
حیدرآباد ، 26 مارچ (ہ س) ۔
بی آر ایس کے رکن اسمبلی سابق ریاستی وزیر ٹی ہریش راؤ نے وزیراعلی ریونت ریڈی کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں اسمبلی حلقہ سدی پیٹ سے مقابلہ کرنے کا چیلنج کیا ۔ آج ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ہریش راؤ نے کانگریس حکومت کی ناکامیوں پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ریاست کے عوام مایوس ہے ۔ حکومت عوامی اعتماد سے محروم ہوچکی ہے اور ریونت ریڈی دوبارہ وزیراعلی بننے کا خواب دیکھ رہے ہیں لیکن یہ ممکن نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں جب بھی انتخابات منعقد ہوں گے بی آر ایس بھاری اکثریت سے کامیاب ہوگی اور کے سی آر دوبارہ وزیراعلی بنیں گے ۔ ہریش راؤ نے کہا کہ وزیراعلی نے سدی پیٹ میں ایک جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے انہیں (ہریش راؤ) کو آئندہ شکست ہونے کا دعویٰ کیا ہے ۔ اس لیے وہ راست طور پر ریونت ریڈی کو چیلنج کررہے ہیں کسی اور کو مقابلے میں اتارنے کے بجائے بہادر ہیں تو خود ان کے خلاف وزیراعلی مقابلہ کریں ۔ بی آر ایس کے رکن اسمبلی نے الزام عائد کیا کہ ریونت ریڈی حکومت نے بی سی ۔ ایس سی ۔ ایس ٹی ۔ اقلیتوں اور کسانوں کو دھوکہ دیا ہے اور اپنے وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام رہی ہے جس کے باعث عوام میں ناراضگی بڑھ رہی ہے ۔ ہریش راؤ نے نئی حلقہ بندی اور خواتین کے لیے تحفظات کا خیر مقدم کیا ۔ تاہم انہوں نے کہا کہ نئی حد بندی سے بی آر ایس کو سیاسی فائدہ ہوگا ۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے جنوبی ریاستوں کو ممکنہ معاشی و سیاسی نقصان پر تشویش ظاہر کی ۔ خاص طور پر خاندانی منصوبہ بندی کے اثرات کے حوالے سے ہریش راؤ نے کہا کہ حد بندی کے عمل سے ریاست میں سیاسی منظر نامہ تبدیل ہوسکتا ہے اور بی آر ایس اس تبدیلی کے لیے پوری طرح تیار ہے ۔ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق