ایران معاہدے کےلئے بھیک مانگ رہا: ٹرمپ کا دعویٰ
واشنگٹن،27مارچ(ہ س)۔ایران کے ساتھ کشیدگی کے حوالے سے امریکی بیانات کا سلسلہ جاری ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فوجی دباو¿ جاری رکھنے پر زور دیا اور کہا ہے کہ ایران معاہدے کے لیے گڑگڑا رہا ہے۔امریکی مندوب سٹیو وٹکوف نے رابطوں کے راستے اور ایک معاہد
ایران معاہدے کےلئے بھیک مانگ رہا: ٹرمپ کا دعویٰ


واشنگٹن،27مارچ(ہ س)۔ایران کے ساتھ کشیدگی کے حوالے سے امریکی بیانات کا سلسلہ جاری ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فوجی دباو¿ جاری رکھنے پر زور دیا اور کہا ہے کہ ایران معاہدے کے لیے گڑگڑا رہا ہے۔امریکی مندوب سٹیو وٹکوف نے رابطوں کے راستے اور ایک معاہدے تک پہنچنے کے امکان سے وابستہ کوششوں کے بارے میں بات کی ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ نے ایران کی صلاحیتوں پر غیر معمولی طاقت سے ضرب لگائی ہے اور ایرانی میزائل، ڈرون اڈوں اور بحری جہازوں کو مکمل طور پر تباہ کرنے اور ایرانی بحری قوت کو مکمل طور پر ختم کردیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ واشنگٹن نے ایران کے بہت سے ڈرون اور میزائل کارخانے تباہ کر دیے ہیں۔ میزائل تیار کرنے کی صلاحیتوں کو بڑا نقصان پہنچایا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائیاں اپنے ٹائم ٹیبل سے بہت آگے ہیں۔

ٹرمپ نے زور دیا کہ ان کے ملک کے لڑاکا طیارے ایران کے آسمان میں جو چاہتے ہیں کر رہے ہیں۔ ایرانی ہمارے طیاروں کو نہیں گرا سکتے۔ انہوں نے مزید کہا کہ خامنہ ای کو دنیا کو اڑانے سے روکنا چاہیے تھا اور ہم نے وہ کر دیا۔ایمٹی معاملے کے حوالے سے ٹرمپ نے کہا کہ ایران ایٹمی ہتھیار سے چار ہفتے کی دوری پر تھا۔ انہوں نے کہا اگر امریکی حملے نہ ہوتے تو ایران ایٹمی ہتھیار رکھنے سے چار ہفتے کی دوری پر تھا۔ ایران کو اپنے ایٹمی عزائم کو قطعی طور پر ترک کرنا ہوگا۔ امریکی صدر نے کہا کہ ایرانی اب معاہدے کے لیے بھیک مانگ رہے ہیں۔ وہ معاہدہ چاہتے ہیں اور یہ چار ہفتے پہلے ہو جانا چاہیے تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران معاہدے کے لیے گڑگڑا رہا ہے، میں نہیں، ایرانی کہہ رہے ہیں کہ وہ مذاکرات نہیں کر رہے اور یہ سچ نہیں ہے، کیونکہ وہ ہم سے بات کر رہے ہیں۔انہوں نے سمجھا کہ ان کے پاس ڈیل کرنے کا موقع ہے اور ہم دیکھیں گے کہ کیا ہوتا ہے۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ مجھے نہیں معلوم کہ ہم ایران کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچیں گے یا نہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ہم کسی معاہدے تک نہیں پہنچتے تو امریکہ ایران پر بلا روک ٹوک بمباری جاری رکھے گا اور اگر ایران نے اپنے ایٹمی عزائم ترک نہ کیے تو ہم ایران کے لیے بدترین ڈراونا خواب بن جائیں گے۔

علاقائی معاملے میں گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایران نے خلیجی ممالک پر بمباری کی اور وہ مشرق وسطیٰ پر کنٹرول حاصل کرنا چاہتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ خلیجی ملکوں نے غیر جانبداری کا انتخاب کیا۔ اور یہ اس کے باوجود کیا کہ ایران نے ان کے خلاف حملے شروع کیے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم دیکھیں گے کہ ایران اور آبنائے ہرمز کھولنے کے بارے میں کیا ہوتا ہے۔ٹرمپ نے برطانیہ اور نیٹو کے موقف کو بھی تنقید کا نشانہ بنا ڈالا اور کہا اسے مایوس کن قرار دیا اور کہا کہ نیٹو کا اتحاد کاغذ کا شیر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم امریکہ کو تنہا چھوڑنے پر نیٹو کو نہیں بھولیں گے۔

علاوہ ازیں امریکی صدر نے کہا کہ ایران نے امریکہ کو بطور تحفہ 10 تیل بردار جہاز پیش کیے ہیں۔ انہوں نے اشارہ کیا کہ تہران کے ساتھ انتہائی اہم بات چیت جاری ہے۔ ایران نے نے خود کو پہنچنے والے بڑے نقصانات کے بعد مذاکرات کی درخواست کی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ان کا ملک ایران کو آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر فیس لگانے کی اجازت نہیں دے گا۔ انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ یہ معاملہ پہلے سے ہی ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے تیل پر قبضہ کرنا ایک آپشن ہے۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ خلیجی ممالک ایرانی میزائلوں کا نشانہ بنے، امریکی افواج ایران کے اندر مکمل آزادی کے ساتھ گھوم رہی ہیں۔ امریکی صدر نے کہا کہ انہیں تہران کے ساتھ معاہدہ کرنے کی کوئی پرواہ نہیں۔دوسری طرف وٹکوف نے کہا ہے کہ امریکہ نے آپریشن شروع ہونے سے پہلے ایران کے ساتھ سفارتی حل تک پہنچنے کی پوری کوشش کی تھی۔ مذاکرات کے دوران یہ ادراک ہوا کہ کسی معاہدے تک پہنچنے کا کوئی موقع نہیں ہے۔انہوں نے وضاحت کی کہ ایران نے اپنے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے تمام مطالبات کو واضح طور پر مسترد کر دیا اور ایرانی حکومت نے مذاکرات کاروں کو معاہدہ کرنے کا اختیار نہیں دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایرانیوں نے اس بات پر اصرار کیا اور افزودگی کو اپنا حق قرار دیا اور امریکی مطالبات کو مسترد کر دیا۔انہوں نے مزید کہا کہ ایران ایٹمی ہتھیاروں تک پہنچنے کے لیے وقت حاصل کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ دونوں فریق اس وقت پیغامات کا تبادلہ کر رہے ہیں۔ وٹکوف نے کہا ہم دیکھیں گے کہ ایرانیوں کے ساتھ معاملات کہاں جاتے ہیں۔ کسی معاہدے تک پہنچنے کے امکان کے اشارے موجود ہیں۔ ایران ٹرمپ کی دھمکیوں کے بعد نکلنے کا راستہ تلاش کر رہا ہے۔ انہوں نے ایران کو دوبارہ غلط اندازہ لگانے کے خلاف خبردار بھی کیا۔

دریں اثنا امریکی وزیر جنگ ہیگسیتھ نے کہا ہے کہ ہم نے ایرانی فوج کو تباہ کر دیا۔ ایران کے پاس 28 دن پہلے ایک فوج تھی اور اب اسے تباہ کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران میں فوجی آپریشن لامتناہی نہیں ہے۔ ایرانی بحریہ بغیر کمانڈر کے ہے۔ ایران کے پاس نہ ایٹمی ہتھیار ہیں اور نہ بحریہ۔ صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف سختی سے قدم اٹھایا، اور امریکی افواج نے ایرانی فضائی دفاعی نظام کو ختم کر دیا۔انہوں نے کہا ایران روزانہ بھاری نقصان اٹھا رہا ہے۔ ہیگسیتھ نے میڈیا کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور میڈیا کی ایران کے بارے میں رپورٹس کو جھوٹا قرار دے دیا۔ ہیگسیتھ نے زور دیا کہ معاہدے تک پہنچنے کا خیرمقدم کیا جائے گا۔ ایران کے ساتھ مذاکرات آگ اور بموں کے سائے میں جاری رہیں گے۔

اسی تناظر میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ایرانی فوج تباہ ہو چکی ہے۔ انہوں نے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کام کرنے کی تصدیق کی کہ ایران ایٹمی ہتھیار حاصل نہ کرے۔ اسی سیاق میں وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایران 47 سال سے امریکہ کے ساتھ حالت جنگ میں ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ بہت زیادہ کمزور ہو چکا ہے اور سفارت خانوں اور ہوٹلوں کے خلاف اس کے حملے مایوسی کی عکاسی کر رہے ہیں۔ روبیو نے مزید کہا کہ امریکہ ایران میں اپنے اہداف طے شدہ منصوبے کے مطابق حاصل کر رہی ہے۔ ایران کے خلاف آپریشن پلان کا ہر ہدف حاصل کر لیا گیا ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande