
اسلام آباد، 12 اپریل (ہ س)۔ پاکستانی سکیورٹی فورسز نے شورش زدہ صوبہ بلوچستان کے علاقے نوشکی کا محاصرہ کر لیا ہے۔ فوج کے طیارے آسمان پر منڈلا رہے ہیں۔ سکیورٹی فورسز نے ضلع نوشکی کی تمام سرحدوں کی ناکہ بندی کرتے ہوئے نقل و حرکت پر پابندی لگا دی ہے۔ چوری -چھپے شہر سے باہر نکلنے کی کوشش کرنے والوں پر گولیاں چلائی جا رہی ہیں۔ صوبہ مستونگ میں مسلح حملے میں پاک فوج کے متعدد جوانوں کی ہلاکت اور متعدد زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
دی بلوچستان پوسٹ کے مطابق ،پاکستانی سکیورٹی فورسز نے نوشکی شہر کے داخلی اور خارجی راستوں پر سخت ناکہ بندی کر دی ہے۔ بازار مکمل طور پر بند ہے۔ داخلی راستے مسدود ہونے کے ساتھ کسی کو اندر یا باہر جانے کی اجازت نہیں ہے۔ علاقے کے ایک مکین نے بتایا کہ آج صبح نوشکی بازار، غازی آباد، گریڈ اسٹیشن، غریب آباد اور دیگر قریبی علاقوں میں سینکڑوں سکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں۔
اس کے علاوہ ،سکیورٹی فورسز نے گزشتہ روز نوشکی کے گاو¿ں قادر آباد کو گھنٹوں تک گھیرے میں لے لیا۔ اس دوران فائرنگ کی آوازیں بھی سنی گئیں۔ گاو¿ں والوں نے بتایا کہ عابد مینگل ولد نور محمد مینگل ساکن قادر آباد اور طاہر خان ولد محمد رحیم جان بادینی کو سکیورٹی فورسز حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر لے گئی ہیں۔ اس حوالے سے ابھی تک کوئی سرکاری اطلاع جاری نہیں کی گئی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ سکیورٹی فورسز نے گزشتہ دو ماہ سے نوشکی شہر میں جزوی کرفیو نافذ کر رکھا ہے۔
اس کے علاوہ، بلوچستان کے علاقے مستونگ میں مسلح افواج نے پاکستانی فوج پر حملہ کیا جس میں متعدد فوجی ہلاک ہوگئے۔ کوئٹہ سے ملحقہ میدانی علاقے کمبیلا میں مسلح افواج نے پاکستانی فوج کو نشانہ بنایا۔ اس سے قبل مسلح افواج نے ایک اہم شاہراہ کو بند کر دیا اور گزرنے والے پاکستانی فوجی قافلے پر فائرنگ کی۔
مسلح افراد نے صوبے کے جھل مگسی ضلع میں لیویز فورس کی دو چوکیوں پر قبضہ کر لیا، جن میں سے ایک لانڈی اور دوسری صفرادی میں۔ اس کے بعد انہوں نے افسران اور اہلکاروں سے اسلحہ اور موٹر سائیکلیں چھین لیں۔ ابھی تک کسی نے واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ علاقائی ذرائع کے مطابق مسلح افراد کا تعلق بلوچ آرمڈ فریڈم آرگنائزیشن سے ہے۔
بلوچستان لبریشن فرنٹ کے ترجمان میجر غرام بلوچ نے ایک میڈیا بیان میں کہا کہ ان کے کمانڈروں نے 9 اپریل کی شام 6 بجے ایک مربوط اور منظم فوجی آپریشن شروع کرکے تربت شہر کے قریب سی پی ای سی ہائی وے ایم -8 کو کئی گھنٹوں تک بلاک رکھا اور ہائی وے کا مکمل فوجی کنٹرول حاصل کر لیا۔ ترجمان نے کہا کہ جنگجوو¿ں نے دشت شاہ داد ہوٹل سے پیش قدمی کی اور لودھی جنگجہ میں پولیس چوکی پر دھاوا بول کر قبضہ کر لیا۔ تمام سرکاری اسلحہ اور دیگر فوجی ساز و سامان ضبط کر لیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ آپریشن کے دوسرے مرحلے میں جنگجوو¿ں نے دشمن کے جاسوسی نظام کو ناکارہ بنانے کے لیے تکنیکی حملے کیے اور دشت شاہ داد ہوٹل کے پیچھے پہاڑی چوٹیوں پر نصب پاک فوج کے نئے سرویلانس کیمروں، بجلی کی فراہمی کے لیے سولر پینلز اور دیگر حساس آلات کو مکمل طور پر تباہ کر دیا۔ 10 اپریل کو جنگجوو¿ں نے ہائی وے کو بھی بند کر دیا اور پورے علاقے کو دو گھنٹے تک اپنے مکمل کنٹرول میں رکھا۔ اگلے دن جنگجوو¿ں نے نوشکی کے علاقے احمد وال مہساکی میں ایک پولیس چوکی پر دھاوا بول کر قبضہ کر لیا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمد شہزاد