لیبیا کے سابق حکمراں قذافی کے بیٹےکا زنتان میں گولی مار کر قتل
طرابلس (لیبیا)، 4 فروری (ہ س)۔ لیبیا کے سابق تاناشاہ کرنل معمر قذافی کے بیٹے 53 سالہ سیف الاسلام قذافی کو زنتان شہر میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ قذافی کے مشیر عبداللہ عثمان عبدالرحیم نے منگل کو یہ معلومات دی، تاہم سیف کے رشتہ داروں نے ان کی موت
Libya-Gaddafi-son-murder


طرابلس (لیبیا)، 4 فروری (ہ س)۔ لیبیا کے سابق تاناشاہ کرنل معمر قذافی کے بیٹے 53 سالہ سیف الاسلام قذافی کو زنتان شہر میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ قذافی کے مشیر عبداللہ عثمان عبدالرحیم نے منگل کو یہ معلومات دی، تاہم سیف کے رشتہ داروں نے ان کی موت کے بارے میں کوئی تفصیلات نہیں بتائیں۔

لیبیا پر تقریباً 42 سال تک حکمرانی کرنے والے کرنل قذافی کے بیٹے کی موت کی خبر پیرس سے نشر ہونے والے نیوز چینل فرانس 24 کی ایک رپورٹ میں تفصیل سے زیر بحث آئی ہے۔فرانس 24 کے مطابق ،اپنے چچازاد بھائی کی موت سے دلبرداشتہ حامد قذافی نے لیبیا کے نیوز نیٹ ورک چینل الاحرار کو بتایا کہ ”سیف الاسلام شہید ہو گئے ہیں۔ خاندان کے پاس اس کے علاوہ مزید کوئی معلومات نہیں ہے“۔

سیف کے مشیر عبدالرحیم نے سوشل میڈیا پوسٹ میں ان کی موت کی تصدیق کی۔ انھوں نے الاحرار ٹی وی چینل کو بتایا کہ چار نامعلوم مسلح افراد سیف الاسلام کے گھر میں داخل ہوئے۔ اس کے بعد نگرانی کرنے والے کیمرے بند کر دیے اور پھر سیف الاسلام قذافی کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔ الاحرار نے ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ان کا انتقال شمال مغربی لیبیا کے شہر زنتان میں ہوا۔ تاہم، ان کے ٹھکانے کے بارے میں طویل عرصے سے کسی کو علم نہیں تھا۔

سیف الاسلام کو ان کے والد کا جانشین سمجھا جاتا تھا۔ 2021 میں، انہوں نے صدر کے لیے انتخاب لڑنے کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد انتخابات غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیے گئے۔ تاہم،ان کے والد کے دور میں شمالی افریقی ملک میں ان کے پاس کوئی سرکاری عہدہ نہیں تھا۔ انہوں نے 2011 کی بہار عرب کی بغاوتوں سے پہلے اپنی ایک معتدل امیج بنائی۔ لیکن جب انہوں نے بغاوت کو کچلنے کے لیے خون کی ندیاں بہانے کا اعلان کیا تو ان کی یہ شبیہ خراب ہو گئی ۔

سیف کو بین الاقوامی فوجداری عدالت کے وارنٹ کے بعد نومبر 2011 میں جنوبی لیبیا سے گرفتار کیا گیا تھا۔ انہیں 2015 میں موت کی سزا سنائی گئی تھی۔ملک گیر احتجاج کے بعد انہیں معافی دے دی گئی تھی۔ لیبیا کے مبصر عماد الدین بدی نے کہا کہ سیف الاسلام کی موت کو آبادی کا ایک بڑا طبقہ ایک شہید کے طور پر دیکھے گا اور صدارتی انتخابات کی حرکیات کو بھی بدل دے گا۔ بدی نے ایکس پر لکھا”ان کی امیدواری اور ممکنہ کامیابی اس قتل کی وجہ ہو سکتی ہے۔“

کرنل قذافی کے آخری ترجمان موسیٰ ابراہیم نے بھی سوشل میڈیا پر پوسٹ کیا”انہوں نے اسے دھوکے سے مار ڈالا۔ وہ ایک متحد، خودمختار لیبیا چاہتا تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ سب محفوظ رہیں۔“

کرنل قذافی سب سے طویل عرصے تک حکمرانی کرنے والے آمر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔سیف الاسلام کے فرانسیسی وکیل مارسل سیکالڈی نے ایک خبر رساں ادارے کو بتایا کہ لیبیا کے شمال مغربی علاقے زنتان میں ان کے گھر پر حملہ کیا گیا۔ چار کمانڈوز نے سیف کو زنتان میں ان کے گھر پر قتل کیا۔ سیکالڈی نے کہا کہ سیف الاسلام کے قریبی ساتھی نے انہیں چند روز قبل اطلاع دی تھی کہ سیکورٹی خدشات ہیں۔

انہوں نے کہا کہ قبائلی سردار نے سیف کو فون کیا تھا اور کہا تھا کہ میں تمہاری حفاظت کے لیے لوگوں کو بھیجوں گا لیکن سیف نے منع کر دیا تھا۔ وکیل سیکالڈی نے کہا کہ وہ کبھی ایک جگہ نہیں ٹھہرتے تھے۔ وہ اپنی جگہ بدلتے رہتے تھے۔ قابل ذکر ہے کہ لیبیا 2011 میں نارتھ اٹلانٹک ٹریٹی آرگنائزیشن (نیٹو) کی جانب سے بغاوت کی حمایت کے بعد پیدا ہونے والے افراتفری سے نکلنے کی جدوجہد کر رہا ہے۔اس بغاوت کے دوران ڈکٹیٹر قذافی کو اقتدار چھوڑنا پڑا تھا۔

لیبیا اب بھی طرابلس میں اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ حکومت اور2017 سے لیبیا کی نیشنل آرمی کی قیادت کر رہے خلیفہ حفتر کی حمایت یافتہ مشرقی انتظامیہ کے درمیان منقسم ہے۔ قذافی کے زوال کے بعد حفتر ایک طاقتور فوجی آمر کے طور پر ابھرے ہیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / محمد شہزاد


 rajesh pande