
تل ابیب ،05مارچ (ہ س )۔
اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری فضائی جنگ کے باعث اسرائیلی معیشت کو بھاری نقصان پہنچنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
اسرائیل کی وزارتِ خزانہ کے مطابق موجودہ صورتِ حال میں جنگ کے باعث معیشت کو ہر ہفتے تقریباً 9 ارب شیکل (تقریباً 2.9 ارب ڈالرز) سے زائد کا نقصان ہو سکتا ہے۔
وزارتِ خزانہ کا کہنا ہے کہ اسرائیل ہوم فرنٹ کمانڈ کی جانب سے نافذ کردہ ریڈ پابندیوں کے تحت شہریوں کی نقل و حرکت محدود ہے، اسکول بند ہیں اور ریزرو فوجیوں کو طلب کیا گیا ہے، جس کے باعث معاشی سرگرمیاں شدید متاثر ہو رہی ہیں۔
حکام کے مطابق ان پابندیوں کے تحت معیشت کو تقریباً 9.4 ارب شیکل ہفتہ وار نقصان کا سامنا ہو سکتا ہے، تاہم اگر پابندیوں کو کم کرتے ہوئے اورنج سطح پر منتقل کیا جائے تو معاشی نقصان کم ہو کر تقریباً 4.3 ارب شیکل ہفتہ وار رہ سکتا ہے۔
یاد رہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے ہفتے کے روز ایران پر حملے شروع کیے تھے جس کے بعد ایران کی جانب سے جوابی کارروائیاں بھی جاری ہیں، جس سے پورے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بڑھ گئی اور خلیجی ممالک سے توانائی کی برآمدات بھی متاثر ہوئیں۔اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ موجودہ فوجی مہم کئی ہفتوں تک جاری رہ سکتی ہے۔
واضح رہے کہ اسرائیل کی معیشت 2025ء میں تقریباً 3.1 فیصد ترقی کر سکی تھی جبکہ حماس سے جنگ بندی کے بعد 2026ء میں معاشی شرحِ نمو 5 فیصد سے زیادہ رہنے کی توقع کی جا رہی تھی۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / عطاءاللہ