
کاٹھمنڈو، 17 اپریل (ہ س)۔ نیپال کی سپریم کورٹ نے وزیر اعظم بالیندر شاہ کو توہین عدالت کے معاملے میں حاضری سے استثنیٰ دے دیا ہے۔ جسٹس ہری پھوئیال اور شانتی سنگھ تھاپا کی بنچ نے شاہ کو اس معاملے میں تاریخ پر نمائندہ بھیجنے کی سہولت فراہم کی ہے ۔
اب معاملے کی اگلی تاریخ پر وزیر اعظم شاہ کی جگہ ان کا نمائندہ بھی عدالت میں حاضر ہو کر تاریخ لے سکتا ہے۔ اس سے قبل بھی انہو ں نمائندہ کے لیے درخواست دی تھی، لیکن عدالت نے اسے مسترد کر دیا تھا۔ اس کے بعد سے وہ توہین عدالت کے معاملے کی ہر سماعت پر ذاتی طور پر پیش ہوتے رہے ہیں۔
وزیر اعظم بالیندر شاہ، جب وہ کاٹھمنڈو میٹروپولیٹن کارپوریشن کے میئر تھے، نے ہندی فلم ”آدی پروش“میں ’جانکی بھارت کی بیٹی ہیں‘ مکالمے کو ہٹائے بغیر فلم کی اسکریننگ پر روک لگانے کا اعلان کیا تھا۔ نیپال چلچتر سنگھ (سینما ہال آپریٹرز کی ایک یسوسی ایشن ) نے اس فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے پاٹن ہائی کورٹ میں ایک رٹ پٹیشن دائر کی تھی۔
اس درخواست میں میئر شاہ، سٹی پولیس، وزارت داخلہ اور وزارت مواصلات و اطلاعات کو فریق بنایا گیا تھا۔ پاٹن ہائی کورٹ نے میٹرپولیٹن کے فیصلے کے خلاف ایک عبوری حکم جاری کرتے ہوئے کاٹھمنڈو میٹروپولیٹن ایریا میں ہندی فلموں کی اسکریننگ کی اجازت دے دی تھی۔
اسی دن شاہ نے سوشل میڈیا پر وفاقی حکومت اور عدالت کو ہندوستانی غلام کہا تھا۔ عدالتی حکم پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے قانون اور عدالتی احکامات پر عمل نہ کرنے کی بات بھی کی تھی۔
ہندوستھا ن سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد