
نئی دہلی،11مارچ(ہ س)۔ جماعت اسلامی ہند دہلی حلقہ کے زیر اہتمام میڈیا اور صحافت کی تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کے لیے میڈیا اسکالرشپ پروگرام 2025–26 منعقد کیا گیا، جس میں41 منتخب طلبا و طالبات کو اسکالرشپ فراہم کی گئی۔ جماعت اسلامی ہند دہلی کے معاون میڈیا سکریٹری محمد ارشاد عالم فلاحی نے افتتاحی خطاب میں بتایا کہ اس پروگرام کا مقصد میڈیا اور صحافت کے میدان میں تعلیم حاصل کرنے والے باصلاحیت اور ضرورت مند طلبہ کی حوصلہ افزائی کرنا اور انہیں رہنمائی فراہم کرنا ہے۔
پروگرام کے دوران “ذمہ دارانہ صحافت اور موجودہ چیلنج” کے عنوان سے ایک انٹرایکٹو سیشن منعقد ہوا جس میں طلبہ نے بھرپور دلچسپی کے ساتھ شرکت کی۔ اس موقع پر معروف صحافی جناب اقبال احمد (بی بی سی) نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صحافت ایک نہایت ذمہ دارانہ شعبہ ہے اور اس میں آنے والے نوجوانوں کو صبر، تحمل اور برداشت جیسی صفات اپنے اندر پیدا کرنی ہوں گی۔ انہوں نے طلبہ کو مشورہ دیا کہ انہیں مین اسٹریم میڈیا میں جگہ بنانے کی سنجیدہ کوشش کرنی چاہیے اور اس کے لیے علمی تیاری اور مستقل مزاجی بہت ضروری ہے۔ اقبال احمد نے مزید کہا کہ ایک کامیاب صحافی کے لیے مسلسل مطالعہ انتہائی ضروری ہے۔ انہوں نے طلبہ کو تاکید کی کہ وہ تاریخ، جغرافیہ، جمہوریت اور سیاسی نظام جیسے موضوعات کی بنیادی معلومات حاصل کریں اور روزانہ کچھ نہ کچھ مطالعہ کرتے رہیں، کیونکہ علم اور معلومات ہی ایک صحافی کی اصل طاقت ہوتی ہے۔اس موقع پر سینئر صحافی اور آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ترجمان جناب سید قاسم رسول الیاس نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا معاشرے میں رائے عامہ کی تشکیل کا ایک مو¿ثر ذریعہ ہے، اس لیے اس میدان میں آنے والوں کو دیانت داری، سچائی اور ذمہ داری کو اپنا اصول بنانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ صحافت کو صرف پیشہ کے طور پر نہیں بلکہ ایک سماجی ذمہ داری اور امانت کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے تاکہ معاشرے کے حقیقی مسائل اور محروم طبقات کی آواز کو صحیح انداز میں سامنے لایا جا سکے۔
اختتامی خطاب میں جناب سلیم اللہ خان (امیر حلقہ، جماعت اسلامی ہند، دہلی) نے کہا کہ میڈیا اسکالرشپ کا مقصد ایسے نوجوان صحافیوں کی تیاری ہے جو حق و صداقت کے ساتھ میڈیا کے میدان میں آگے بڑھیں اور معاشرے کی صحیح ترجمانی کریں۔
زاہد حسین (سیکرٹری حلقہ) نے پروگرام کے آخر میں اظہار تشکر پیش کرتے ہوئے کہا کہ جماعت اسلامی ہند کا مقصد صرف اسکالرشپ فراہم کرنا نہیں بلکہ طلبہ کی علمی اور فکری رہنمائی بھی کرنا ہے۔ انہوں نے طلبہ کو نصیحت کی کہ وہ اپنی تعلیم کے ساتھ ساتھ سماج کے مسائل کو سمجھنے کی کوشش کریں اور میڈیا کے ذریعے مثبت اور تعمیری کردار ادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ اگر نوجوان صحافی دیانت داری اور ذمہ داری کے ساتھ کام کریں تو میڈیا معاشرے میں بڑی مثبت تبدیلی لا سکتا ہے۔پروگرام کے اختتام پر میڈیا کی تعلیم حاصل کرنے والے منتخب طلبہ کو میڈیا اسکالرشپ فراہم کی گئی۔ اس موقع پر طلبہ اور مقررین کے درمیان سوال و جواب کا سیشن بھی ہوا جس میں صحافت کے مختلف پہلوو¿ں پر مفید گفتگو کی گئی۔ پروگرام نے نوجوان صحافیوں کو حوصلہ اور رہنمائی فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ واضح رہے کہ رواں میقات میں اسکالر شپ کے موصولہ 123 درخواستوں میں سے انٹرویوز کے بعد 41 طلبا و طالبات کو اسکالرشپ کے لیے منتخب کیا گیا تھا۔ پروگرام کا اختتام افطار و طعام پر ہوا۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Md Owais Owais