بی جے پی حکومت کو ہائی کورٹ میں منہ کی کھانی پڑی، دہلی دیہات کو کچرے سے راحت ملی: سوربھ بھاردواج
نئی دہلی، 5 فروری(ہ س )۔ عام آدمی پارٹی نے دہلی دیہات کی غیر مجاز کالونیوں میں کچرا ڈالنے پر پابندی کے ہائی کورٹ کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ آپ کے دہلی ریاستی صدر سوربھ بھاردواج نے کہا کہ آخرکار بی جے پی حکومت کو ہائی کورٹ میں منہ کی کھانی پڑی۔ غ
بی جے پی حکومت کو ہائی کورٹ میں منہ کی کھانی پڑی، دہلی دیہات کو کچرے سے راحت ملی: سوربھ بھاردواج


نئی دہلی، 5 فروری(ہ س )۔

عام آدمی پارٹی نے دہلی دیہات کی غیر مجاز کالونیوں میں کچرا ڈالنے پر پابندی کے ہائی کورٹ کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ آپ کے دہلی ریاستی صدر سوربھ بھاردواج نے کہا کہ آخرکار بی جے پی حکومت کو ہائی کورٹ میں منہ کی کھانی پڑی۔ غیر مجاز کالونیوں میں کچرا ڈالنے پر روک لگا کر عدالت نے دہلی دیہات کے عوام کو کچرے سے بڑی راحت دی ہے۔ کیراڑی کی شرما کالونی کے عوام کی جانب سے دائر عوامی مفاد کی عرضی پر دہلی ہائی کورٹ نے صاف طور پر کہا ہے کہ غیر مجاز کالونی میں بھی کچرا نہیں ڈالا جا سکتا۔ ہائی کورٹ میں ریکھا گپتا حکومت کا کچرے کے پہاڑ کم کرنے کا ڈھونگ بے نقاب ہو گیا۔ سوربھ بھاردواج نے ایکس (X) پر کہا کہ دہلی ہائی کورٹ نے واضح طور پر کہا ہے، غیر مجاز کالونی میں بھی کچرا نہیں ڈالا جا سکتا۔ کچی کالونیوں اور دہلی دیہات کے علاقوں میں بی جے پی اور ایم سی ڈی کی ملی بھگت سے ہزاروں ٹرک کچرا ڈالا جا رہا ہے۔ اس کے خلاف آواز اٹھانے کے باوجود دہلی کی بی جے پی حکومت خاموش بیٹھی رہی۔ آخرکار عوام کو خود ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑا۔ ریکھا گپتا حکومت عوام کے ساتھ دھوکہ کر رہی ہے۔ کچرے کے پہاڑ کم کرنے کا ناٹک پکڑا گیا ہے۔ بی جے پی حکومت غریب لوگوں کو بیماری کی دلدل میں دھکیل کر جھوٹی واہ واہی لوٹنا چاہتی ہے۔ قابلِ ذکر ہے کہ عام آدمی پارٹی نے کیراڑی کی شرما کالونی میں ڈی ڈی اے کی زمین پر ایم سی ڈی کی جانب سے کچرا ڈالے جانے سے پیدا ہونے والے پانی کے بھرا (جل بھرا ) کے مسئلے کو شروع سے اٹھایا ہے۔ کیراڑی اسمبلی حلقہ کے علاوہ دہلی دیہات میں بھی ڈی ڈی اے کی زمین پر بھلسوا لینڈفل سائٹ کا کچرا ڈالنے کی سخت مخالفت کی گئی ہے۔ گزشتہ 27 جنوری کو سوربھ بھاردواج نے شرما کالونی کا دورہ بھی کیا تھا۔ اس دوران انہوں نے کہا تھا کہ بی جے پی حکومت کیراڑی میں کچرے کا نیا پہاڑ بنا کر زیرِ زمین پانی کو آلودہ کر رہی ہے۔ بھلسوا کا کچرا کیراڑی کے کئی علاقوں میں ڈی ڈی اے کی زمین پر ڈالا جا رہا ہے۔سوربھ بھاردواج نے کہا تھا کہ پورے علاقے میں سڑک سے بھی چار فٹ اونچی تہہ بچھا دی گئی ہے۔ یہ سب صرف بھلسوا کے کچرے کے پہاڑ کو کم کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔ پلاسٹک اور کیمیکل سے بھرپور یہ کچرا آہستہ آہستہ کیراڑی کے پورے علاقے کی زمین، ہوا اور زیرِ زمین پانی کو شدید طور پر آلودہ کر رہا ہے۔ یہ کچرا ٹیوب ویل کے پانی کو زہر جیسا بنانے کے لیے کافی ہے۔ اس سے پورا علاقہ بیماریوں کی زد میں آ رہا ہے، جس کے مضر اثرات لوگوں کو کئی برسوں تک بھگتنا پڑیں گے۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Md Owais Owais


 rajesh pande