مدھیہ پردیش میں اسٹاف نرس بھرتی پر سوال، ہزاروں اسامیاں خالی ہونے کے باوجود صرف 7 پر بھرتی، این ایس یو آئی کی امیدواروں سے بھرتی کے بائیکاٹ کی اپیل
مدھیہ پردیش میں اسٹاف نرس بھرتی پر سوال، ہزاروں اسامیاں خالی ہونے کے باوجود صرف 7 پر بھرتی، این ایس یو آئی کی امیدواروں سے بھرتی کے بائیکاٹ کی اپیل بھوپال، 13 مارچ (ہ س)۔ مدھیہ پردیش میں نرسنگ گھوٹالے کے بعد پہلے سے ہی دباو میں چل رہے صحت کے نظ
این ایس یو آئی کے صوبائی نائب صدر روی پرمار


مدھیہ پردیش میں اسٹاف نرس بھرتی پر سوال، ہزاروں اسامیاں خالی ہونے کے باوجود صرف 7 پر بھرتی، این ایس یو آئی کی امیدواروں سے بھرتی کے بائیکاٹ کی اپیل

بھوپال، 13 مارچ (ہ س)۔

مدھیہ پردیش میں نرسنگ گھوٹالے کے بعد پہلے سے ہی دباو میں چل رہے صحت کے نظام کو لے کر ایک بار پھر سوال کھڑے ہو گئے ہیں۔ ریاست کے سرکاری اسپتالوں اور صحت کے مراکز میں طویل عرصے سے ہزاروں اسٹاف نرسوں کی اسامیاں خالی پڑی ہیں، جس کی وجہ سے مریضوں کو مناسب طبی خدمات نہیں مل پا رہی ہیں۔ ایسے میں ریاستی حکومت کی جانب سے حال ہی میں جاری کردہ اسٹاف نرس بھرتی کے عمل نے امیدواروں اور تنظیموں میں ناراضگی پیدا کر دی ہے۔

این ایس یو آئی کے صوبائی نائب صدر روی پرمار نے جمعہ کو نائب وزیراعلیٰ اور محکمہ صحت کی ذمہ داری سنبھال رہے راجیندر شکلا پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ ریاست کے ہزاروں رجسٹرڈ نرسنگ امیدواروں کے ساتھ ناانصافی کی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مدھیہ پردیش ملازمین کے انتخاب کے بورڈ (ایم پی ای بی) کے ذریعے اعلان کردہ اس نام نہاد ’’بمپر بھرتی‘‘ میں پوری ریاست کے لیے صرف 7 اسامیوں پر بھرتی کا اشتہار جاری کیا گیا ہے، جبکہ حقیقت میں ریاست میں ہزاروں اسامیاں خالی ہیں۔

وہیں، بھوپال این ایس یو آئی کے ضلع صدر اکشے تومر نے کہا کہ بی جے پی حکومت کی جانب سے محدود اسامیوں پر بھرتی نکالنا اور اس میں ریزرویشن صفر رکھنا نوجوانوں کے ساتھ ناانصافی ہے۔ انہوں نے اسے ریاست کی طبی خدمات کو مزید کمزور کرنے والا فیصلہ قرار دیا۔

این ایس یو آئی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ریاست میں اسٹاف نرسوں کی خالی اسامیوں کا حقیقی اعداد و شمار عام کیا جائے۔ شفاف طریقے سے بڑے پیمانے پر ہزاروں اسامیوں پر باقاعدہ بھرتی نکالی جائے۔ دستور کے مطابق ریزرویشن کے نظام پر مکمل عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔

روی پرمار نے مدھیہ پردیش کے تمام رجسٹرڈ نرسنگ امیدواروں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ جب تک حکومت اسامیوں کی تعداد اور ریزرویشن کے نظام کو منصفانہ طریقے سے نافذ نہیں کرتی، تب تک اس بھرتی کے عمل کا پرامن اور جمہوری طریقے سے بائیکاٹ کیا جائے۔ انہوں نے انتباہ دیا کہ اگر حکومت نے جلد ہی اس فیصلے میں ترمیم نہیں کی تو نوجوانوں کے مستقبل اور ریاست کے نظامِ صحت کے معاملے پر بڑے پیمانے پر عوامی تحریک چلائی جائے گی۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande