نوی ممبئی میں فراڈ معاملہ، بلڈر کے خلاف اعلیٰ سطحی جانچ کا حکم
ممبئی ، 26 مارچ (ہ س) نوی ممبئی میں مکانات کی خریداری کے نام پر سیکڑوں افراد سے رقم لے کر مبینہ طور پر دھوکہ دہی کرنے والے تعمیراتی کاروباری کے خلاف اعلیٰ سطحی جانچ کا حکم دیا گیا ہے، جس پر رکن اسمبلی گوپی چند پڑلکر نے جمعرات کو وزیر اعلیٰ دیوین
Crime-Maha-Navi-Mumbai-Builder


ممبئی ، 26 مارچ (ہ س) نوی ممبئی میں مکانات کی خریداری کے نام پر سیکڑوں افراد سے رقم لے کر مبینہ طور پر دھوکہ دہی کرنے والے تعمیراتی کاروباری کے خلاف اعلیٰ سطحی جانچ کا حکم دیا گیا ہے، جس پر رکن اسمبلی گوپی چند پڑلکر نے جمعرات کو وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کا شکریہ ادا کیا۔

بی جے پی کے ریاستی دفتر میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پڑلکر نے کہا کہ انہوں نے اس معاملے میں سُو موٹو کارروائی کا مطالبہ کیا تھا، جسے وزیر اعلیٰ نے قبول کر لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب اس معاملے میں ملوث تمام افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی اور کسی کو بھی نہیں بخشا جائے گا۔

انہوں نے الزام لگایا کہ ڈی ڈی ایس آر گروپ کے تحت سچن موٹے نامی سرکاری افسر نے اپنے رشتہ داروں کے نام پر متعدد کمپنیاں رجسٹر کر کے نوی ممبئی میں تقریباً 20 عمارتوں کے پروجیکٹس شروع کیے اور اپنے عہدے کا غلط استعمال کرتے ہوئے سرکاری قوانین کی خلاف ورزی کی۔

پڑلکر کے مطابق اس کاروباری نے سیکڑوں غریب افراد سے فلیٹ بکنگ کے نام پر رقم وصول کر کے انہیں دھوکہ دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس معاملے کو اسمبلی میں اٹھانے کے بعد حکومت نے اس کی سنجیدگی کو سمجھتے ہوئے سینئر پولیس افسر، جو ایڈیشنل کمشنر سطح کے ہیں، کے ذریعے تفصیلی جانچ کا حکم دیا ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس گروپ نے سرمایہ کاروں کو رقم دگنی کرنے کا لالچ دے کر ہزاروں کروڑ روپے جمع کیے اور اس رقم سے نوی ممبئی میں کئی پلاٹس خریدے۔ اس کے علاوہ متاثرین کو مبینہ طور پر ویڈیوز کے ذریعے بلیک میل بھی کیا جاتا تھا۔

پڑلکر نے یہ بھی الزام لگایا کہ جی ایس ٹی اور اسٹامپ ڈیوٹی سے بچنے کے لیے سوسائٹیاں قائم کی گئیں اور اس عمل کے ذریعے سرکاری خزانے کو نقصان پہنچایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک منظم سازش تھی جس میں متعدد افراد شامل تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ستارا، شولاپور اور سانگلی کے سیکڑوں افراد، جنہوں نے ان پروجیکٹس میں سرمایہ کاری کی تھی، بھی دھوکہ دہی کا شکار ہوئے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے الزام لگایا کہ ملزم آئی آر ایس افسر کے طور پر لوگوں کو دھمکاتا بھی تھا۔

پڑلکر کے مطابق بینک افسران، سرکاری اہلکاروں، سڈکو حکام اور ایجنٹس پر مشتمل ایک ریکیٹ بھی اس معاملے میں شامل ہو سکتا ہے، جو ان عمارتوں پر قرض کی قسطیں وصول کر رہا تھا، حالانکہ تعمیراتی کام شروع بھی نہیں ہوا تھا۔ انہوں نے یقین دلایا کہ تقریباً 2000 کروڑ روپے کے اس فراڈ میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔

ہندوستھان سماچار

--------------------

ہندوستان سماچار / جاوید این اے


 rajesh pande