
روم،08فروری(ہ س)۔اٹلی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بورڈ آف پیس میں حصہ نہیں لے گا، اطالوی وزیرِ خارجہ انتونیو تاجانی نے ناقابلِ حل آئینی مسائل کا حوالہ دیتے ہفتے کے روز ہوئے یہ بات کہی۔تقریباً 19 ممالک نے بورڈ آف پیس کے اساسی منشور پر دستخط کیے ہیں۔تاہم اٹلی کا آئین ملک کو کسی ایک غیر ملکی رہنما کی سربراہی میں تنظیم میں شامل ہونے سے روکتا ہے۔وزیرِ اعظم اور ٹرمپ کی اتحادی جارجیا میلونی نے گذشتہ ماہ تنظیم میں شمولیت کے حوالے سے آئینی مسائل کا مشاہدہ کیا لیکن یہ تجویز بھی دی کہ ٹرمپ شاید نہ صرف اٹلی بلکہ دیگر یورپی ممالک کی بھی ضروریات پورا کرنے کے لیے فریم ورک دوبارہ ترتیب دے سکتے ہیں۔اس بات کا امکان مسترد کرنے کے لیے تاجانی ہفتے کے روز سامنے آئے۔انہوں نے اے این ایس اے نیوز ایجنسی کو بتایا، ہم بورڈ آف پیس میں حصہ نہیں لے سکتے کیونکہ اس حوالے سے ایک آئینی حد مقرر ہے۔میلان میں سرمائی اولمپکس میں امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو اور امریکی نائب صدر جے ڈی وینس سے ملاقات کے اگلے دن انہوں نے کہا، قانونی نکتہ نظر سے یہ ناقابلِ حل ہے۔اگرچہ بورڈ کا مقصد دراصل غزہ کی تعمیرِ نو کی نگرانی کرنا تھا لیکن منشور اس کے کردار کو فلسطینی سرزمین تک محدود نہیں کرتا اور بظاہر یہ اقوامِ متحدہ کا مقابلہ کرنا چاہتا ہے۔امریکہ کے اہم اتحادیوں بشمول فرانس اور برطانیہ نے شمولیت پر شبہات کا اظہار کیا ہے۔
ہندوستھان سماچار
ہندوستان سماچار / Mohammad Khan