مسلکی اختلافات سے بالاتر ہوکر ایک دوسرے کا احترام:مولانا ارشد سراج مکی
مجلس العلماءحلقہ دہلی کے زیر اہتمام علمائے کرام وائمہ مساجد کا اجتماعنئی دہلی،03فروری(ہ س)۔ مجلس العلماءدہلی کے زیر اہتمام مسجد اقرا،دیپ انکلیو، وکاس نگر، مغربی دہلی میں ”اسلامی معاشرہ کی تعمیر میں علمائے کرام کا کردار“ کے عنوان پرایک اجتماع مولا
مسلکی اختلافات سے بالاتر ہوکر ایک دوسرے کا احترام:مولانا ارشد سراج مکی


مجلس العلماءحلقہ دہلی کے زیر اہتمام علمائے کرام وائمہ مساجد کا اجتماعنئی دہلی،03فروری(ہ س)۔

مجلس العلماءدہلی کے زیر اہتمام مسجد اقرا،دیپ انکلیو، وکاس نگر، مغربی دہلی میں ”اسلامی معاشرہ کی تعمیر میں علمائے کرام کا کردار“ کے عنوان پرایک اجتماع مولانا ارشد سراج الدین مکی صاحب صدر مجلس العلمائ دہلی کی صدارت میں مقامی یونٹ وکاس نگر جماعت اسلامی ہند حلقہ دہلی کے زیرانتظام منعقد کیا گیا، جس میں50 علمائے کرام کی شرکت ہوئی۔ پروگرام کا آغازقاری عبدالمنان صاحب کی تلاوتِ قرآن مجید سے ہوا۔اس موقع پر مفتی محمد احمداللہ قاسمی جنرل سکریٹری مجلس العلمائ دہلی نے اپنے افتتاحی کلمات میں کہا کہ مسلکی اختلافات سے بالاتر ہوکر ایک دوسرے کا احترام کرتے ہوئے متحدہ فکر کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت ہے۔امربالمعروف اور نہی عن المنکر کے فریضہ کو منظم طور پر انجا م دیاجانا چاہیے ، اسی طرح مدارس اور مکاتب کا منظم نظم بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔نیز علاقے کے عام برادران وطن سے بھی ہمارا رابطہ ہونا چاہیے۔انھوں نے مختصراً مجلس العلمائ دہلی کا تعارف بھی پیش کیا۔اس کے بعد شرکائ کا باہمی تعارف ہوا۔

اس کے بعد ” اسلامی معاشرے کی تعمیر میں علمائے کرام کا کردار“ کے عنوان پر ایک مذاکرے کا اہتمام کیا گیا،جس میں متعدد علمائے کرام و ائمہ مساجد نے اظہار خیال کیا۔مولانا رضوان احمد قاسمی، مولانا حفظ الرحمن ، مولانا ہارون قاسمی، مولانا محمد اسرافیل، مولانا ریحان خالد فلاحی ، مولانا یحی ارسلانی قاسمی، مولانا نعیم ندوی، مولانا رمضان قاسمی،جناب محمد اسلم، مولانا اصغر علی، جناب کمال احمد اور جناب معزالدین نے اظہار خیال فرماتے ہوئے مشترکہ طور پر بچوں کی دینی تعلیم وتربیت پر زور دیا اور جز وقتی مکاتب کے قیام اور استفادے کی اہمیت واضح کی۔شرکائ نے آپسی اتحاد و اتفاق پر زور دیتے ہوئے فرمایا کہ ہماری وحدت کے لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے آپ کو کتاب و سنت سے مربوط کریں۔ دعوت واصلاح کے کاموں کی طرف بھی شرکائ نے توجہ دلائی۔ نیزمتعدد علمائے کرام کی جانب سے مساجد کو دینی خدمات کا مرکز بنانے طرف بھی توجہ دلائی گئی۔قاری انور ، مولانا سرتاج ،مولانا شوکت، مولانا احمد، مولانا حسن، حافظ نفیس، مولانا مجاہد ، مولانا عبد اللہ ، حافظ شبیر، قاری شکیل اور قاری شہباز وغیر ہ جیسے قابل ذکر علمائ بھی اس پروگرام میں شریک رہے۔مولانا ارشد سراج الدین مکی صاحب صدر مجلس العلمائ دہلی نے اپنے صدارتی خطاب میں شرکائ کے اظہار خیال کے مختلف پہلوو ¿ں کا احاطہ کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ علمائ انبیائ کے وارث ہیں،ہمیں وراثت میں اللہ کے دین کی دعوت اور اقامت کا فرض منصبی ملا ہے، اس کو ادا کرنا ہی ہماری ذمہ داری ہے۔ہم اپنے خطابات میں وحدت امت پر گفتگو کریں اور اس کا عملی نمونہ بھی پیش کریں۔ علمائ قرآن و سنت کی بنیاد پر دین کا صحیح تعارف کراتے ہوئے امت کو اس کی منصبی ذمہ داریوں کے لیے تیار کریں، علمائ اسلامی اخوت کا نمونہ پیش کریں اور اس کو فروغ دینے کے لیے مستحکم جدوجہد کریں۔جناب عمر دراز صاحب امیر مقامی وکاس نگر نے اپنے کلمات تشکر پیش کیے۔ عمر دراز صاحب اوروہاں کے مقامی رفقائ نے اس اجتماع کو کامیاب بنانے میںہر ممکن تعاون فراہم کیا۔ مولانا نعیم ندوی صاحب کی دعا پر پروگرام کا اختتام ہوا۔ نظامت کے فرائض مولانا یحی ارسلانی قاسمی صاحب نے انجام دیے۔ اس موقع پر شرکائ کودینی لٹریچر اور مجلس العلمائ دہلی کا تعارف پیش کیا گیا۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Md Owais Owais


 rajesh pande