
نئی دہلی، 6 مارچ (ہ س)۔ کانگریس نے امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کے روسی تیل کی خریداری کے لیے ہندوستانی ریفائنریوں کو 30 دن کی عارضی چھوٹ سے متعلق بیان کو ملک کی خودمختاری کی توہین قرار دیا ہے۔
کانگریس کے صدر ملکارجن کھڑگے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ ہندوستان کی اسٹریٹجک خودمختاری اور قومی خودمختاری شدید خطرے میں ہے کیونکہ وزیر اعظم نریندر مودی کو بلیک میل کیا جا رہا ہے۔ بھارت کو اجازت دینے کی امریکہ کی زبان پابندیوں والے ممالک کے لیے استعمال ہوتی ہے، بھارت جیسے ذمہ دار پارٹنر کے لیے نہیں۔ مودی حکومت سفارتی اسپیس کو مسلسل ختم کر رہی ہے اور اس نے ہندوستان کو امریکہ کے ماتحت غلام ملک بنا دیا ہے۔
کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے لکھا کہ ہندوستان کی خارجہ پالیسی عوام کی اجتماعی مرضی سے بنتی ہے اور اسے سچائی اور عدم تشدد پر مبنی ہونا چاہیے۔ آج جو کچھ ہو رہا ہے وہ پالیسی نہیں بلکہ ایک سمجھوتہ کرنے والے فرد کے بلیک میل کا نتیجہ ہے۔
کانگریس کے جنرل سکریٹری (تنظیم) کے سی وینوگوپال نے کہا کہ امرت کال کے دوران ہندوستانی وزیر اعظم کو تیل خریدنے کے لیے دوسرے ممالک سے اجازت لینا پڑ رہی ہے، جو ہندوستان کی خودمختاری اور بین الاقوامی ساکھ کی انتہائی توہین ہے۔ بھارت کو امریکی شرائط کے سامنے جھکنے کے بجائے آزادانہ موقف اختیار کرنا چاہیے اور اپنے فیصلے اعلیٰ ترین قومی مفاد میں کرنا چاہیے۔
قابل ذکر ہے کہ امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ صدر ٹرمپ کی توانائی پالیسی کی وجہ سے امریکا میں تیل اور گیس کی پیداوار تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ عالمی منڈی میں تیل کی سپلائی برقرار رکھنے کے لیے، امریکی محکمہ خزانہ نے ہندوستانی ریفائنرز کو روسی تیل خریدنے کی اجازت دینے کے لیے 30 دن کی عارضی چھوٹ دی ہے۔ یہ جان بوجھ کر ایک قلیل مدتی اقدام ہے جو روسی حکومت کو اہم مالی فائدہ نہیں دے گا، کیونکہ یہ صرف سمندر میں پہلے سے پھنسے ہوئے تیل سے متعلق لین دین کی اجازت دیتا ہے۔
---------------
ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی