
ناسک ، 20 مارچ (ہ س) ناسک میں جنسی استحصال کیس میں گرفتار خود ساختہ نیومرولوجسٹ کیپٹن اشوک کھارات کے خلاف اہم انکشاف سامنے آیا ہے کہ اس کا بھانڈا پھوڑنے میں اس کے اپنے دفتر کے ملازم نے کلیدی کردار ادا کیا۔ پولیس نے اس ملازم کو بھی گرفتار کر لیا۔
پولیس کے مطابق اشوک کھارات کو سنگین الزامات کے تحت بدھ، 18 مارچ 2026 کو ناشک کرائم برانچ یونٹ-1 نے گرفتار کیا تھا۔ اس پر گزشتہ 25 برسوں سے مختلف افراد، خصوصاً بااثر شخصیات کو نجومی خدمات کے نام پر دھوکہ دینے اور خواتین کے استحصال کے الزامات ہیں، جس کے بعد حکومت واڑہ پولیس اسٹیشن میں کیس درج کیا گیا تھا اور معاملہ منظر عام پر آنے کے بعد ہلچل مچ گئی تھی۔
تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ کھارات کے دفتر میں کام کرنے والے دھیرج جادھو، نے اس پورے معاملے کو بے نقاب کیا۔ پولیس کے مطابق اس کے خلاف پہلے بھی ایک مقدمہ درج تھا اور اب اسے بھی جمعہ، 20 مارچ کی دوپہر گرفتار کر لیا گیا ہے، جبکہ اس سے مزید پوچھ گچھ جاری ہے۔
ذرائع کے مطابق کھارات کے گھر سے دو لیپ ٹاپ بھی برآمد کیے گئے ہیں، جن سے مزید اہم معلومات سامنے آنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اس کیس کی تحقیقات کے لیے تشکیل دی گئی خصوصی تفتیشی ٹیم (ایس آئی ٹی) کی سربراہ تیجسونی ستپوتے ناشک پہنچ چکی ہیں اور انہوں نے کھارات سے تقریباً دو گھنٹے تک پوچھ گچھ کی ہے۔
ہندوستھان سماچار
--------------------
ہندوستان سماچار / جاوید این اے