ایران میں افزودہ یوروینیم کو اپنے قبضہ میں لینے کیلئے 10 ہزار امریکی فوجی اور خودکش کشتیاں تیار
واشنگٹن،27مارچ(ہ س)۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سفارت کاری کو موقع دینے اور ممکنہ معاہدے تک پہنچنے کے لیے ایران کے ساتھ مذاکرات کی مہلت 6 اپریل تک بڑھانے کا اعلان کیا ہے، تاہم خطے میں امریکی فوجی نقل و حرکت کشیدگی کے خدشے کی نشان دہی کر رہی ہے۔امریکی
ایران میں افزودہ یوروینیم کو اپنے قبضہ میں لینے کیلئے 10 ہزار امریکی فوجی اور خودکش کشتیاں تیار


واشنگٹن،27مارچ(ہ س)۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سفارت کاری کو موقع دینے اور ممکنہ معاہدے تک پہنچنے کے لیے ایران کے ساتھ مذاکرات کی مہلت 6 اپریل تک بڑھانے کا اعلان کیا ہے، تاہم خطے میں امریکی فوجی نقل و حرکت کشیدگی کے خدشے کی نشان دہی کر رہی ہے۔امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگان) کے حکام کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے فوجی اختیارات کو وسعت دینے کی خاطر مشرق وسطیٰ میں مزید 10 ہزار فوجی بھیجنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ پینٹاگان نے پہلی بار ایران کے خلاف کارروائیوں میں خودکار ڈرون کشتیوں اور خودکش کشتیوں کے استعمال کی بھی تصدیق کی ہے۔ذرائع کے مطابق اگر سفارت کاری ناکام ہوتی ہے تو امریکی انتظامیہ ایران کے اندر اہداف کو کنٹرول کرنے کے لیے زمینی فوج کی تعیناتی کے منصوبوں پر غور کر رہی ہے۔ ان اختیارات میں ایران سے افزودہ یورینیم نکالنا اور جزیرہ خارگ پر کنٹرول حاصل کرنا شامل ہے، جہاں سے ایران کی 90 فی صد خام تیل کی برآمدات ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ ہرمز کے قریب دیگر تزویراتی جزائر پر قبضے یا فضائی حملوں کے ذریعے ایرانی تیل کی تنصیبات کو مکمل تباہ کرنے کی تجاویز بھی زیرِ بحث ہیں۔ وائٹ ہاو¿س کے حکام کا ماننا ہے کہ جزیرہ خارگ پر قبضے سے ایرانی پاسدارانِ انقلاب معاشی طور پر مفلوج ہو جائے گی، جو جنگ کے خاتمے کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی توانائی کی تنصیبات پر حملے 10 دن کے لیے روکنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ پاکستان، مصر اور ترکیہ جیسے ثالثوں کے ذریعے جاری مذاکرات کو کامیاب بنایا جا سکے۔ اس سے قبل ایران کو معاہدے کے لیے جمعہ کی شام تک کی مہلت دی گئی تھی۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ یہ توسیع ایرانی درخواست پر کی گئی، تاہم بعض ثالثوں کا کہنا ہے کہ ایران نے تاحال امریکی تجاویز پر حتمی جواب نہیں دیا۔ایران نے خیر سگالی کے طور پر پاکستانی پرچم والے تیل بردار جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے کی اجازت دی ہے، جسے ڈونلڈ ٹرمپ نے مذاکرات میں ایرانی سنجیدگی کی علامت قرار دیا ہے۔ پاکستان نے بھی تصدیق کی ہے کہ وہ امریکہ اور ایران کے درمیان بالواسطہ پیغامات کی ترسیل کا کردار ادا کر رہا ہے۔واضح رہے کہ 28 فروری سے ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان شروع ہونے والی یہ جنگ 28 ویں روز میں داخل ہو چکی ہے، جس سے عالمی معیشت اور خطے کی صورتحال پر شدید اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande