جلسہ سیرت النبیﷺ اور دستار بندیِ حفاظِ کرام کا شاندار انعقاد
معہد علی بن ابی طالب لتحفیظ القرآن الکریم کا عظیم الشان پروگرام تاریخی کامیابی سے ہمکنار؛نئی دہلی،3فروری (ہ س)۔ جنوبی دہلی میں واقع معروف دینی دانشگاہ جامعہ ازہر ہندیہ اور معہد علی بن ابی طالب لتحفیظ القرا?ن الکریم کے زیرِ اہتمام منعقدتیسرا جلسہ?
جلسہ سیرت النبیﷺ اور دستار بندیِ حفاظِ کرام کا شاندار انعقاد


معہد علی بن ابی طالب لتحفیظ القرآن الکریم کا عظیم الشان پروگرام تاریخی کامیابی سے ہمکنار؛نئی دہلی،3فروری (ہ س)۔

جنوبی دہلی میں واقع معروف دینی دانشگاہ جامعہ ازہر ہندیہ اور معہد علی بن ابی طالب لتحفیظ القرا?ن الکریم کے زیرِ اہتمام منعقدتیسرا جلسہ? سیرت النبی ? اور نواں دستار بندیِ حفاظِ کرام نہایت کامیابی کے ساتھ منعقد ہوا، جس میں دہلی و بیرونِ دہلی کے متعدد علمائے کرام، سماجی شخصیات اور قرائے حضرات نے شرکت کی۔ یہ اجلاس ادارہ کے بانی اور مرکزی جمعیت اہلِ حدیث ہند کے امیر مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی کی زیرِ صدارت منعقد ہوا۔ اس میں جن اہم شخصیات نے شرکت فرمائی ان میں معروف عالمِ دین فضیل? الشیخ شیخ صلاح الدین مقبول احمد، مرکزی جمعیت اہلِ حدیث ہند کے ناظمِ عمومی مولانا محمد ہارون سنابلی، جلسہ کے مقررِ خصوصی مولانا محمد جرجیس سراجی صاحب، مرکزی جمعیت اہلِ حدیث کے نائب ناظم محمد یوسف، ماہنامہ اصلاحِ سماج کے ایڈیٹر حافظ محمد طاہر حنیف صاحب، شاہ ولی اللہ انسٹی ٹیوٹ کے صدر مفتی عطائ الرحمن قاسمی، مولانا محمد مستقیم سلفی، مولانا عبدالنور سلفی، ڈاکٹر محمد شیث ادریس تیمی، وطن سماچار کے ایڈیٹر محمد احمد، فیاض اللہ سلفی، ماس ہاسپٹل کے ماہر سرجن محمد اسعد، سلمان ساحل اور مولانا ندیم احمد سلفی شامل تھے، جو سب اہم اور قابلِ ذکر ہیں۔

اس موقع پر معہد علی بن ابی طالب لتحفیظ القرا?ن الکریم سے حفظِ قرا?ن مکمل کرنے والے حفاظِ کرام کی دستار بندی ملک کے مقتدر علمائے کرام، قرائے عظام اور حفاظ کے ہاتھوں عمل میں ا?ئی۔ پریس ریلیز کے مطابق رواں سال سولہ طلبہ نے حفظِ قرا?ن پاک مکمل کیا۔ معہد علی بن ابی طالب کے مدیر مولانا محمد اظہر مدنی نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ا?ج ہم حفاظِ کرام کی دستار بندی کر رہے ہیں اور اس موقع پر ہم اللہ جل شانہ? کے تئیں احساسِ شکر سے سرشار ہیں کہ گزشتہ سالوں کی طرح اس سال بھی ایک درجن سے زائد حفاظِ کرام نے اس ادارے سے حفظ مکمل کیا ہے، جو ادارے کی کارکردگی کو چار چاند لگاتا ہے اور اس بات کا ثبوت ہے کہ اس دانشگاہِ علم و فن میں بچوں کی درست سمت میں تربیت کی جا رہی ہے۔ جامعہ ابوبکر الصدیق الاسلامیہ کے ماتحت چلنے والے اس ادارے نے مختصر وقت میں ایک نمایاں مقام حاصل کیا ہے، جو دہلی کے احباب کے لیے خوش ا?ئند ہے، اور امید ہے کہ یہ دہلی میں موجود دیگر اداروں کے ساتھ مل کر اسلافِ کرام کے قائم کردہ دینی ادارہ مدرسہ دار الحدیث رحمانیہ دہلی کا خلا پ±ر کرے گا۔مولانا نے مزید کہا کہ یہ ادارہ ایک مثالی ادارہ ہے جہاں تعلیم کے ساتھ تربیت پر خصوصی زور دیا جاتا ہے، اور شعبہ? تحفیظ میں حفظِ قرا?ن کے ساتھ اردو، انگریزی اور حساب جیسے مضامین کی تعلیم بھی فراہم کی جاتی ہے تاکہ بچے حفظِ قرا?ن کریم کے بعد جب درسی تعلیم کی طرف بڑھیں تو انہیں کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

