بلوچ لبریشن آرمی نے پاکستانی فوج کے کئی کیمپوں پرکیا قبضہ ۔
کوئٹہ (بلوچستان)4 فروری (ہ س)۔ بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے جنگجوو¿ں نے پاکستان کے شورش زدہ صوبہ بلوچستان میں شدید لڑائی کے دوران پاکستانی فوج کے کئی کیمپوں اور چوکیوں پر قبضہ کر لیا ہے۔ دریں اثنا، بی ایل اے کی جانب سے 31 جنوری کو شروع کیے گئے
بلوچ


کوئٹہ (بلوچستان)4 فروری (ہ س)۔ بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کے جنگجوو¿ں نے پاکستان کے شورش زدہ صوبہ بلوچستان میں شدید لڑائی کے دوران پاکستانی فوج کے کئی کیمپوں اور چوکیوں پر قبضہ کر لیا ہے۔ دریں اثنا، بی ایل اے کی جانب سے 31 جنوری کو شروع کیے گئے آپریشن ہیرو کے پیش نظر صوبے میں مواصلاتی خدمات مکمل طور پر درہم برہم ہیں۔ حکومت نے ریل اور بس سروس بھی معطل کر دی ہے۔

دی بلوچستان پوسٹ نے اطلاع دی ہے کہ بلوچستان لبریشن آرمی نے آج ضلع نوشکی کے علاقے احمدوال میں پاکستانی فوج کے کیمپ سمیت کئی چوکیوں پر قبضہ کر لیا۔ احمدوال نوشکی شہر سے 20 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ انہوں نے نوشکی سے 34 کلومیٹر دور گلگور میں پاکستانی فوج کی ایک چوکی کا کنٹرول بھی سنبھال لیا۔ بی ایل اے کے جنگجوو¿ں نے فوج کا تمام اسلحہ اور گولہ بارود قبضے میں لے لیا۔

بی ایل اے نے نوشکی سمیت 12 قصبوں میں پاکستانی فوج کے کیمپوں اور چوکیوں پر بیک وقت حملے کیے ہیں۔ نوشکی کے نواح میں بی ایل اے اور فوج کے درمیان فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے۔ پاکستان ریلوے نے کوئٹہ سے چمن تک ڈومیسٹک ٹرین سروس معطل کرنے کا اعلان کیا ہے۔ محکمہ نے کہا ہے کہ کراچی سے کوئٹہ تک بولان میل سروس 12 فروری تک معطل رہے گی۔ریلوے حکام کے مطابق بلوچستان سے اندور ملک اور چمن تک ٹرین سروس معطل ہونے سے محکمہ کو 30 لاکھ روپے سے زائد کا نقصان ہوا ہے۔

ادھر پنجاب کو بلوچستان سے ملانے والی ڈی آئی خان لورالائی قومی شاہراہ اور کوئٹہ سے تفتان تک قومی شاہراہ بھی پانچ روز سے بند ہے۔ ایک اور رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ارکان نے منگل کو بلوچستان میں حالیہ حملوں کی شدید مذمت کی اور زور دیا کہ دہشت گردی کے ان گھناو¿نے واقعات کے مرتکب، منصوبہ ساز، مالی معاونت کرنے والوں اور سرپرستوں کا احتساب کیا جائے اور انہیں انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔

---------------

ہندوستان سماچار / عبدالسلام صدیقی


 rajesh pande