ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملہ ہوا تو تیل اور گیس میں آگ لگا دی جائے گی، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کا دنیا کو انتباہ
ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملہ ہوا تو تیل اور گیس میں آگ لگا دی جائے گی، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کا دنیا کو انتباہ تہران، 13 مارچ (ہ س)۔ امریکہ-اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ کا آج 14واں دن ہے۔ اس جنگ کے شعلوں سے خطے میں موج
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے کمانڈر ان چیف بریگیڈیئر جنرل احمد وحیدی۔ فوٹو فائل: انٹرنیٹ میڈیا


ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے پر حملہ ہوا تو تیل اور گیس میں آگ لگا دی جائے گی، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کا دنیا کو انتباہ

تہران، 13 مارچ (ہ س)۔ امریکہ-اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ کا آج 14واں دن ہے۔ اس جنگ کے شعلوں سے خطے میں موجود ’’تیل اور گیس‘‘ کے ذخائر پر خطرے کے بادل منڈلانے لگے ہیں۔ ایران کے سب سے طاقتور سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے آج انتباہ دیا کہ اگر ملک کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور بندرگاہوں پر حملہ کیا جاتا ہے تو وہ اس خطے کے تیل اور گیس کو آگ کے حوالے کر دے گا۔

سی این این کی رپورٹ کے مطابق، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے دو ٹوک کہا کہ اگر ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور بندرگاہوں پر حملہ کیا گیا تو وہ اس خطے کے تمام تیل اور گیس کے ذخائر میں آگ لگا دے گا۔ سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے اس انتباہ سے پہلے جمعرات کو اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر نے کہا تھا کہ ایران آبنائے ہرمز (ہرمز اسٹریٹ) کو بند نہیں کرے گا۔ اس سے پہلے حال ہی میں ایران کے سپریم لیڈر منتخب ہوئے مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے پہلے عوامی بیان میں کہا کہ یہ آبی گزرگاہ ’’دباو کے ایک ہتھیار‘‘ کے طور پر بند رہے گی۔

مجتبیٰ کا بیان اس لیے اہم ہے کہ اسرائیل کے وزیراعظم بنجامن نتن یاہو نے جمعرات کو کہا کہ ایران کے نئے سپریم لیڈر، آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای عوامی طور پر اپنا چہرہ نہیں دکھا سکتے۔ وہ 28 فروری کے حملے میں بری طرح زخمی ہو چکے ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای کے بیان کو سرکاری ٹی وی میں کسی اور سے پڑھوایا گیا۔ سپریم لیڈر کا چہرہ نہیں دکھایا گیا۔

سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کو ایران کی فوج کی سب سے طاقتور اور مخصوص شاخ مانا جاتا ہے۔ 1979 کی اسلامی انقلاب کے بعد ملک کے اسلامی نظام کے تحفظ کے لیے اس کا قیام عمل میں لایا گیا تھا۔ یہ تنظیم صرف ایک فوجی قوت نہیں ہے، بلکہ ایران کی سیاست، معیشت اور خارجہ پالیسی میں بھی گہرا اثر رکھتی ہے۔ ایران میں دو طرح کی فوج ہے۔ پہلی باقاعدہ فوج ہے، اسے آرٹیش کہا جاتا ہے، یہ عام طور پر سرحدوں کی حفاظت کرتی ہے۔ دوسری سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی ہے، یہ بنیادی طور پر اقتدار اور انقلاب کے تحفظ کی ذمہ دار ہے۔ یہ تنظیم براہ راست ایران کے سپریم لیڈر (اعلیٰ ترین رہنما) کے سامنے جوابدہ ہے، نہ کہ منتخب حکومت کے سامنے۔

سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے پاس اپنی زمینی فوج، بحریہ اور فضائیہ ہے۔ اس کی دو اہم مخصوص شاخیں ہیں۔ پہلی قدس فورس اور دوسری بسیج۔ قدس فورس بیرون ملک ایران کی مہمات اور ملیشیا گروہوں (جیسے حزب اللہ اور حماس) کی حمایت کرتی ہے۔ بسیج نیم فوجی رضاکار فورس ہے، اس کا استعمال ملک کے اندر احتجاجی مظاہروں کو دبانے اور سکیورٹی برقرار رکھنے کے لیے کیا جاتا ہے۔ 29 جنوری 2026 کو یورپی یونین اسے دہشت گرد تنظیم قرار دے چکی ہے۔ اس سے پہلے امریکہ بھی اسے دہشت گرد گروہ قرار دے چکا تھا۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande