کسانوں کے مفادات سب سے اوپر، ٹریڈ ڈیل سے ہندوستانی زرعی مصنوعات کو کوئی نقصان نہیں: شیوراج سنگھ
بھوپال، 08 فروری (ہ س)۔ مرکزی وزیر زراعت شیوراج سنگھ چوہان نے ہندوستان اور امریکہ کے درمیان ہوئی عبوری تجارتی ڈیل کو تاریخی بتایا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ڈیل پوری دنیا کو یہ پیغام دیتی ہے کہ ہندوستان کی پالیسی سمجھوتہ کرنے کی ہے، سمجھوتے میں جھکنے
بھوپال میں اپنی رہائش گاہ پر پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی وزیر زراعت شیوراج سنگھ۔


بھوپال، 08 فروری (ہ س)۔

مرکزی وزیر زراعت شیوراج سنگھ چوہان نے ہندوستان اور امریکہ کے درمیان ہوئی عبوری تجارتی ڈیل کو تاریخی بتایا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ڈیل پوری دنیا کو یہ پیغام دیتی ہے کہ ہندوستان کی پالیسی سمجھوتہ کرنے کی ہے، سمجھوتے میں جھکنے کی نہیں۔ اس معاہدے میں ایسی کوئی بھی مصنوعات شامل نہیں ہے، جس سے ہندوستانی کسانوں کو نقصان پہنچے۔ کسانوں کے مفادات سب سے اوپر ہیں، ان پر کوئی آنچ نہیں آنے دی جائے گی۔

مرکزی وزیر زراعت چوہان اتوار کو اپنی بھوپال واقع رہائش گاہ پر ہندوستان اور امریکہ کے درمیان ہوئی عبوری تجارتی ڈیل کو لے کر پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ متوازن حکمت عملی اپنا کر مثبت بات چیت کرتے ہوئے یہ ٹریڈ ڈیل کی گئی ہے۔ ڈپلومیسی یعنی ’راشٹر پہلے‘، ڈیولپمنٹ یعنی ترقی یافتہ ہندوستان کی سمت میں ہندوستانی قدم بڑھانے کے لیے ٹریڈ ڈیل بڑی بنیاد ہے۔ ہندوستانی زراعت اور کسان کی ساری تشویشات کا حل اس ٹریڈ ڈیل میں کیا گیا ہے۔ یہ ڈیل ہماری زرعی مصنوعات کو نئے مواقع فراہم کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہندوستانی زراعت اور کسان کو سب سے اوپر رکھا گیا ہے۔ یو پی اے کی حکومت میں ہندوستانی زرعی معیشت 11ویں مقام پر تھی اور اب ہم تیسرے مقام پر پہنچنے کی جانب تیزی سے گامزن ہیں۔ ہماری وہ ساری زرعی مصنوعات، جو ہمارے کسانوں کی اصل طاقت ہیں، ان سب کو اس معاہدے سے باہر رکھا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور امریکہ کے درمیان ہوئی ٹریڈ ڈیل اپنے آپ میں تاریخی اور غیر معمولی ہے۔ یہ ہندوستانی معیشت کو نئی بلندیوں اور رفتار دینے والی ہے۔ یہ معاہدہ صرف تجارتی معاہدہ نہیں ہے، بلکہ ہندوستان کی بڑھتی عالمی ساکھ کی بھی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ٹریڈ ڈیل ڈپلومیسی، ڈیولپمنٹ اور ڈگنٹی کی ایک بہترین مثال ہے۔ یہ ٹریڈ ڈیل ہمارے کسانوں کو نہ صرف پوری طرح سے محفوظ رکھتی ہے، بلکہ ہماری زرعی مصنوعات کو نئے مواقع فراہم کرتی ہے۔

چوہان نے کہا کہ اگر زراعت اور زرعی مصنوعات کو دیکھیں، تو ہندوستانی کسانوں کو نقصان ہو، ایسی کوئی بھی مصنوعات شامل نہیں کی گئی ہے۔ سبھی ایسی اشیاء کو معاہدے کے باہر رکھا گیا ہے۔ سویابین، مکئی، چاول، گیہوں، چینی، موٹے اناج، پولٹری، ڈیری، کیلا، اسٹرابیری، چیری، کھٹے پھل، ہری مٹر، کابلی چنا، مونگ، تلہن، ایتھنول، تمباکو جیسی مصنوعات پر کوئی ٹیرف میں چھوٹ نہیں دی گئی ہے۔ سب سے زیادہ فکر اسی بات کی تھی کہ ہمارے اہم اناج محفوظ رہنے چاہئیں، وہ سب کے سب محفوظ رکھے گئے ہیں۔ اہم اناج، اہم پھل، ہماری ڈیری مصنوعات ان کے لیے کوئی دروازہ امریکہ کے لیے نہیں کھولا گیا ہے۔

مرکزی وزیر نے کہا کہ ہندوستانی کسانوں کی کئی زرعی مصنوعات کو امریکہ میں صفر ڈیوٹی پر برآمد کیا جائے گا، لیکن امریکی کسانوں کی زرعی مصنوعات کو ہندوستانی بازار میں یہ چھوٹ نہیں دی گئی ہے۔ ہندوستان کی زراعت اور ڈیری کے مفادات پوری طرح سے محفوظ ہیں۔ زرعی شعبے میں کئی مصنوعات پر جو ٹیرف تھا، اسے امریکہ نے 50 فیصد سے گھٹا کر صفر کیا ہے۔ ان میں مسالے اہم ہیں، ہمارے مسالوں کی بڑی مقدار میں برآمد ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ چائے، کافی، ناریل، ناریل کا تیل، سپاری، کاجو، نباتی موم، ایووکاڈو، کیلا، امرود، آم، کیوی، پپیتا، انناس، مشروم اور جو جیسے کچھ اناج بھی اس میں شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ڈبہ بند سبزیاں بھی ہندوستان نہیں آئیں گی۔ سال 25-2024 میں 4.45 بلین امریکی ڈالر تک پہنچنے کے ساتھ ہندوستان نے عالمی برآمد کنندہ کے طور پر اپنی مضبوط پوزیشن بنائے رکھی ہے اور ہماری مسالہ برآمدات میں 88 فیصد کا اضافہ ہوا ہے۔ اب ہمارے مسالوں کو بھی نیا بازار ملے گا۔ ہندوستان امریکہ سے کالی مرچ، لونگ، سوکھی ہری مرچ، دار چینی اور دیگر پاوڈر مسالے نہیں منگوائے گا۔ ہندوستانی کسانوں کی کئی زرعی مصنوعات کو امریکہ میں صفر ڈیوٹی پر برآمد کیا جائے گا، لیکن امریکی کسانوں کی زرعی پیداوار کو ہندوستانی بازار میں یہ چھوٹ نہیں ملی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہندوستانی زرعی بازار میں اگر ایسی کوئی مصنوعات آتی ہیں تو ان کو ٹیرف میں جانا پڑے گا۔ معاہدے سے ہندوستانی کسان، خواتین اور خاص کر نوجوانوں کے خوابوں کو اونچی اڑان بھرنے کے لیے نئے پنکھ ملے ہیں۔ 18 فیصد ٹیکسٹائل کی برآمدات کو ایک نئی رفتار اور سمت ملے گی اور ٹیکسٹائل کی برآمدات کا مطلب ہے کسانوں کو بھی فائدہ۔ خاص کر کپاس پیدا کرنے والے کسان، ٹیکسٹائل، جیمس اینڈ جیولری، آٹو کمپونینٹس انجینئرنگ گڈز اور ایم ایس ایم ای کو ڈھیر سارے بزنس کے نئے مواقع ملیں گے۔

مرکزی وزیر زراعت نے اس دوران ٹریڈ ڈیل پر سوال کھڑے کرنے والے لوگوں پر بھی پلٹ وار کیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور ہندوستان کے درمیان ہوئی ڈیل کے بعد اپوزیشن وینٹی لیٹر پر چلا گیا ہے۔ اپوزیشن کو خدشہ تھا کہ ڈیل کے بعد شور شرابہ کرنے کا موقع ملے گا، لیکن وزیر اعظم نریندر مودی کی دور اندیشی کے چلتے وہ وینٹی لیٹر پر ہیں۔

ہندوستھان سماچار

---------------

ہندوستان سماچار / انظر حسن


 rajesh pande