جزیرہ خارگ پر قبضہ امریکی افواج کو مہنگا پڑ سکتا ہے،ماہرین نے امریکہ کو کیا خبردار
واشنگٹن،27مارچ(ہ س)۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے تزویراتی تیل مرکز جزیرہ خارگ پر قبضے کے لیے زمینی افواج کی تعیناتی پر غور کیا جا رہا ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ انتظامیہ اس جزیرے پر زمینی دستے بھیجنے
جزیرہ خارگ پر قبضہ امریکی افواج کو مہنگا پڑ سکتا ہے،ماہرین نے امریکہ کو کیا خبردار


واشنگٹن،27مارچ(ہ س)۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے تزویراتی تیل مرکز جزیرہ خارگ پر قبضے کے لیے زمینی افواج کی تعیناتی پر غور کیا جا رہا ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہے کہ انتظامیہ اس جزیرے پر زمینی دستے بھیجنے کا جائزہ لے رہی ہے، جبکہ رواں ماہ کے آخر تک بحریہ کے دو یونٹس بھی خطے میں پہنچ جائیں گے۔ پینٹاگان ہزاروں مزید فوجیوں کو فضائی راستے سے بھیجنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے تاکہ ڈونلڈ ٹرمپ کو زمینی حملے کی صورت میں مزید عسکری اختیارات حاصل ہوں۔

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ امریکی افواج اس جزیرے پر تیزی سے قبضہ تو کر سکتی ہیں، لیکن یہ اقدام جنگ کے فوری خاتمے کے بجائے اسے مزید طویل کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔ نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات کے باعث بیشتر امریکی عوام جنگ کی مخالفت کر رہے ہیں۔ 'ڈیفنس آف ڈیموکریسیز' سینٹر کے ماہرین کا ماننا ہے کہ جزیرہ خارک پر قبضے سے جنگ کا دائرہ وسیع ہو جائے گا اور امریکی افواج کو ایرانی میزائلوں اور مہلک ڈرون حملوں کا سامنا کرنا پڑے گا، جن کی وڈیوز ایران پروپیگنڈے کے طور پر استعمال کر سکتا ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ کو امید ہے کہ اس جزیرے پر قبضے سے ایران آبنائے ہرمز کھولنے پر مجبور ہو جائے گا، جس سے مذاکرات میں امریکہ کا پلہ بھاری ہو سکتا ہے۔ تاہم ماہرین کا خدشہ ہے کہ تہران جواباً سمندر میں مزید بارودی سرنگیں بچھا سکتا ہے، جس سے بحری جہاز رانی مزید خطرناک ہو جائے گی۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کے سابق سربراہ جوزف فوٹ?ل کے مطابق اگرچہ جزیرے پر قبضے کے لیے صرف 800 سے 1000 فوجیوں کی ضرورت ہے، لیکن ان کی حفاظت اور لواجسٹک سپورٹ ایک بڑا چیلنج ہو گا اور اس کارروائی سے جنگ میں کسی خاص برتری کا حصول مشکوک ہے۔جزیرہ خارگ ایرانی ساحل سے 26 کلومیٹر دور خلیج کے شمالی سرے پر واقع ہے۔ اس کی اہمیت یہ ہے کہ یہاں پانی کی گہرائی زیادہ ہونے کے باعث بڑے تیل بردار جہاز لنگر انداز ہو سکتے ہیں۔ ایران کی 90 فی صد خام تیل کی برآمدات اسی جزیرے سے ہوتی ہیں، لہٰذا اس پر قبضے سے امریکہ ایرانی توانائی کی تجارت اور معیشت کو شدید مفلوج کرنے کی صلاحیت حاصل کر لے گا۔ واضح رہے کہ ایران اوپیک تنظیم میں تیل پیدا کرنے والا تیسرا بڑا ملک ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande