہے کہ ایرانی قیادت کا بنیادی مقصد سوشل میڈیا کے ذریعے جنگی نقصانات کی حقیقی صورت حال اور ملک کے اندرونی حالات سے متعلق معلومات کی گردش کو روکنا تھا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande