کیا دہلی میں بھی ایپسٹین فائل جیسا مکروہ جرم جاری ہے؟: سوربھ بھاردواج
نئی دہلی، 5 فروری(ہ س )۔ عام آدمی پارٹی نے ملک کی راجدھانی دہلی میں محض 15 دنوں کے اندر 800 سے زائد افراد کے لاپتہ ہونے پر ایپسٹین فائل یا نٹھاری کانڈ جیسے سنگین جرائم کے خدشے کا اظہار کیا ہے۔ آپ دہلی کے ریاستی صدر سوربھ بھاردواج نے اندیشہ ظاہر ک
کیا دہلی میں بھی ایپسٹین فائل جیسا مکروہ جرم جاری ہے؟: سوربھ بھاردواج


نئی دہلی، 5 فروری(ہ س )۔

عام آدمی پارٹی نے ملک کی راجدھانی دہلی میں محض 15 دنوں کے اندر 800 سے زائد افراد کے لاپتہ ہونے پر ایپسٹین فائل یا نٹھاری کانڈ جیسے سنگین جرائم کے خدشے کا اظہار کیا ہے۔ آپ دہلی کے ریاستی صدر سوربھ بھاردواج نے اندیشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ کہیں دہلی میں بھی ایپسٹین فائل جیسا مکروہ عمل تو نہیں چل رہا؟ امریکہ جیسے ملک میں سامنے آنے والی ایپسٹین فائل نے یہ تشویش بڑھا دی ہے کہ دہلی میں لاپتہ ہونے والی ہماری معصوم بچیوں کے ساتھ کیا ہو رہا ہے؟ ایپسٹین فائل میں انکشاف ہوا ہے کہ نابالغ بچیوں کو ایک نجی جزیرے پر رکھا جاتا تھا اور ان کے ساتھ درندگی کی جاتی تھی۔مرکزی وزیرِ داخلہ امت شاہ کے ماتحت دہلی پولیس کی ناک کے نیچے لاپتہ ہونے والے 800 افراد میں اکثریت بچیوں کی ہے۔ آخر انہیں نیند کیسے آتی ہوگی؟جمعرات کو آپ ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سوربھ بھاردواج نے کہا کہ گزشتہ چند ہفتوں سے پوری دنیا میں ایک معاملے کو لے کر تشویش پائی جا رہی ہے۔ امریکہ کے ایک نہایت بااثر شخص سے وابستہ ایپسٹین فائلز میں بڑے بڑے نام سامنے آئے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ اس شخص نے اپنا ایک نجی جزیرہ خریدا ہوا تھا، جہاں امریکہ اور دیگر مقامات سے نابالغ لڑکیوں کو رکھا جاتا تھا۔ وہاں نامور اور بااثر افراد ان کم عمر لڑکیوں کا جنسی استحصال کرتے تھے۔ ان ننھی بچیوں کے ساتھ جو کچھ ہوتا تھا، اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ سوربھ بھاردواج نے کہا کہ جب دہلی میں لاپتہ ہونے والے افراد کی خبروں پر نظر ڈالی جاتی ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس سال جنوری میں صرف 15 دنوں کے اندر دہلی سے 800 سے زائد افراد غائب ہو گئے، جو ایک نہایت سنگین معاملہ ہے۔ ان لاپتہ افراد میں اکثریت لڑکیوں کی ہے، جن کی تعداد تقریباً 500 ہے۔ دہلی پولیس کی تمام تیاریوں کے باوجود 800 میں سے 572 افراد کا سراغ لگانے میں پولیس ناکام رہی ہے۔ ملک کی راجدھانی سے 572 افراد لاپتہ ہیں اور پولیس انہیں ڈھونڈ نہیں پا رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ سب اس وقت ہو رہا ہے جب دہلی کے اندر کوئی گلی یا محلہ ایسا نہیں جہاں سی سی ٹی وی کیمرے نصب نہ ہوں۔ دہلی کی ہر بڑی سڑک اور چوراہے پر تیز رفتار سی سی ٹی وی کیمرے لگے ہیں۔ جب دہلی کے چپے چپے پر سی سی ٹی وی موجود ہیں تو یہ ماننا مشکل ہے کہ 572 افراد کے بارے میں یہ تک معلوم نہ ہو کہ وہ کیسے غائب ہوئے اور کہاں چلے گئے؟ سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا یہ ممکن ہے، یا دہلی پولیس کسی بڑے سازش کے تحت خاموش رضامندی کے ساتھ بیٹھی ہوئی ہے؟ سوربھ بھاردواج نے کہا کہ جب اعداد و شمار کو مزید دیکھا گیا تو معلوم ہوا کہ جو 800 افراد لاپتہ ہوئے، ان میں سے 191 نابالغ تھے۔ ان میں سے 169 بچے کم عمر تھے۔ ان نوجوانوں میں صرف 31 لڑکے اور 138 لڑکیاں تھیں۔ دہلی میں یکم سے 15 جنوری کے درمیان محض 15 دنوں میں 138 نابالغ لڑکیاں لاپتہ ہو گئیں۔ ان میں سے اب تک 70 فیصد لڑکیوں کا کوئی سراغ نہیں مل سکا کہ وہ کہاں گئیں؟ انہوں نے کہا کہ اگر ایک مہینے میں یہ تعداد تقریباً 300 بنتی ہے تو 12 مہینوں میں یہ تعداد تقریباً 3,500 نابالغ لڑکیوں تک پہنچ جائے گی جن کے بارے میں دہلی پولیس کو معلوم ہی نہیں کہ وہ کہاں لاپتہ ہوئیں۔ ذرا اُن والدین کے بارے میں تصور کیجیے جن کی 12 تا 14 سال کی بچی غائب ہو جائے اور اس کا کوئی نام و نشان نہ ملے۔ یہ وہ معاملات ہیں جن کا کوئی سراغ نہیں، جبکہ دہلی پولیس صرف 30 فیصد معاملات میں ہی پتہ لگا پا رہی ہے، جو نہایت تشویشناک ہے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Md Owais Owais


 rajesh pande