اے ایم یو کے ہادی حسن ہال میں سالانہ فیسٹیول کے تحت ادبی و ثقافتی تقریبات کا اہتمام
علی گڑھ, 11 مارچ (ہ س)علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ہادی حسن ہال میں سالانہ ہال فیسٹیول ’ابتہاج‘کے تحت ادبی تقریبات منعقد کی گئیں۔ ”سبھی کے لئے اے آئی: خواب اور حقیقت کے درمیان خلاء کا خاتمہ“ عنوان پر مبنی اس ادبی میلے کا آغاز کوئز مقابلے سے ہوا، جس
ہادی حسن تقریب


علی گڑھ, 11 مارچ (ہ س)علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ہادی حسن ہال میں سالانہ ہال فیسٹیول ’ابتہاج‘کے تحت ادبی تقریبات منعقد کی گئیں۔

”سبھی کے لئے اے آئی: خواب اور حقیقت کے درمیان خلاء کا خاتمہ“ عنوان پر مبنی اس ادبی میلے کا آغاز کوئز مقابلے سے ہوا، جس میں مختلف شعبہ ہائے تعلیم سے تعلق رکھنے والے 20 سے زائد طلبہ نے حصہ لیا۔ کوئز میں مصنوعی ذہانت کی تاریخ کے اہم مراحل، حالیہ ترقیات اور اس کے بنیادی تصورات سے متعلق سوالات شامل تھے۔ اس مقابلے میں مصباح اور فائق پر مشتمل ٹیم نے پہلا مقام حاصل کیا، جبکہ عدیان دوسرے نمبر پر رہے۔

مضمون نویسی مقابلہ کا عنوان تھا: ریسرچ لیب سے دیہی کمیونٹیز تک، اے آئی اختراع کا سماجی اثر۔ اس میں انعم نے پہلا مقام اور بھاونا نے دوسرا مقام حاصل کیا۔

اس کے ساتھ ہی ’فروزاں‘کے عنوان سے سہ لسانی ڈبیٹ منعقد کیا گیا جس کا موضوع تھا:انسانی ذہانت مصنوعی ذہانت پر ہمیشہ غالب رہے گی۔ اس ڈبیٹ میں 15 سے زائد طلبہ نے اپنے فکر انگیز دلائل پیش کیے۔ اس میں صالحہ نے پہلا مقام اور حاشر نے دوسرا مقام حاصل کیا۔

انٹرڈسپلنری سینٹر فار آرٹیفیشل انٹیلی جنس کے کوآرڈینیٹر پروفیسر راشد علی اور علامہ اقبال بورڈنگ ہاؤس کے سابق وارڈن انچارج مسٹر غفران احمد مقابلے کے جج تھے۔

پروفیسر راشد علی نے اس موقع پر اظہا ر خیال کرتے ہوئے تاریخ، معاشیات، کھیل، قانون اور طبی علوم سمیت مختلف شعبوں میں مصنوعی ذہانت کی بڑھتی ہوئی اہمیت پر روشنی ڈالی اور اس بامعنی اور دلچسپ پروگرام کے کامیاب انعقاد پر منتظمین کو مبارکباد پیش کی۔

مسٹر غفران احمد نے کہا کہ مصنوعی ذہانت کے مقابلے میں بالآخر انسانی ذہانت ہی غالب آئے گی، تاہم اس کے فوائد سے بھرپور استفادہ کے لیے لوگوں کا اے آئی سے واقف ہونا ضروری ہے۔ انہوں نے مقررین کے مواد، تخلیقی انداز اور پیشکش کو بھی سراہا۔

ہادی حسن ہال کی لٹریری سوسائٹی کے انچارج پروفیسر شاہ محمد عباس وسیم نے کہا کہ موجودہ دور میں صرف مصنوعی ذہانت پر گفتگو کرنا کافی نہیں بلکہ اس کے مؤثر استعمال کو سیکھنا بھی نہایت ضروری ہے۔ لٹریری سوسائٹی کے سکریٹری شاہان عثمانی نے پروگرام کے انعقاد میں نمایاں کردار ادا کیا۔

---------------

ہندوستان سماچار / سید کامران علی گڑھ


 rajesh pande