مہمانِ خصوصی فضیل? الشیخ صلاح الدین مقبول احمد صاحب نے طلبہ کی کارکردگی پر اپنے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اللہ کے فضل و کرم سے جیت پور میں ایک بڑا ادارہ قائم ہو چکا ہے، جہاں طلبہ مولانا اظہر مدنی کی نگرانی میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ یہ ہم سب کے لیے خوشی اور سعادت کا موقع ہے کہ ہم اس مبارک پروگرام میں شریک ہیں، جہاں حفاظِ کرام کی تکریم کی جا رہی ہے۔مولانا محمد مستقیم سلفی صاحب نے طلبہ کی کارکردگی پر اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مولانا اظہر مدنی کی کوششیں لائقِ ستائش ہیں۔ بچوں کا پروگرام نہایت شاندار رہا؛ محنت جاری رکھیں کیونکہ محنت ہی کامیابی کی ضمانت ہے۔مولانا منظور عالم عبدالمعبود سلفی، استاذ جامعہ ریاض العلوم دہلی، نے اپنے خطاب میں جامعہ و معہد کے بچوں کی کارکردگی کو سراہا اور کہا کہ بچوں نے نہایت عمدہ تقاریر پیش کی ہیں اور یقینا یہ ادارہ ایک عظیم کارنامہ انجام دے رہا ہے، جس پر مولانا اظہر مدنی مبارک باد کے مستحق ہیں۔مرکزی جمعیت اہلِ حدیث ہند کے ناظمِ عمومی مولانا محمد ہارون سنابلی نے کہا کہ شیخ اصغر علی امام مہدی سلفی نے اس ادارے کی داغ بیل ڈال کر عظیم احسان کیا ہے، اور مولانا اظہر مدنی اب اسے سینچ رہے ہیں اور اپنی محنتوں سے پروان چڑھا رہے ہیں۔ یقینا طلبہ کے ذریعہ پیش کی گئی تقاریر اور دیگر علمی پروگرام لائقِ تحسین ہیں۔مرکزی جمعیت اہلِ حدیث ہند کے نائب ناظم محمد یوسف نے کہا کہ معہد علی بن ابی طالب لتحفیظ القرا?ن الکریم سے ایک سال میں سولہ بچوں کا تکمیلِ قرا?ن اس بات کی دلیل ہے کہ مولانا محمد اظہر مدنی کی محنتیں ثمر ا?ور ہو رہی ہیں۔ جو بچے حفاظ کی سعادت حاصل کر رہے ہیں، ان پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ علم کے اصول و ا?داب کو ملحوظ رکھیں اور دعوت کے فریضے کو ہرگز نظر انداز نہ کریں۔مفتی عطائ الرحمن قاسمی، صدر شاہ ولی اللہ انسٹی ٹیوٹ نئی دہلی، نے ادارے سے حفظ مکمل کرنے والے بچوں کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ ا?پ لوگوں نے قرا?ن مجید کو اپنے سینوں میں محفوظ کیا ہے اور ا?ج ا?پ کی دستار بندی عمل میں ا? رہی ہے۔ یقینا والدین، قوم اور ادارے کے ذمہ داران سب کی ا?پ سے امیدیں وابستہ ہیں؛ ا?پ ان پر پورا اتریں اور عمل و کردار کے غازی بنیں تاکہ دنیا میں بھی باعزت زندگی گزاریں اور اللہ کے حضور بھی سرخرو ہوں۔ڈاکٹر محمد شیث ادریس تیمی نے اپنے تاثرات پیش کرتے ہوئے کہا کہ ادارے کے بانی مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی کا خلوص اور ان کے فرزندِ ارجمند مولانا محمد اظہر مدنی کی شبانہ روز محنتیں قابلِ ستائش ہیں۔ یہ کہنا بجا ہوگا کہ ادارے کے مدیر نے اپنے والدِ محترم سے قومی ہمدردی اور ملت کے بچوں کے تئیں خیر خواہی کا جذبہ سیکھا ہے اور اسی لگن و خلوص سے خدمات انجام دے رہے ہیں، جس کے لیے وہ صد مبارک باد کے مستحق ہیں۔

