لال قلعہ دھماکہ معاملے کے دو ملزمین کی این آئی اے حراست میں پانچ دن کی توسیع
نئی دہلی، 6 مارچ (ہ س)۔ پٹیالہ ہاو¿س کورٹ کے پرنسپل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج پیتامبر دت نے لال قلعہ دھماکہ کیس میں گرفتار دو ملزمین کی قومی جانچ ایجنسی (این آئی اے) کی حراست میں مزید پانچ دن کی توسیع کر دی ہے۔ عدالت نے طفیل احمد بھٹ اور ضمیر احمد آہنگ
لال قلعہ دھماکہ معاملے کے دو ملزمین کی این آئی اے حراست میں پانچ دن کی توسیع


نئی دہلی، 6 مارچ (ہ س)۔ پٹیالہ ہاو¿س کورٹ کے پرنسپل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج پیتامبر دت نے لال قلعہ دھماکہ کیس میں گرفتار دو ملزمین کی قومی جانچ ایجنسی (این آئی اے) کی حراست میں مزید پانچ دن کی توسیع کر دی ہے۔ عدالت نے طفیل احمد بھٹ اور ضمیر احمد آہنگر کو این آئی اے کی تحویل میں بھیجنے کا حکم دیا۔

جمعہ کو ان دونوں ملزمین کی این آئی اے کی حراست ختم ہو رہی تھی، جس کے بعد انہیں عدالت میں پیش کیا گیا۔ 25 فروری کو عدالت نے انہیں آج تک این آئی اے کی حراست میں بھیجا تھا۔ 25 فروری کو جموں و کشمیر پولیس انہیں پروڈکشن وارنٹ پر دہلی لائی تھی ۔

این آئی اے کے مطابق، ضمیر احمد کو عمر النبی، مفتی عرفان اور ڈاکٹر عدیل احمد راتھر نے رائفل، پستول اور زندہ گولہ بارود فراہم کئے تھے ۔ دونوں ملزمان کا تعلق دہشت گرد گروپ انصار غزوة الہند سے ہے۔ این آئی اے کے مطابق، 10 نومبر 2025 کو لال قلعہ کے باہر ہوئے کار بم دھماکے کا منصوبہ عمر النبی نے بنایا تھا۔ عمر النبی کی موقع پر ہی موت ہو گئی تھی۔ دھماکے میں 15 افراد ہلاک اور دو درجن کے قریب زخمی ہوئے تھے۔

پٹیالہ ہاؤس کورٹ نے این آئی اے کو کیس کی تحقیقات کے لیے مزید 45 دن کی مہلت دی، جب کہ این آئی اے نے 90 دن کی توسیع مانگی۔این آئی اے نے ملزم دانش کو سری نگر سے گرفتار کیاتھا۔ دانش نے ڈرون میں تکنیکی تبدیلیاں کیں اور کار بم دھماکے سے پہلے راکٹ کو اسمبل کرنے کی کوشش کی۔ دانش نے عمر النبی کے ساتھ مل کر پوری سازش کو آگے بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ پولیٹیکل سائنس کے گریجویٹ دانش کو عمر نے خودکش بمبار بننے کے لیے برین واش کیا۔ وہ اکتوبر 2024 میں کولگام کی ایک مسجد میں ڈاکٹر ماڈیول سے ملنے پرتیار ہوا، جہاں سے اسے ہریانہ کے فرید آباد میں الفلاح یونیورسٹی میں قیام کے لیے لے جایا گیا۔

لال قلعہ کے قریب 10 نومبر 2025 کوایک آئی -10 کار میں دھماکہ ہوا۔ یہ گاڑی عامر رشید علی کے نام پر رجسٹرڈ تھی۔ دھماکے میں 13 افراد ہلاک اور 32 زخمی ہوئے تھے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande