اسٹاک مارکیٹ میں ایلفن ایگرو معمولی پریمیم کے ساتھ داخل ہوا، آئی پی او سرمایہ کار منافع میں رہے
نئی دہلی، 12 مارچ (ہ س)۔ آٹا، سوجی، ریفائنڈ آٹا،اور پیلے سرسوں کے تیل کے کاروبار میں مصروف کمپنی ایلفن ایگرو انڈیا کے حصص آج علامتی پریمیم کے ساتھ اسٹاک مارکیٹ میں داخل ہوئے۔ آئی پی او کے تحت کمپنی کے شیئر 47 کی قیمت پر جاری کیے گئے ۔ آج،بی ایس ای
IPO-Listing-Elfin-Agro


نئی دہلی، 12 مارچ (ہ س)۔ آٹا، سوجی، ریفائنڈ آٹا،اور پیلے سرسوں کے تیل کے کاروبار میں مصروف کمپنی ایلفن ایگرو انڈیا کے حصص آج علامتی پریمیم کے ساتھ اسٹاک مارکیٹ میں داخل ہوئے۔ آئی پی او کے تحت کمپنی کے شیئر 47 کی قیمت پر جاری کیے گئے ۔ آج،بی ایس ای کے ایم ایس ای پلیٹ فارم پر اس کی لسٹنگ صرف 30پیسے یعنی 0.64 فیصد پریمیم کے ساتھ 47.30 روپے کی سطح پرہوئی۔ لسٹنگ کے بعد، خریداری کی حمایت سےیہ شیئر 48.05 روپے تک پہنچا، لیکن اس کے بعد منافع وصولی شروع ہونے کی وجہ سے اس کی حرکت میں معمولی کمی واقع ہوئی۔ صبح 11 بجے تک، کمپنی کے حصص 47.34 روپے کی سطح پر کاروبار کر رہے تھے۔ اسی طرح، اب تک کے کاروبار کے بعد، کمپنی کے آئی پی او سرمایہ کاروں کو 0.72 فیصد کا معمولی فائدہ ہوا ہے۔

ایلفن ایگرو انڈیا کا 25.03 کروڑ روپے کا آئی پی او 5 مارچ سے 9 مارچ کے درمیان سبسکرپشن کے لیے کھلا تھا۔ اس آئی پی او کو سرمایہ کاروں کی جانب سے متو سط ردعمل حاصل ہوا، جس کی وجہ سے یہ 1.35گنا سبسکرائب ہو سکا تھا۔ ان میں سے، غیر ادارہ جاتی سرمایہ کاروں (این آئی آئی ) کے لیے مختص حصہ 2.12 گنا سبسکرائب کیا گیا۔ اسی طرح خوردہ سرمایہ کاروں کے لیے مختص حصہ صرف 0.59 بار سبسکرائب ہو سکا تھا۔ اس آئی پی او کے تحت، 5 روپے کی فیس ویلیو والے 53.25 لاکھ نئے شیئرز جاری کیے گئے ہیں۔ کمپنی آئی پی او کے ذریعے جمع ہونے والے فنڈز کو ورکنگ کیپیٹل کی ضروریات کو پورا کرنے اور عام کارپوریٹ مقاصد کے لیے استعمال کرے گی۔

کمپنی کی مالی حالت کے بارے میں بات کریں تو کیپٹل مارکیٹ ریگولیٹر سیبی کو پیش کیے گئے ڈرافٹ ریڈ ہیرنگ پراسپیکٹس (ڈی آر ایچ پی ) میں کئے گئے دعوے کے مطابق ،اس کی مالی صحت مسلسل مضبوط ہو رہی ہے۔ مالی سال 2022-23 میں، کمپنی کا خالص منافع 1.81 کروڑ روپے تھا، جو اگلے مالی سال 2023-24 میں بڑھ کر 3.68 کروڑ روپے ہو گیا۔ اگلے مالی سال 2024-25 میں کمپنی کا خالص منافع 5.08 کروڑ روپے تک پہنچ گیا۔ موجودہ مالی سال میں، اپریل سے 31 دسمبر 2025 تک، کمپنی کو 3.98 کروڑ روپے کا خالص منافع ہو چکا ہے۔

اس دوران کمپنی کی آمدنی میں بھی اضافہ ہوا۔ مالی سال 2022-23 میں، اس نے 101.45 روپے کروڑ کی کل آمدنی حاصل کی، جو مالی سال 2023-24 میں بڑھ کر 124.71 کروڑ روپے ہو گئی اور مالی سال 2024-25 میں مزید بڑھ کر 146.44 کروڑ روپے ہو گئی۔ رواں مالی سال میں، اپریل سے 31 دسمبر، 2025 تک، کمپنی نے 117.72 کروڑ روپے کی آمدنی حاصل کی ہے۔

اس دوران کمپنی کے قرضوں کا بوجھ بڑھتا رہا۔ مالی سال 2022-23 کے اختتام پر، کمپنی پر 7.23 کروڑ روپے کا قرض تھا، جو مالی سال 2023-24 میں بڑھ کر 7.60 کروڑ روپے اور مالی سال 2024-25 میں مزید 12.19 کروڑ روپے ہو گیا۔ موجودہ مالی سال میں، 31 دسمبر، 2025 تک، کمپنی کے قرضوں کا بوجھ بڑھ کر 12.69 کروڑ روپے ہو گیا تھا۔

اس عرصے کے دوران، کمپنی کے ذخائر اور سرپلس میں اتار چڑھاو¿ ہوتا رہا۔ مالی سال 2022-23 میں، یہ 3.61 کروڑ روپے کی سطح پر تھے، جو 2023-24 میں بڑھ کر 7.29 کروڑ روپے ہو گئے۔ اسی طرح، 2024-25 میں، کمپنی کے ذخائر اور سرپلس قدرے کم ہو کر 6.73 کروڑ روپے رہ گئے۔ موجودہ مالی سال میں، وہ 31 دسمبر 2025 تک 10.71 کروڑ روپے تک پہنچ گئے۔

اسی طرح، ای بی آئی ٹی ڈی اے (سود، ٹیکس، فرسودگی اور معافی سے پہلے کی آمدنی) 2022-23 میں 3.11کروڑ روپے کی سطح پر تھا، جو 2023-24 میں بڑھ کر5.82کروڑ روپے ہوگیا۔ اسی طرح، کمپنی کاای بی آئی ٹی ڈی اے 2024-25 میں 7.54 کروڑ روپے کی سطح تک پہنچ گیا۔ موجودہ مالی سال میں، یہ 31 دسمبر 2025 تک 6.68کروڑ روپے کی سطح پر رہا۔

ہندوستھا ن سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande