اتم نگر واقعہ سے متعلق سوشل میڈیا پر افواہیں پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی، 37 لاکھ روپے رکھنے والے مشکوک بینک اکاونٹ منجمد
نئی دہلی، 13 مارچ (ہ س)۔ دوارکا ضلع پولیس نے حال ہی میں اتم نگر میں ترون کمار کے قتل کے سلسلے میں سوشل میڈیا پر گمراہ کن اور اشتعال انگیز مواد پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی شروع کی ہے۔ پولیس نے ایسے کئی سوشل میڈیا اکاو¿نٹس کی نشاندہی کی ہے اور ا
اتم نگر واقعہ سے متعلق سوشل میڈیا پر افواہیں پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی، 37 لاکھ روپے رکھنے والے مشکوک بینک اکاونٹ منجمد


نئی دہلی، 13 مارچ (ہ س)۔ دوارکا ضلع پولیس نے حال ہی میں اتم نگر میں ترون کمار کے قتل کے سلسلے میں سوشل میڈیا پر گمراہ کن اور اشتعال انگیز مواد پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی شروع کی ہے۔ پولیس نے ایسے کئی سوشل میڈیا اکاو¿نٹس کی نشاندہی کی ہے اور انہیں ہٹانے کی کارروائی شروع کردی ہے۔ ملوث افراد کے خلاف قانونی کارروائی بھی کی جا رہی ہے۔

دوارکا ضلع کے ڈپٹی کمشنر آف پولیس کشال پال سنگھ نے جمعہ کو کہا کہ کچھ لوگ اس واقعہ کے حوالے سے سوشل میڈیا پر غیر تصدیق شدہ اور گمراہ کن معلومات پھیلا کر ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے پولیس نے مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ساتھ تال میل کیا اور ایسے اکاو¿نٹس کے خلاف کارروائی شروع کی۔

پولیس نے اب تک 14 مواد ہٹانے کی درخواستیں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ اور 8 انسٹاگرام کو آئی ٹی ایکٹ کی دفعہ 79(3)(بی) کے تحت بھیجی ہیں، تاکہ اشتعال انگیز اور گمراہ کن مواد کو فوری طور پر ہٹایا جائے۔تحقیقات کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ کچھ لوگ اس واقعے سے متعلق جھوٹی خبریں پھیلا کر عوام سے مالی امداد حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ 10 مارچ کو، ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں عوام سے مالی امداد کے لیے ایک کیو آر کوڈ استعمال کیا گیا تھا۔

پولیس کی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ اس مشکوک بینک اکاو¿نٹ میں گزشتہ دو دنوں کے دوران تقریباً 3.7 ملین روپے جمع کرائے گئے تھے۔ ممکنہ دھوکہ دہی کے پیش نظر، متعلقہ بینک برانچ منیجر کو اکاو¿نٹ میں تمام لین دین کو روکنے اور ڈپازٹس کو منجمد کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ڈپٹی کمشنر آف پولیس کشال پال سنگھ نے کہا کہ سوشل میڈیا پر غیر تصدیق شدہ یا غلط معلومات پھیلانا قابل سزا جرم ہے۔ ایسے واقعات میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے عوام سے بھی اپیل کی کہ وہ بغیر تصدیق کے کسی بھی خبر یا پیغام کو شیئر نہ کریں، تاکہ افواہوں سے عوامی امن میں خلل نہ پڑے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Mohammad Khan


 rajesh pande