اے ایم یو کے استاد نے بین المذاہب مکالمہ پر اپنا مقالہ پیش کیا
علی گڑھ, 26 مارچ (ہ س)علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ دینیات سے وابستہ ڈاکٹر ریحان اختر نے جامعہ ملیہ اسلامیہ میں منعقدہ ایک قومی سمینار میں بین المذاہب مکالمہ کی عصری اہمیت پر اپنا تحقیقی مقالہ پیش کیا۔ اس پروگرام کو جامعہ ملیہ اسلامیہ کے مرکز برائ
ڈاکتر ریحان خطاب کرتے ہوئے


علی گڑھ, 26 مارچ (ہ س)علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ دینیات سے وابستہ ڈاکٹر ریحان اختر نے جامعہ ملیہ اسلامیہ میں منعقدہ ایک قومی سمینار میں بین المذاہب مکالمہ کی عصری اہمیت پر اپنا تحقیقی مقالہ پیش کیا۔ اس پروگرام کو جامعہ ملیہ اسلامیہ کے مرکز برائے مغربی ایشیائی مطالعات اور قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان (این سی پی یو ایل) نے مشترکہ طور سے منعقد کیا تھا۔

”آج کی دنیا میں بین المذاہب مکالمہ: ہندوستانی معاشروں کے خصوصی حوالے سے“کے عنوان پر پیش کیے گئے اس مقالے میں ڈاکٹر اختر نے ایک بڑھتی ہوئی منقسم عالمی فضا میں مکالمہ کی اہمیت پر زور دیا۔انہوں نے مختلف مذاہب کے درمیان بامعنی روابط کی فوری ضرورت اجاگر کی۔

ڈاکٹر اختر نے کہا کہ جدید دنیا تنوع سے عبارت ہے، جہاں مختلف مذاہب، ثقافتیں اور روایات ساتھ ساتھ موجود ہیں۔ ایسے ماحول میں انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بین المذاہب مکالمہ محض علمی بحث تک محدود نہ رہے بلکہ اسے امن، استحکام اور سماجی ہم آہنگی کے فروغ کا ایک مؤثر ذریعہ بنایا جائے۔ مکالمہ کی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کھلی، باوقار اور ہمدردانہ گفتگو غلط فہمیوں کو دور کر سکتی ہے اور مختلف برادریوں کے درمیان اعتماد کا ماحول قائم کر سکتی ہے۔ بڑھتی ہوئی عدم برداشت، انتہا پسندی اور سماجی انتشار کے دور میں انہوں نے مکالمہ کو ہم آہنگی اور اجتماعی ترقی کا ایک اہم وسیلہ قرار دیا۔

انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بین المذاہب مکالمہ تمام بڑے مذاہب کی اخلاقی تعلیمات میں رچا بسا ہے، جو ہمدردی، رواداری اور انسانی وقار جیسے اقدار کی تلقین کرتی ہیں۔ ان مشترکہ اصولوں کو باہمی افہام و تفہیم کی مضبوط بنیاد قرار دیا گیا۔ ہندوستان کے کثرت میں وحدت کے تصور کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک کی دیرینہ روایت اسے بین المذاہب ہم آہنگی کے لیے ایک موزوں ماحول فراہم کرتی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ڈیجیٹل عہد میں مکالمے کی کمی غلط معلومات اور انتشار کو فروغ دے سکتی ہے۔

---------------

ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ


 rajesh pande