جامعہ ملیہ اسلامیہ کا41واں آٹھ روزہ آن لائن این ای پی دوہزار بیس اورینٹیشن اور حساسیت بخشی پروگرام اختتام پذیر
نئی دہلی،03فروری(ہ س)۔ مالویہ مشن ٹیچر ٹریننگ سینٹر(ایم ایم ٹی ٹی سی) جامعہ ملیہ اسلامیہ کا بیس تا انتیس جنوری دوہزار چھبیس کے درمیان منعقدہ اکتالیسواں آٹھ روزہ آن لائن قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی) دوہزار بیس اورینٹیشن اور حساسیت بخشی پروگرام کا
جامعہ ملیہ اسلامیہ کا41واں آٹھ روزہ آن لائن این ای پی دوہزار بیس اورینٹیشن اور حساسیت بخشی پروگرام اختتام پذیر


نئی دہلی،03فروری(ہ س)۔

مالویہ مشن ٹیچر ٹریننگ سینٹر(ایم ایم ٹی ٹی سی) جامعہ ملیہ اسلامیہ کا بیس تا انتیس جنوری دوہزار چھبیس کے درمیان منعقدہ اکتالیسواں آٹھ روزہ آن لائن قومی تعلیمی پالیسی (این ای پی) دوہزار بیس اورینٹیشن اور حساسیت بخشی پروگرام کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔پروگرام میں بائیس صوبوں کے مرکزی،ریاستی،ڈیمڈ اور پرائیوٹ یونیورسٹیو ں اور کالجوں کے سترہ علوم وفنون سے وابستہ ایک سو چودہ فیکلٹی اراکین اور رسر چ اسکالر ایک ساتھ ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوئے۔رخ سازتربیتی پروگرام میں قومی تعلیمی پالیسی دوہزار بیس کی عمل آوری سے متعلق تدابیر، فریم ورک اور وڑن کے ساتھ بھرپور روشناسی ہوئی۔

پروفیسر مظہر آصف،شیخ الجامعہ،جامعہ ملیہ اسلامیہ(سرپرست اعلی) اور پروفیسر محمد مہتاب عالم رضوی، مسجل،جامعہ ملیہ اسلامیہ (سرپرست)کی قیادت وسرپرستی میں جامعہ کے مالویہ مشن ٹیچر ٹریننگ سینٹر(ایم ایم ٹی ٹی سی)کے زیر اہتمام جس کی اعزازی ڈائریکٹر پروفیسر کلوندر کور ہیں اس پروگرام کا انعقاد ہوا تھا۔ڈاکٹر کرشنا سنکار کوسوم،اے۔جے۔کے ماس کمیو نی کیشن رسرچ سینٹر،جامعہ ملیہ اسلامیہ پروگرام کے کوآرڈی نیٹر تھے۔

این ای پی دوہزار بیس کی رمز کشائی اور ہندوستان کو ایک علم معاشرہ کی صورت دینے کی انقلاب آفریں قوت سے متعلق اجلاس کے ساتھ پروگرام کا آغاز ہوا۔پروفیسر سی۔بی۔شرما نے تعلیمی پالیسیوں کے تاریخی ارتقا کو اجاگر کیا اور کثیرلسانی تعلیم،اساتذہ کی تربیت اور نصاب کی تجدید کو اصلاح کے اہم پہلو بتایا۔بعد میں شرکائے اجلاس نے اعلی تعلیمی اداروں،جامع اور کثیر علومی آموزش،نتائج پر مبنی تعلیم اور ہندوستانی علوم نظام (آئی کے ایس) کی تعلیم کے اصل دھارے میں شمولیت پر اظہار خیال کیا۔پروفیسر اے۔رویندرناتھ،وائس چانسلر، سینٹرل یونیورسٹی آف کشمیر نے ڈگری کے لیے لچک دار نظام، تحقیق کے لیے سازگار ماحول اور ادارہ جاتی ترقی کی اہمیت و وقعت کونشان زد کیا۔پروگرام میں ڈیجیٹل فن تدریس اور اے آئی سے ہونے والی مخلوط آموزش کے موضوع پر، پروفیسر کے سری نواس کی پرمغز گفتگو ہوئی۔انہوں نے شرکا کو دوران گفتگو تجرباتی آموزش ماڈل دکھائے اور انہیں مواد کی تیاری،جائزے اور انفرادی آموزش کے لیے تعلیمی ٹکنالوجی کا استعمال بھی بتایا۔ڈاکٹر اسٹیوین راج نے اعلی تعلیم کی عالم گیریت اور بین الاقوامیت کے پہلو پر بات کی جس میں انہوں نے طلبہ کی حرکت پذیری،رسمی منظوری،بین الاقوامی اشتراکات اور تعلیم کے سلسلے میں عالمی ساجھے داری میں ہندوستان کے بڑھتے رول کو اجاگر کیا۔تنوع، شمولیت اور مساوات کے موضوع پر پروفیسر ارشد کا خطاب ہوا جس میں انہوں نے اعلی تعلیمی اداروں میں رسائی، طلبہ کے تنوع، المنائی برادری کے ساتھ ربط ضبط اور پائے دار ترقی اہداف کی مطابقت سے متعلق چیلنجز پر اظہار خیال کیا۔ پروفیسر محمد شہیر صدیقی نے ہندوستانی علوم نظام سے متعلق تفصیلی جائزہ پیش کیا اور مذہبی حدود سے بالا تر ہوکر کثیر علومی اور شمولیتی کردار پر زور کے ساتھ معاصر نصاب میں ان کی بامعنی شمولیت کی وکالت کی۔قومی تعلیمی پالیسی دوہزار بیس کے تحت نصاب کی تیاری اور جائزے کا خاکہ کے موضوع کو پروفیسر رام پانڈے نے انڈر گریجویٹ پروگرام کی ساخت، کثیر علومی آپشنز اور تعین قدر کی تدابیر سے متعلق مختلف پہلوو¿ں پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ڈاکٹر پرگتی پال نے صنعت سے رابطہ اور طلبہ کے پلیسمنٹ کو وضاحت سے پیش کیا جس میں انہوں نے ملازمت پانے کے لیے اہل ہونا،ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے توسط سے تعمیر ادراک اور منصوبہ بند پلیسمنٹ میکانزم کی اہمیت جیسے اہم ذیلی موضوعات کو واضح کیا۔

اعلی تعلیمی اداروں میں ٹکنالوجی کی راہ سے آنے والے انقلاب نے اہم موضوع سجھایاہے۔ پروفیسر قاسم نے تعلیم کی ترویج و اشاعت میں آئی سی ٹیز، موکس،ورچوئل لیبس اوراے آئی کے موضوعات پر بات کی جب کہ پروفیسر مذکر نے ادارہ جاتی خود مختاریت، سویم، اکیڈمک بینک آف کریڈٹس (اے بی سی) اور اختیار پر مبنی لرننگ پر روشنی ڈالتے ہوئے آموزگار مرکوز طریقوں اورملازمت کے قابل بنانے کے امکانات کو مزید بہتر کرنے پر زور دیا۔پروفیسر جیوتی شرما نے سماجی انقلاب میں اعلی تعلیمی اداروں کے رول کا جائزہ لیا اور پروجیکٹ پر مبنی آموزشی ماڈل کی پیش کش اور کمیونی ٹی مرکوز تعلیمی طریقوں سے متعلق بات کی۔پروفیسر رابندر ناتھ نے این ای پی دوہزار بیس کے تحت ہنر کے فروغ پر توجہ مرکوز کرنے کے ساتھ صنعت اور علمی اکائیوں کی مطابقت، ووکیشنل تعلیم اور نوجوانوں کو قابل ملازمت بنانے کو مضبوط کرنے کے لیے اسکل انڈیا جیسے قومی اقدامات پر زور دیا۔

پروفیسر رویندر کمار ویمولا نے تحقیق و علمی تحریر کے موضوع پر اظہار خیال کای۔اپنی تقریر میں انہوں نے مشاہدے اورعملی تجربات پر مبنی تحقیق،بین علومی اشتراک،تحقیق میں اخلاقیات اور پبلی کیشن کی اثر پذیری کو بہتر کرنے کی تدابیر پر زور دیا۔ڈاکٹر سمیر کی شمولیتی فن تدریس،ریزویشن ماڈل،تعمیراتی آموزش اور ٹکنالوجی کی ذمہ دارانہ شمولیت پر اظہار خیال اور مساوات پر مبنی تدریسی عمل اور ادارہ جاتی رسائیت کی وکالت کے ساتھ اکیڈمک اجلاس کا اختتام ہوا۔پروگرام کے اخیر دن پروفیسر ربندرا نے کثیر علومی ٹرانزیشن، سہولیات میں فرق،دماغی صحت کی تشویشات اور یونیورسٹیوں میں فنڈ کی صورت حال سمیت این ای پی دوہزار بیس پر عمل آوری کی راہ میں حائل بڑے چیلنجیز کا جائزہ پیش کیا۔پروفیسر سری نیواس نے اعلی تعلیمی اداروں میں مالیات کی شمولیت سے متعلق اعداد و شمار پیش کرکے بصیرت میں اضافہ کیا۔ نیز انہوں نے اندراج کے رجحانات، حاشیائی آبادی کے آموزگاروں کے لیے اسکالرشپ امداد اور تعلیم کے شعبے میں گھٹتے بجٹ کے موضوع کو بھی اجاگر کیا۔ڈائریکٹر ایم ایم ٹی ٹی سی اور کوآرڈی نیٹر پروفیسر کوسم کے ساتھ پروگرام کے سلسلے میں تاثرات کے اظہار پر پروگرام کا اختتام ہوا۔شرکا نے پروگرام میں پیش کیے گئے موضوعات کو پسند کیا اور اس کے موثر انعقاد کی تعریف کی۔ آٹھ روزہ رخ ساز پروگرام نے پالیسی،فن تدریس، ٹکنالوجی، شمولیت،تحقیق اور ہنر کے سلسلے میں بامعنی مذاکرات کو فروغ دیا اور تدریس، اختراعیت اور ادارہ جاتی انقلاب میں افضلیت کی مدد سے این ای پی دوہزار بیس کے اہداف کو آگے بڑھانے کے تئیں اجتماعی عہد کی توثیق کی۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Md Owais Owais


 rajesh pande