فرانسیسی صدر ماکرون کا پزشکیان سے فون پر رابطہ ، بات چیت کو اہم موقع قراردیا
پیرس،12اپریل(ہ س)۔فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکرون نے ہفتے کے روز ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ٹیلیفونک رابطہ کیا اور ان پر زور دیا کہ وہ امریکا کے ساتھ پاکستان میں شروع ہونے والے مذاکرات سے فائدہ اٹھائیں تاکہ کشیدگی میں پائیدار کمی ممکن بنائی جا سکے۔ما
فرانسیسی صدر ماکرون کا پزشکیان سے فون پر رابطہ ، بات چیت کو اہم موقع قراردیا


پیرس،12اپریل(ہ س)۔فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکرون نے ہفتے کے روز ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے ٹیلیفونک رابطہ کیا اور ان پر زور دیا کہ وہ امریکا کے ساتھ پاکستان میں شروع ہونے والے مذاکرات سے فائدہ اٹھائیں تاکہ کشیدگی میں پائیدار کمی ممکن بنائی جا سکے۔ماکرون نے ایکس (سابق ٹوئٹر) پر لکھا کہ انہوں نے پزشکیان سے کہا ہے کہ اسلام آباد میں شروع ہونے والی بات چیت کے موقع کو استعمال کرتے ہوئے خطے میں کشیدگی میں پائیدار کمی کی راہ ہموار کی جائے۔

فرانسیسی صدر نے یہ بھی زور دیا کہ ایران جلد از جلد آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی آزادی اور سلامتی کو بحال کرے ،مزید کہا کہ فرانس اس معاملے میں کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔انہوں نے لبنان سمیت خطے میں جنگ بندی کے مکمل احترام کی اہمیت پر بھی زور دیا۔اس کے علاوہ ماکرون نے اعلان کیا کہ انہوں نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے بھی بات کی ہے اور دونوں نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ وہ قریبی رابطے میں رہیں گے تاکہ خطے میں کشیدگی میں کمی، بحری راستوں کی آزادی اور کسی معاہدے تک پہنچنے میں مدد دی جا سکے۔انہوں نے ولی عہد کے ساتھ گفتگو میں جنگ بندی کی حمایت کا اظہار کیا جس کا مکمل احترام ضروری ہے اور اسے بلا تاخیر لبنان تک بھی وسعت دی جانی چاہیے، جبکہ آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حرکت کی مکمل اور محفوظ آزادی کی جلد بحالی پر بھی زور دیا۔

فرانسیسی صدر نے ترکیا صدر رجب طیب ایردوآن سے بھی بات چیت کی اور ان پر زور دیا کہ لبنان میں جنگ بندی کا احترام اور اس پر مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جائے، ساتھ ہی ایک مضبوط اور پائیدار سفارتی حل تک پہنچنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔ترکیا ایوانِ صدر کے مطابق ایردوآن نے کہا کہ ترکی ان سفارتی کوششوں کی حمایت کرتا ہے ،جو متعلقہ ممالک کے تعاون سے ایران میں جنگ بندی کے لیے جاری ہیں۔بیان میں کہا گیا کہ ترکیا، مصر اور پاکستان کے ساتھ مل کر اس جنگ کے سیاسی حل کے لیے سفارتی کوششوں میں شریک ہے جو امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف کارروائیوں سے جڑی ہے۔لبنان کے حوالے سے ترکیا صدر نے کہا کہ ایسے اقدامات کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے جو جنگ بندی کو نقصان پہنچا سکیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande