پکوان گیس کی قلت ‘ سلینڈرس کی بلیک مارکٹنگ میں اضافہ
حیدرآباد،13 مارچ (ہ س) ۔ ملک میں پکوان گیس کی قلت سے پیدا ہونے والے مسائل نے سیلنڈر کی بلیک مارکٹنگ کو فروغ دینے کے علاوہ پکوان کے متبادل کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ کردیا ہے۔ دونوں شہروں میں نئی ٹیکنالوجی سے آراستہ انڈکشن چولہوں کی قیمت میں اچان
پکوان گیس کی قلت ‘ سلینڈرس کی بلیک مارکٹنگ میں اضافہ


حیدرآباد،13 مارچ (ہ س) ۔ ملک میں پکوان گیس کی قلت سے پیدا ہونے والے مسائل نے سیلنڈر کی بلیک مارکٹنگ کو فروغ دینے کے علاوہ پکوان کے متبادل کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ کردیا ہے۔ دونوں شہروں میں نئی ٹیکنالوجی سے آراستہ انڈکشن چولہوں کی قیمت میں اچانک اضافہ ہونے لگا ہے جبکہ لکڑی کی قیمتوں میں بھی 300 روپئے فی کنٹل تک اضافہ کیا جا رہاہے۔ بجلی چولہوں کی قیمتوں میں جو اضافہ ہو رہاہے وہ نا قابل یقین ہے۔ پکوان گیس کی قلت کے سبب بلیک مارکٹنگ سے گھریلو استعمال کے پکوان گیس سیلنڈر کی قیمتیں 1700 تا 2000 ریکارڈ کی جانے لگی ہیں جبکہ کمرشیل گیس سیلنڈر کی قیمت میں بھاری اضافہ کے بعد بھی بلیک مارکٹ میں یہ قیمتیں 3500 تا3800تک پہنچ چکی ہیں جو تجارتی مقاصد کیلئے پکوان گیس استعمال کرنے والوں کی مجبوری بن چکی ہے۔پکوان گیس ڈیلرس کا کہناہے کہ وہ راست کسی طرح کی کالابازاری میں ملوث نہیں ہیں بلکہ ان سے معمول کے مطابق قیمتوں میں حاصل گیس سیلنڈر حاصل کرنے والوں کی جانب سے ہی کالابازاری کی جانے لگی ہے۔ کمرشیل گیس ڈیلرس کا دعویٰ ہے کہ ہاسٹلس اور پی جی گیسٹ ہاؤز جنہیں گیس سربراہ کی جاتی ہے انہیں معمول کے مطابق گیس سربراہ کی گئی لیکن ان صارفین نے بھاری قیمتوں میں ہوٹل اورریستوراں مالکین کو کمرشیل گیاس سیلنڈرس فروخت کئے ہیں اسی لئے ڈیلرس کسی کو جوابدہ نہیں ہیں۔ شہر میں گھریلو صارفین کو پکوان گیس کی قلت کی ابھی شکایات موصول نہیں ہوئی ہیں لیکن گیس ایجنسیوں سے بکنگ کے نمبرات کو مکمل بند کردیا گیا اوردریافت کرنے پرکہاجا رہا ہے کہ تکنیکی خرابی کے سبب آن لائن بکنگ حاصل کرنے سے قاصر ہیں اسی لئے موبائل بندرکھے گئے ہیں۔ شہر کے مختلف علاقوں میں ایجنسیوں کے ذمہ داروں کا کہناہے کہ ان کے گیس گھریلو پکوان گیاس سیلنڈرس کا جو اسٹاک موجود ہے وہ ختم ہونے تک قلت کے امکانات نہیں ہے لیکن شہریوں کی جانب سے خوف کے عالم میں سیلنڈر اکٹھا کئے جا رہے ہیں اس کے سبب قلت کا خدشہ ہے۔ بتایا گیا کہ شہر کے کئی علاقوں میں شہری معمول سے زیادہ قیمت ادا کرکے گیس سیلنڈر حاصل کر رہے ہیں تاکہ عین عید سے قبل کسی قلت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ۔ ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمدعبدالخالق


 rajesh pande