وطن سماچار کے ایڈیٹر محمد احمد سنابلی نے معہد علی بن ابی طالب لتحفیظ القرا?ن الکریم سے حفظ کرنے والے طلبہ کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ مولانا اظہر مدنی قوم و ملت کے تئیں مخلص اور نہایت فعال نوجوان ہیں، اور طلبہ کی کارکردگی اس بات کی غماز ہے کہ اساتذہ و مدرسین کی محنتیں بھی قابلِ قدر ہیں۔محمد احمد صاحب کا تعاون ہمیشہ ادارے کے ساتھ رہا ہے۔ وہ اقرا انٹرنیشنل اسکول کے صبح کے پروگرام میں بھی شریک رہے اور اپنے میڈیا سے وابستہ احباب کے ساتھ سرد رات میں منعقدہ جلسہ سیرت النبی میں بھی شرکت کی۔ مزید برا?ں، انہوں نے بعض اساتذہ، مثلاً سعیدالرحمن سنابلی، کی اپنی جانب سے شال پوشی بھی کرائی۔

طیب مسجد شاہین باغ کے امام حافظ و مفتی محمد ساجد میرٹھی صاحب نے مجمع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس عظیم اجلاس اور اس میں لوگوں کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ ادارہ اور اس کے ذمہ داران لوگوں کے دلوں میں بستے ہیں اور ایک نیک مشن سے وابستہ ہیں، اسی وجہ سے انہیں عوام کی بھرپور حمایت حاصل ہے۔ اللہ اس چمن کو یونہی شاد و آباد رکھے تاکہ قرا¿ن و سنت کی تعلیم عام ہو اور لوگ زیادہ سے زیادہ کتاب و سنت سے استفادہ کر سکیں۔اس اجلاس کے صدر حضرت مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی نے انتہائی پرسوز خطاب میں سیرت کی اہمیت و افادیت اور اسے قدوہ و نمونہ بنانے پر سیر حاصل گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ مولانا اظہر مدنی سلمہ نے یہ جو بزم آرائی کی ہے، وہ حفاظِ کرام کی تکریم کے لیے ہے، جنہوں نے اس کائنات کی سب سے عظیم کتاب کو اپنے سینوں میں محفوظ کیا ہے،وہ کتاب جسے اللہ جل شانہ نے افضل ترین نبی پر نازل فرمایا۔ یہ یقینا ایک نہایت مبارک موقع ہے۔

آپ نے مزید فرمایا کہ حقیقی سعادت و نیک بختی اسی میں ہے کہ انسان رسول اللہ کے اسوہ حسنہ کو اپنی زندگی میں نافذ کرے، کیونکہ جب انسان سیرت کو اپنی حیات کا حصہ بنا لیتا ہے تو وہ احترامِ انسانیت کا خوگر بن جاتا ہے، دوسروں کو برداشت کرتا ہے، امن و آشتی کا داعی بنتا ہے اور ہر طرح کے فتنوں اور شر انگیزیوں سے خود کو اور اپنے معاشرے کو محفوظ رکھتا ہے۔آپ نے حفظِ قرآن مکمل کرنے والے تمام حفاظ، ان کے اساتذہ و معلمین، مولانا اظہر مدنی اور ان کی ٹیم کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ نہایت عظیم الشان خدمت انجام دے رہے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس مشن کو تندہی اور خلوص کے ساتھ جاری رکھا جائے تاکہ دعوت کا فریضہ انجام پائے اور اللہ جل شانہ کی رضا و خوشنودی حاصل ہو۔سب سے آخر میں کلیدی خطاب مقررِ خصوصی مولانا محمد جرجیس سراجی کا ہوا۔ آپ نے ڈیڑھ گھنٹے تک سیرت کے مختلف پہلوو¿ں پر نہایت دلکش انداز میں تقریر کی، جسے سامعین نے ہمہ تن گوش ہوکر پوری انہماک سے سنا۔ دورانِ خطاب آپ نے ادارے کے بانی حضرت مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی کی قوم و ملت کے تئیں خدمات اور عظیم کارناموں کی بھرپور ستائش کی اور کہا کہ مولانا اظہر صاحب نے اس غیر ذی زرع علاقے میں اس ادارے کو قائم کرکے گویا جنگل میں منگل کا سماں پیدا کردیا ہے، جس پر وہ لائقِ مبارک باد ہیں۔اس اجلاس میں جامعہ ازہر ہندیہ اور معہد علی بن ابی طالب لتحفیظ القرا?ن الکریم کے رواں تعلیمی سال کے نتائج کا اعلان بھی کیا گیا، جس میں ممتاز طلبہ کو شیلڈ اور سرٹیفکیٹس سے نوازا گیا۔ شعبہ? عربی میں سراج الاسلام ا?سام، جنید احمد بہار اور ا?صف علی بہار، جبکہ شعبہ? تحفیظ میں منظر عبدالبصیر، افضل صدر عالم اور اشرف جمال کو بہترین کارکردگی اور نمایاں نمبرات حاصل کرنے پر شیلڈ اور سرٹیفکیٹس دیے گئے۔اس اجلاس میں تیسرا مسابقہ? تلاوتِ کلامِ پاک و حفظِ ادعیہ? ماثورہ کے نتائج کا اعلان بھی کیا گیا، جو 29? جنوری 2026 کو منعقد ہوا تھا۔ اس میں دہلی کے مختلف مکاتب، معاہد، عصری اسکولوں اور جامعات کے طلبہ و طالبات نے شرکت کی تھی۔ پوزیشن حاصل کرنے والے بچوں کو نقد انعامات، شیلڈز اور قیمتی کتابوں سے نوازا گیا۔ مدرسہ دعوت الحق جیت پور کے طالب علم نے پہلی پوزیشن حاصل کی، دوسری پوزیشن اقرا انٹرنیشنل اسکول کی طالبہ ادیبہ شاہین کے حصے میں ا?ئی، جبکہ تیسری پوزیشن دارارقم اکیڈمی جیت پور کے طالب علم عبد العظیم خان معین نے حاصل کی۔اس اجلاس کو کامیاب بنانے میں جن شخصیات نے اہم کردار ادا کیا، ان میں شمس الدین صاحب، ایاز تقی صاحب، قمرالزماں سلفی، شمس عالم سلفی، معین الدین عثمانی، محمد وسیم ریاضی، ارشاد احمد ریاضی، ذبیح اللہ ریاضی، علائ الدین انصاری، اسامہ خورشید سنابلی، عبدالحفیظ سنابلی، اسداللہ ریاضی، محمد نسیم فیضی، محمد ریاض سنابلی، عبدالمالک سنابلی ، بلال ندوی ، عبدالمبین بلڈراور سرور عالم وغیرہم شامل ہیں۔ ان حضرات کا تعاون قابلِ قدر رہا ہے اور وہ ہمیشہ ادارے کے ساتھ بھرپور تعاون کرتے رہتے ہیں۔

ہندوستھان سماچار

ہندوستان سماچار / Md Owais Owais


 rajesh pande