
بیروت،27مارچ(ہ س)۔لبنانی حکومت کے سربراہ نواف سلام نے اپنے ملک میں اسرائیل کے حالیہ اقدامات کی شدید مذمت کردی۔ انہوں نے اسرائیلی اقدامات کو لبنان کی خودمختاری، اس کی زمین کی سالمیت اور اس کے بیٹوں کے حقوق کے لیے خطرہ قرار دیا۔نواف سلام نے وزراءکی کونسل کے اجلاس کے بعد ایک بیان میں کہا کہ اسرائیلی وزیر دفاع یسرائیل کاٹز بار بار یہ دھمکی دیتے ہیں کہ اسرائیل لیطانی کے جنوبی علاقے پر قبضے کے لیے سرگرم ہے۔ وزیر خزانہ سموٹریچ لیطانی کے جنوبی علاقے کو اسرائیل میں ضم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کشیدگی کو بڑھا رہے ہیں۔ دونوں ہی معاملات بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل نے دریائے لیطانی پر واقع اکثر پلوں کو دھماکے سے اڑا دیا ہے تاکہ اس علاقے کو باقی لبنانی زمینوں سے الگ کردیا جائے۔ اس کے ساتھ لیطانی کے جنوب میں واقع شہروں اور دیہاتوں کے باشندوں کی بڑے پیمانے پر جبری ہجرت کا عمل اور زمینوں کو روزانہ ہڑپ کرنے، ان کے گھروں کو گرانے اور کبھی کبھار انہیں مکمل طور پر ہموار کرنے کا عمل جاری ہے گویا یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ شہری مستقبل قریب میں اپنے گھروں کو واپس نہیں آئیں گے۔نواف سلام نے ان اعمال اور اقوال کو، کسی بھی عنوان کے تحت مثلاً سکیورٹی بیلٹ یا بفر زون، ایک انتہائی خطرناک امر قرار دیا جو لبنان کی خودمختاری، اس کی زمین کی سالمیت اور اس کے بیٹوں کے حقوق کے لیے خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام بین الاقوامی قانون، بین الاقوامی انسانی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے بالکل منافی ہے۔لبنان کے وزیر اعظم نے کہا کہ ان کی حکومت خاموش نہیں رہے گی، کیونکہ وہ اس سلسلے میں سلامتی کونسل کے سامنے فوری طور پر شکایت درج کرانے کے عمل میں ہے۔ انہوں نے اسی مقصد کے لیے اقوام متحدہ کے ساتھ براہ راست رابطے کا اعلان کیا۔ ان کا یہ بیان اسرائیلی فوج کی جانب سے دریائے زہرانی کے جنوب میں رہنے والے باشندوں کو ایک فوری انتباہ جاری کرنے اور انہیں اپنے گھر خالی کرنے کی ترغیب دینے کے بعد سامنے آیا ہے۔اسرائیلی فوج کے ترجمان اویچائے ادرعی نے ایکس پر ایک پوسٹ کے ذریعے دریائے زہرانی کے جنوب میں موجود افراد سے شمال کی طرف (دریا کے شمال میں) جانے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ فوج اس علاقے می حزب اللہ کی سرگرمیوں کے خلاف بھرپور طریقے سے کام کر رہی ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ جو کوئی بھی حزب اللہ کے عناصر، اس کی تنصیبات یا اس کے جنگی ذرائع کے قریب موجود ہے وہ اپنی زندگی کو خطرے میں ڈال رہا ہے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ جنوب کی طرف کوئی بھی حرکت شہریوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔یاد رہے اسرائیلی فوج نے بار بار جنوبی لبنان میں ایک وسیع علاقے کے لیے انخلا کے انتباہات جاری کیے ہیں جس کی گہرائی چالیس کلومیٹر سے زیادہ ہے۔ اس نے دریائے لیطانی کے دونوں کناروں کو ملانے والے کئی پلوں کو تباہ کر دیا ہے۔ یہ انتباہ قبل ازیں جنوبی لبنان کے متفرق علاقوں کو نشانہ بنانے والے حملوں کے بعد سامنے آیا ہے۔یہ انتباہ حزب اللہ کے اس اعلان کے بعد بھی آیا ہے جس میں اس نے شمالی اسرائیل میں جھیل طبریہ کے مغرب میں پوریا بیس پر میزائل لانچنگ پیڈز، نیز صفد کے قریب دادو بیس اور بالائی جلیل میں شامیر بستی میں آرٹلری رجمنٹ بیس پر ڈرون حملے کرنے کا اعلان کیا تھا۔ حزب اللہ نے یہ بھی کہا کہ لبنانی سرحد کے قریب واقع اسرائیلی بستیوں کریات شمونہ، میتولا اور نہاریا پر مارٹر گولے فائر کیے گئے۔
یاد رہے اسرائیلی فوج نے 9 مارچ کو جنوبی لبنان میں ایک زمینی کارروائی شروع کی تھی جسے اس نے محدود قرار دیا تھا۔ اس کارروائی میں اسرائیلی فوج کئی سرحدی قصبوں میں داخل ہوئی۔ اسرائیلی افواج، جنہوں نے سن 2000 تک تقریباً دو دہائیوں تک جنوبی لبنان پر قبضہ کر رکھا تھا، نے کہا ہے کہ وہ ایک سکیورٹی زون پر کنٹرول حاصل کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں جو سرحد سے تقریباً 30 کلومیٹر دور واقع دریائے لیطانی تک پھیلا ہوا ہے۔اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے بدھ کو ایک ویڈیو بیان میں کہا تھا کہ ہم نے ایک حقیقی سکیورٹی زون بنایا ہے جو جلیل اور شمالی سرحد کی طرف کسی بھی دراندازی کو روکتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم اس زون کو وسیع کر رہے ہیں تاکہ اینٹی آرمر میزائلوں کے خطرے کو دور کیا جا سکے اور ایک وسیع بفر زون قائم کیا جا سکے۔ انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ حزب اللہ کو ختم کرنا اسرائیل کے اہداف کا مرکزی حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل لبنان میں صورتحال میں بنیادی تبدیلی لانے کے لیے پرعزم ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan