

ستنا، 20 مارچ (ہ س)۔
مدھیہ پردیش کے ستنا اور مہر کی ضلع عدالتوں کو زہریلی گیس کے بموں سے اڑانے کی دھمکی کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ معلومات ملنے کے بعد سیکورٹی ایجنسیاں سرگرم ہو گئی ہیں اور بم ڈسپوزل اسکواڈ اور ڈاگ اسکواڈ کی مدد سے جانچ شروع کر دی ہے۔
معلومات کے مطابق، ستنا کی ضلع عدالت کی آفیشل ای میل آئی ڈی پر جمعہ کی صبح ایک سنسنی خیز دھمکی آمیز میل موصول ہوا۔ میل میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ کورٹ اور جج کے دفاتر میں 15 زہریلی گیس کے بم لگائے گئے ہیں، جو دوپہر ایک بجے پھٹیں گے۔ پردھان ضلع و سیشن جج نے فوری نوٹس لیتے ہوئے کلکٹر اور پولیس سپرنٹنڈنٹ کو بم ڈسپوزل اسکواڈ بھیجنے اور ستنا سمیت میہر، امر پاٹن و دیگر تحصیل عدالتوں کی سیکورٹی جانچ کر کے رپورٹ سونپنے کی ہدایت دی۔
حکم کے تحت بم ڈسپوزل اسکواڈ اور ڈاگ اسکواڈ کو ضلع عدالت کے احاطے میں تعینات کیا گیا، ساتھ ہی ستنا کے علاوہ میہر، امر پاٹن اور دیگر تحصیل عدالتوں میں بھی وسیع سیکورٹی جانچ شروع کر دی گئی۔ پولیس اور سیکورٹی ایجنسیوں نے عدالت کے احاطوں کو عارضی طور پر خالی کرا کر گہری تلاشی مہم چلائی۔ مشکوک اشیاء کی جانچ کے لیے ہر کونے کو کھنگالا جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق، فی الحال کسی بھی قسم کے دھماکہ خیز مواد ملنے کی تصدیق نہیں ہوئی ہے، لیکن احتیاط کے طور پر سیکورٹی کے انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں۔
ستنا کے پولیس سپرنٹنڈنٹ ہنس راج سنگھ نے بتایا کہ دھمکی آمیز ای میل کی جانچ سائبر سیل کے ذریعے کی جا رہی ہے۔ میل بھیجنے والے کی شناخت اور لوکیشن ٹریس کرنے کی کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔ واقعے کے بعد عدالت کے احاطے میں سیکورٹی بڑھا دی گئی ہے اور تمام داخلی راستوں پر سخت نگرانی رکھی جا رہی ہے۔
وہیں انتظامیہ نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ وہ افواہوں پر دھیان نہ دیں اور کسی بھی مشکوک سرگرمی کی اطلاع فوری طور پر پولیس کو دیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال پوری طرح قابو میں ہے اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ٹیمیں مستعد ہیں۔ حالانکہ ابتدائی جانچ میں کسی طرح کے بم کورٹ احاطے میں نہیں ملے۔ اب پولیس میل کے سلسلے میں جانچ کر رہی ہے۔
بم سے کورٹ کو اڑانے کی دھمکی کا یہ پہلا معاملہ نہیں ہے۔ اس سے پہلے ریوا اور چھتیس گڑھ کی عدالتوں سمیت ملک کے کئی علاقوں میں اس طرح کی دھمکیاں مل چکی ہیں۔ پولیس اب یہ پتہ لگانے میں مصروف ہے کہ ای میل کہاں سے اور کس نے بھیجا ہے۔ پہلے بھی جو دھمکیاں ملی تھیں ان میں زہریلی گیس سے دھماکے کرنے کی بات کہی گئی تھی۔ خدشہ ہے کہ دہشت پھیلانے کے لیے کچھ لوگ عدالتوں کو اس طرح کے ای میل بھیج کر دھمکی دے رہے ہیں۔ پہلے بھی ملی اس طرح کی دھمکیوں کے بعد جب کورٹ احاطے کی جانچ کی گئی تو اس میں کوئی مشکوک سامان یا بم نہیں ملا تھا۔
دوسری جانب، ضلع بڑوانی میں بم سے اڑانے کی دھمکے کے بعد سیکورٹی کے پیش نظر عدالت کے احاطے میں ایک خصوصی ’موک ڈرل‘ منعقد کی گئی۔ اس دوران احتیاطاً آس پاس کی دکانیں بند کرا دی گئیں اور عام لوگوں کی آمد و رفت پر عارضی پابندی لگا دی گئی۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اس موک ڈرل کا مقصد کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے تیاریوں کا جائزہ لینا اور عوامی تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔ انتظامیہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ افواہوں پر کان نہ دیں اور صورتحال مکمل طور پر قابو میں ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن