این ایس یو آئی نے کرناٹک حکومت کے روہت ویمولا ایکٹ کو نافذ کرنے اور طلبہ یونین کے انتخابات کو بحال کرنے کے فیصلے کا خیرمقدم کیا
نئی دہلی، 6 مارچ (ہ س)۔ نیشنل اسٹوڈنٹس یونین آف انڈیا (این ایس یو آئی) نے ریاست کی یونیورسٹیوں اور کالجوں میں روہت ویمولا ایکٹ کو نافذ کرنے اور طلبا یونین کے انتخابات کو بحال کرنے کے کرناٹک حکومت کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔این ایس یو آئی نے کہا کہ
NSUI-Karnataka-Govt-Restore-SU


نئی دہلی، 6 مارچ (ہ س)۔ نیشنل اسٹوڈنٹس یونین آف انڈیا (این ایس یو آئی) نے ریاست کی یونیورسٹیوں اور کالجوں میں روہت ویمولا ایکٹ کو نافذ کرنے اور طلبا یونین کے انتخابات کو بحال کرنے کے کرناٹک حکومت کے فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔این ایس یو آئی نے کہا کہ یہ اقدام طلباکے حقوق کے تحفظ، کیمپس میں سماجی انصاف کو یقینی بنانے اور نوجوانوں میں جمہوری شراکت کو مضبوط بنانے کی جانب ایک اہم اقدام ہے۔

اس اعلان پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے این ایس یو آئی کے قومی صدر ونود جاکھڑ نے کہا کہ یہ فیصلہ ایک مضبوط پیغام ہے کہ طلبا اور پسماندہ طبقات کی آواز کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ونود جاکھڑ نے کہا کہ روہت ویمولا ایکٹ کا آغاز کرناٹک حکومت کا ایک تاریخی اور جرات مندانہ قدم ہے۔ روہت ویمولا کے المناک ادارہ جاتی قتل نے پوری قوم کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھااوریہ اجاگر کیا تھاکہ تعلیمی اداروں کے اندر تفریق کی جڑیں کس حد تک پیوست ہیں۔ یہ قانون طلبا کو ذات پات کی بنیاد پر امتیازی سلوک، استحصال اور ادارہ جاتی ناانصافی سے بچانے کے لیے ایک مضبوط تحفظ کا کام کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ طلبہ سیاست ملک میں جمہوری قیادت کی بنیاد ہے۔ طلبا کو اپنے نمائندوں کو منتخب کرنے کا موقع دے کر، کرناٹک حکومت نے جمہوری اقدار کو مضبوط کیا ہے اور اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ اداروں کی حکمرانی میں طلبا کی آواز ہو۔

جاکھڑ نے یہ بھی کہا کہ کرناٹک حکومت نے پورے ملک کے لیے ایک مثال قائم کی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ دیگر ریاستی حکومتیں اس ترقی پسند قدم کی پیروی کریں گی اور اس بات کو یقینی بنائیں گی کہ تعلیمی کیمپس مساوات، انصاف اور جمہوری شراکت کے مراکز رہیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande