
مغربی ایشیا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پر وزیراعظم مودی نے ایرانی صدر سے بات چیت کی، ہندوستانیوں کے تحفظ اور توانائی کی فراہمی پر زور
نئی دہلی، 13 مارچ (ہ س)۔ مغربی ایشیا میں بڑھتی کشیدگی اور خراب ہوتے حالات کے درمیان وزیراعظم نریندر مودی نے جمعرات کو ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے فون پر بات چیت کر کے خطے کی موجودہ صورتحال کا جائزہ لیا۔ اس دوران دونوں لیڈروں کے درمیان علاقائی سلامتی، بڑھتے ہوئے تنازعہ اور اس کے ممکنہ عالمی اثرات پر تبادلہ خیال ہوا۔
وزیراعظم مودی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر معلومات شیئر کرتے ہوئے کہا کہ مغربی ایشیا میں بڑھتے ہوئے تشدد، شہریوں کی موت اور بنیادی ڈھانچے کو ہونے والے نقصان کو لے کر ہندوستان گہری تشویش کا اظہار کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں بیرون ملک مقیم ہندوستانی شہریوں کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
وزیراعظم مودی نے بات چیت کے دوران یہ بھی واضح کیا کہ سامان اور توانائی کی بلاتعطل آمد و رفت ہندوستان کے لیے بے حد اہم ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر توانائی کی فراہمی یا تجارتی راستوں میں کسی قسم کی رکاوٹ آتی ہے تو اس کا اثر نہ صرف ہندوستان کی معیشت پر پڑے گا، بلکہ پورے خطے کا استحکام بھی متاثر ہو سکتا ہے۔
وزیراعظم نے تمام فریقوں سے تحمل برتنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ بحران کا حل صرف مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے تناو کم کرنے اور تعمیری بات چیت کو آگے بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا، تاکہ حالات مزید خراب نہ ہوں۔
ہندوستان اور ایران کے درمیان طویل عرصے سے گہرے ثقافتی، تاریخی اور اقتصادی تعلقات رہے ہیں۔ توانائی کا تعاون دونوں ممالک کے رشتوں کا اہم ستون رہا ہے۔ اس کے علاوہ چابہار پورٹ پروجیکٹ ہندوستان کے لیے وسطی ایشیا اور افغانستان تک تجارت اور رابطے کا ایک اہم اسٹریٹجک راستہ مانا جاتا ہے۔
وزیراعظم مودی کی یہ بات چیت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب مغربی ایشیا میں بڑھتے ہوئے جغرافیائی سیاسی تناو نے عالمی توانائی کی مارکیٹ، تجارتی راستوں اور تارکین وطن برادریوں کے تحفظ کے حوالے سے نئی تشویش پیدا کر دی ہے۔ ہندوستان ان حالات میں متوازن سفارت کاری کے ذریعے اپنے قومی مفادات اور علاقائی امن، دونوں کو برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ہندوستان مسلسل خطے میں امن، استحکام اور سفارتی حل کی وکالت کرتا رہا ہے۔ یہ اہم بھی ہے کیونکہ مغربی ایشیا میں عدم استحکام کا اثر ہندوستان کی توانائی کی سلامتی اور وہاں مقیم بڑی ہندوستانی برادری پر براہ راست پڑ سکتا ہے۔
ہندوستھان سماچار
---------------
ہندوستان سماچار / انظر حسن